پندرہ 15 اگست: یومِ آزادی — کیا ہمیں ایک نئی آزادی کی ضرورت ہے؟از قلم: مفتی عامل قاسمی.


پندرہ 15 اگست: یومِ آزادی — کیا ہمیں ایک نئی آزادی کی ضرورت ہے؟
از قلم: مفتی عامل قاسمی.

15 اگست محض تقویم کا ایک دن نہیں، بلکہ یہ تاریخ ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتی ہے جن کے نتیجے میں برصغیر کے عوام نے غلامی کی طویل زنجیریں توڑ کر آزادی کی صبح دیکھی۔ ہمارے اسلاف نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اپنے گھر بار لٹائے اور بے شمار صعوبتیں برداشت کیں، تاکہ آنے والی نسلیں آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔

لیکن ہر سال یومِ آزادی کے موقع پر ایک سوال ہمارے سامنے ضرور کھڑا ہوتا ہے: کیا آزادی کا مقصد صرف اقتدار کی منتقلی تھا، یا آزادی کا مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے؟

حقیقی آزادی صرف یہ نہیں کہ کسی ملک پر غیر ملکی حکومت نہ ہو۔ حقیقی آزادی تو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب ایک شہری خوف سے آزاد ہو، ناانصافی سے محفوظ ہو، اپنے بنیادی حقوق کے لیے محتاجِ فریاد نہ ہو اور اسے اپنی شناخت، مذہب، زبان یا طبقے کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

آج ہمیں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آزادی کے اتنے برس بعد ہمارا معاشرہ کس سمت بڑھ رہا ہے۔ اگر نفرت، تعصب اور عدم برداشت ہمارے درمیان فاصلے پیدا کر رہے ہیں؛ اگر کمزور کی آواز طاقت کے شور میں دب رہی ہے؛ اگر سچ کہنا دشوار اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا خطرے سے خالی نہیں، تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کی اصل روح ابھی مکمل طور پر ہمارے معاشرے میں جلوہ گر نہیں ہوئی۔

اس ملک کو آج کسی جغرافیائی آزادی سے زیادہ فکر و شعور کی آزادی، خوف سے آزادی، تعصب سے آزادی، ظلم سے آزادی اور ناانصافی سے آزادی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی آزادی درکار ہے جس میں قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہو، اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے، مذہبی و تہذیبی تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ ملک کی خوب صورتی سمجھا جائے اور اقتدار کو ذمہ داری تصور کیا جائے، اختیار نہیں۔

آزادی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ ملک کا ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کر سکے، ہر نوجوان اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع پائے، محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا حق ملے اور غریب و کمزور طبقہ انصاف کے دروازے پر خود کو بے بس محسوس نہ کرے۔ کیونکہ بھوک، جہالت، محرومی اور ناانصافی بھی آزادی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

وطن سے محبت صرف قومی ترانے، پرچم اور نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ وطن سے سچی محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے کردار کو بلند کریں، قانون کا احترام کریں، دوسروں کے حقوق کی حفاظت کریں، اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں اور جہاں کہیں ظلم و ناانصافی نظر آئے، وہاں اپنی استطاعت کے مطابق اصلاح کی کوشش کریں۔

آج کے دن ہمیں دوسروں سے سوال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے بھی سوال کرنا چاہیے: کیا ہم اپنے وطن کی آزادی کے حقیقی محافظ ہیں؟ کیا ہم اپنے رویوں سے آزادی، مساوات اور انصاف کو مضبوط کر رہے ہیں؟ یا ہم خود ہی نفرت، تعصب اور تقسیم کو فروغ دے رہے ہیں؟

آئیے! اس 15 اگست کو صرف جشنِ آزادی نہ منائیں، بلکہ آزادی کے حقیقی مفہوم کو زندہ کرنے کا عہد بھی کریں۔ عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف، ظلم کے بجائے انسانیت اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں گے۔

کیونکہ کسی ملک کی آزادی صرف اس وقت بامعنی ہوتی ہے جب اس کے شہری خود کو محفوظ، باعزت، برابر اور آزاد محسوس کریں۔

15 اگست ہمیں ماضی کی آزادی یاد دلاتا ہے؛ اب وقت ہے کہ ہم مستقبل کی آزادی کے لیے بھی سنجیدہ فکر کریں۔


Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔