بزرگ شہریوں کادن 21/اگست ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔
بزرگ شہریوں کادن 21/اگست
ازقلم : محمدیوسف رحیم بیدری۔
بزرگ شہری وہ ہوتے ہیں جنہیں حکومت کی جانب سے کچھ رقم وقم دے کرگھر میں آرام کرنے کے لئے کہاجاتاہے(اور کچھ بزرگ اپنے حکمرانوں کی ا س شفقت سے محروم بھی رہتے ہیں) چند بزرگ وہ ہیں جن کی اولادیں ان کی پیرانہ سالی میں بھی ان سے کام کاج پر جانے کیلئے کہتی ہیں تاکہ ان کو اور ان کے بچوں (پوتوں پوتیوں) کو پالاپوساجاسکے۔ اتنا ہی نہیں ان گھروں میں ان کے ساتھ بدترین سلوک کیاجاتاہے۔ خوش نصیب ہیں وہ والدین جن کی اولادیں انھیں چاہتیں اور ان کااحترام کرتی ہیں۔ ان کی ضرورت کا ہر طرح خیال رکھتی ہیں بلکہ ایسے قابل احترام اولادوں کے بچے بھی اپنے دادا دادی کو چاہتے اوران کے ساتھ زندگی کرتے ہوئے ان کادِل بہلاتے اور انھیں مان دیتے ہیں،اپنی موجودگی سے ان کے جینے کوچار چاند لگادیتے ہیں۔
اوربدبخت ہیں وہ جنہوں نے اپنے بزرگ والدین، بزرگ رشتہ دار اور بزرگ پڑوسیوں کاخیال نہیں رکھا، ان کے دکھ سکھ میں کام نہیں آئے۔ہمارے معاشرے میں پھل پھول رہی اولڈ ایج ہوم کی لعنت اولادوں سے پوچھتی ہے کہ تم انسان بھی ہو؟ ساتھ ہی انتباہ بھی دیاجاتاہے کہ ”کل تمہاری باری ہے“ جو بوؤگے وہی کاٹوگے اور اسی اولڈ ایج ہوم میں تمہارا لرزتاکانپتا بوڑھا جسم بھی کل کلاں کو اپنوں کے لئے تڑپتاہوازمانے کوملے گا۔
تمام دنیا میں اس بات پر تشویش کا اظہا رکیاجارہاہے کہ دنیا کی آبادی کم ہورہی ہے اور بزرگ شہریوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ جو تناسب نوجوانوں اور بزرگوں میں ہونا چاہیے وہ خطرناک حدتک متوازن کھوچکاہے۔اورنوجوانوں کی آسائش کی طلب کی وجہ سے نئی نسل بھی دنیا میں مطلوبہ مقدار میں نہیں ”آ“رہی ہے۔ یہ باتیں آج ”بزرگ شہریوں کے دن“World Senior Citizens Day - 21/اگست 2026ء کے موقع پر یاد آرہی ہیں۔ اور سبھی کو یاد دلانابھی مقصود تھا۔
بہر حال اس صورتحال کاذکر یہی چھوڑ کر شاعری کی طرف آتے ہیں۔ بزرگی، پیرانہ سالی، اوراپنی جوانی کویادکرتے ہوئے اردو شعرائے کرام نے جوکچھ کہاہے، اس کوپڑھتے ہیں اور زندگی کو باخبر بناتے ہیں کہ اے زندگی، تم بوڑھی ہونے جارہی ہو، تمہاریساتھ ماضی میں کیاکچھ ہوااور مستقبل میں کیاہوگااس کے لئے تیار رہنا۔ہر نوجوان اپنی اپنی زندگی کویہ سمجھایاجائے کہ تیار ی ضروری ہے کیوں کہ اب تیری باری ہے۔ حضرت عبد الغفور نساخ ؔکہتے ہیں ؎
پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا
وہ دل نہیں رہا وہ زمانہ نہیں رہا
پیری یعنی بڑھاپا جب آتاہے تو سب کچھ بدل جاتاہے۔ شوق پرانے نہیں رہتے۔ یاد تو رہتے ہیں،(دل بھی بہت کرتاہے) لیکن ان شوق کو پورا کرنے کاحوصلہ نہیں رہتا۔اسی طرح دل کی حالت بدلی ہوئی ہوتی ہے اور زمانہ بھی کہاں سے کہاں نکل جاتاہے۔ ڈھلتے سورج کانوحہ کون لکھے یااس سورج کی واپسی کاتقاضہ کون کرے؟ایسی ہی باتوں کوعبدالغفور نساخ ؔ نے اپنے شعر میں درج کیاہوگا۔ منیر نیازی کاکہناہے ؎
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
منیرنیازی نے بھی ”پہلے زمانے“ کی بات کی ہے۔ خود کو حیران کرنے والی کمزور ی سے انسان بچ نہیں سکتا۔ وقت سے پہلے اپنے بڑھاپے کو سمجھنے کی کوشش عام لوگ ہی نہیں شاعر بھی نہیں کرتے۔ عبد الحمید عدم ؔ کہہ رہے ہیں ؎
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا میکدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
وہ جو میکدہ (پینے پلانے) کاتھا، اس کو اٹھا کر لا، یہ بات تو سامنے کی ہے۔ کہایہ جارہاہے کہ جس میکدے (کھیل کود، دھونس دھمکی، راجا کی طرح رہنا،یاآزاد رہنا، لاپروائی لازم، اس کے علاوہ پیسہ، وقت اور عمر کو بے دریغ خرچ کرنا) میں وہ سب ہوتاتھا، اس بے فکر میکدے کو اٹھاکر لایاجائے۔جناب حبیب موسوی کاکہناہے ؎
یوں ضعیفی آگئی گویا ازل سے تھے ضعیف
اور شباب ایسا گیا جیسے کبھی آیانہ تھا
امیر چند بہارؔ کایہ شعر ہمارے درمیان موجود شوخ حضرات کی کہانی بیان کررہاہے۔ امیرچند کہتے ہیں ؎
رخصت ہوا شباب تو اب آپ آئے ہیں
اب آپ ہی بتائیے سرکار کیا کریں
ظفر اقبال کا شعر ہے ؎
سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا
میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
اس شعر میں معنی کی کئی پرتیں ہیں، جس کاعلم جتنا ہے وہ ان معنوں سے سرفراز ہوگا۔ احمد مشتاق کا شعر کافی مشہور ہوا ؎
دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے
ہائے ہائے کیسے کیسے چہرے وقت کی بے رحمی کی نذر ہوگئے۔ زندگی بڑھاپے تک پہنچتے پہنچتے اپنی ہی نظر میں گویا تما شا بن کر رہ گئی۔ میر تقی میرؔ کایہ شعر بھی گویا زندگی کانچوڑہے ؎
اب جو اک حسرتِ جوانی ہے
عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
جگر مراد آبادی کا ارشاد ہے ؎
گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہا
وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
تلوک چند محروم ؔ کو احساس ہے اور وہ ہم سب کو احساس بھی دلاتے ہیں کہ ؎
تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے
جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا
جب کبھی کسی کی موت کی خبر سنتے ہیں تو اہل ذوق یہ مصرع کہتے ہیں ۔ ع۔ اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔ لیکن شاعر نے اس مصرع کو موت کے حوالے سے نہیں کہاتھا۔ یہ شعر دراصل منشی خوش وقت علی خورشید کاہے۔ انھوں نے پیری یعنی بڑھاپے کے حوالے سے یہ شعر کہاتھا، وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ شاعر نے جس مقصد سے شعر کہاتھاوہ کہیں مرکھپ گیا۔ شعرملاحظہ کیجئے ؎
پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
حفیظ جالندھری جرأت ِ گناہ کے لئے شباب یعنی جوانی کو شرط قرار دے رہے ہیں اور شاید یہ بات سچ بھی ہے ؎
خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی
پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے
ٓؓ ٓاب ہم مولوی اسلم وڑائچ کے اس شعر کی طرف آتے ہیں جس میں انھوں نے نئی نسل کو نصیحت کی ہے، کہتے ہیں ؎
یاد آئے گا بہت دھوپ میں سایا ان کا
اپنے آنگن میں ہی یہ بوڑھا شجر رہنے دو
بوڑھاشجر باپ بھی ہوسکتاہے یا بیوہ ماں بھی ہوسکتی ہے۔
میرؔبیدری نے اپنے درج ذیل شعرمیں جن اچھے دِنوں کی بات کی ہے یہ وہ ”فیملی ڈیز“ ہیں، جنہیں سنہری حروف میں لکھاجانا چاہیے۔شاعر نے غالبا ً جنت والے اچھے دِنوں کی بات کی ہے ؎
اچھے دِنوں کی آس میں رہتاہوں
ساتھ مرے، میرے والد ہوں گے
قسمت میں باحیات والد یا والدہ یا پھر دونوں ہیں تو معاشرے کو چاہیے کہ وہ ان کی خدمت کا عزم کریں اورشب وروز کے 24گھنٹے ان کیلئے دستیاب رہے، یہ رب کاحکم بھی ہے اور ایک مثالی معاشرے کے قیام میں اس طرح کی رحم دلانہ روحانی اور بابرکت ایکٹی وٹی بھی خود پر لازم کرنامعاشرے کافریضہ ہے۔ دادادادی، نانانانی، تایاتائی، چچا چاچی،پھوپی پھوپھا اور ماموں ممانی وغیرہ کو اپنے شب وروز میں شامل کرنے سے اپنے ہی رشتے کے بزرگ شہریوں سے تعلق بڑھے گاتو 21/اگست کو”بزرگ شہریوں کاعالمی دن“ منانے کی غرض وغایت بھی پوری ہوگی۔ ہمارے اورہمارے معاشرے کے یہ کرم آئندہ نسل کے لئے نقش قدم بن جائیں گے، اِن شاء اللہ
Comments
Post a Comment