پندرہ 15 اگست: آزادی کا جشن، وکاس کا وعدہ اور عوام کی آواز۔ - ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔


پندرہ 15 اگست: آزادی کا جشن، وکاس کا وعدہ اور عوام کی آواز
ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔

15 اگست ہندوستان کی آزادی کا عظیم دن ہے۔ آج پورے ملک نے قومی پرچم کو سلامی دی اور وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کیا۔ یومِ آزادی کے اس موقع پر وزیراعظم کی تقریر پوری دنیا نے سنی۔ ان کی تقریر میں نوجوانوں، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، ہنر، روزگار اور ترقی یافتہ ہندوستان کے حوالے سے کئی اہم اور امید افزا باتیں سامنے آئیں۔ ان مثبت پہلوؤں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
لیکن یومِ آزادی صرف جشن کا دن نہیں، خود احتسابی اور عوام کے سوالات سننے کا دن بھی ہے۔
وزیراعظم نے مستقبل کے ہندوستان کی بات کی، مگر عام ہندوستانی یہ بھی چاہتا ہے کہ آج کے ہندوستان کے مسائل پر بھی اسی وضاحت سے بات ہو۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے، کسان اپنی پیداوار اور آمدنی کے مسائل سے دوچار ہے، لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کے منتظر ہیں، اور تعلیم کے شعبے میں بھی بہت سے بنیادی سوالات موجود ہیں۔
ہم AI اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن ہندوستان کے مستقبل کی ایک تصویر وہ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ننھی بچیاں بھی ہمارے ہندوستان کا مستقبل ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس اسکول جانے کے لیے مناسب لباس نہیں، کتابیں نہیں اور بعض اوقات کھانے کی بھی مشکل ہے۔ اگر ایک بچہ بنیادی تعلیم اور ضروری سہولتوں سے محروم ہے تو صرف جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کو مکمل وکاس نہیں کہا جا سکتا۔
اسی طرح جنتر منتر یا دوسرے مقامات پر اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ اور نوجوان بھی اسی ملک کے شہری ہیں۔ ان کے سوالات کو سننا حکومت کی کمزوری نہیں بلکہ جمہوریت کی طاقت ہے۔ احتجاج پر اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن آواز سننا اور جواب دینا جمہوری نظام کی خوبصورتی ہے۔
آج ایک اور لفظ بھی توجہ کا مرکز بنا—“دماغی نکسلی”۔ اگر اس اصطلاح سے کسی مخصوص نظریے یا ذہنیت کی طرف اشارہ ہے تو عوام کو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ اس سے مراد کون لوگ ہیں۔ حکومت سے سوال کرنا، تعلیم اور روزگار کی بات کرنا یا اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کسی شہری کو ملک دشمن نہیں بناتا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا لازمی حصہ ہے۔
ہمیں آزادی کے مجاہدین کو یاد کرنے کی روایت پر بھی خوشی ہے۔ لیکن ہندوستان کی آزادی کی تاریخ بہت وسیع ہے۔ اس میں مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، اشفاق اللہ خاں، بیگم حضرت محل اور بے شمار مسلم، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب و طبقات کے مجاہدین شامل ہیں۔
14 اگست کو اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف سے محمد علی جوہر کے بارے میں جو باتیں سامنے آئیں، ان پر بھی ہماری گزارش یہی ہے کہ تاریخ کو سیاسی اختلاف سے اوپر اٹھ کر پڑھا جائے۔ کسی تاریخی شخصیت کے سیاسی نظریات سے اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس کی تاریخی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئی نسل کو مکمل تاریخ بتانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسی طرح اگر ہم 2014 کے بعد کی کامیابیوں اور ترقی کی بات کرتے ہیں تو اچھی بات کا اعتراف ضرور ہونا چاہیے، لیکن ہندوستان کی تعمیر صرف 2014 سے شروع نہیں ہوئی۔ آزادی کے بعد آنے والی تمام حکومتوں، سائنس دانوں، کسانوں، مزدوروں، اساتذہ، طلبہ اور عام شہریوں نے ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
وزیراعظم کا معروف پیغام رہا ہے: “سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس۔”
یہ ایک خوبصورت تصور ہے۔ لیکن اس تصور کی اصل کامیابی تب ہوگی جب وکاس کا فائدہ سماج کے آخری انسان تک پہنچے۔ کروڑوں ضرورت مند خاندانوں کو مفت اناج ملنا یقیناً ایک فلاحی سہارا ہے، لیکن غریب کو ہمیشہ سہارا دیتے رہنا اور غریب کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
حقیقی وکاس اس وقت ہوگا جب غریب کے بچے کو معیاری تعلیم ملے، نوجوان کو باعزت روزگار ملے، کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، عام آدمی مہنگائی کے بوجھ سے محفوظ ہو اور ہر شہری کو یہ اعتماد ہو کہ حکومت اس کی بات بھی سنتی ہے۔
ہم وزیراعظم کی اچھی باتوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہماری تنقید مخالفت برائے مخالفت نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار شہری کی تعمیری گزارش ہے۔
کیونکہ 15 اگست صرف یہ یاد دلانے کا دن نہیں کہ ہم آزاد ہیں؛ یہ بھی یاد دلانے کا دن ہے کہ آزادی کے بعد ہمارا اصل مقصد کیا تھا۔
آزادی کا مطلب صرف پرچم کو سلامی دینا نہیں؛ آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھ سکے، ایک طالب علم اپنی تعلیم کے لیے آواز اٹھا سکے، ایک کسان اپنی فصل کے بارے میں فکر ظاہر کرسکے، ایک غریب بچی کتاب اور لباس کا مطالبہ کرسکے اور ایک عام شہری مہنگائی کے بارے میں حکومت سے جواب مانگ سکے۔
ہماری دعا ہے کہ ہندوستان ترقی کرے، مضبوط ہو، خوشحال ہو اور دنیا میں اپنا مقام بلند کرے—لیکن اس ترقی میں ہر ہندوستانی شامل ہو۔
ہندوستان کی عوام اپنے ملک کو ایک مضبوط، خوشحال، ترقی یافتہ اور حقیقی معنوں میں سپر پاور کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ترقی کا یہ سفر ہر شہری، ہر مذہب، ہر ملت اور ہر طبقے کے لوگوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھے، کیونکہ ہندوستان کی طاقت اس کی یکجہتی، گنگا جمنی تہذیب اور تمام طبقات کی مشترکہ ترقی میں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔