پندرہ 15 اگست: جشنِ آزادی یا جمہوریت کا اصل امتحان؟ - ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔
پندرہ 15 اگست: جشنِ آزادی یا جمہوریت کا اصل امتحان؟ -
ازقلم: سید فاروق احمد قادری۔
ہر سال 15 اگست کو پورا ملک یومِ آزادی قومی جوش و خروش کے ساتھ مناتا ہے۔ قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور آزادی کی جدوجہد کو یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن یومِ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا ہم نے آزادی کے ساتھ وابستہ ان جمہوری اقدار کو مضبوط کیا ہے جن کا وعدہ آئینِ ہند کرتا ہے؟
بھارت کا آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے، انصاف، مساوات اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ عوام اپنے نمائندوں سے سوال کریں اور حکومت عوام کی آواز سنے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں بھی بدلتی رہتی ہیں، لیکن آئین، جمہوری روایات اور عوامی حقوق ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی جمہوری حکومت کی اصل طاقت عوام کے اعتماد اور مکالمے میں ہوتی ہے۔
حالیہ طلبہ تحریک نے انہی جمہوری اصولوں کو ایک مرتبہ پھر قومی بحث کا موضوع بنا دیا۔ ابتدا میں یہ احتجاج صرف طلبہ کے مطالبات تک محدود تھا، لیکن 20 جولائی کو پولیس کارروائی کے بعد پورا منظرنامہ بدل گیا۔ سیاسی مبصرین کی نظر میں یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس تحریک کو ایک ٹرننگ پوائنٹ دیا۔ اس کے بعد یہ صرف طلبہ کا احتجاج نہیں رہا بلکہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اسی موضوع پر بحث ہونے لگی، عوامی ہمدردی میں اضافہ ہوا اور پورے ملک کی توجہ اس جانب مرکوز ہو گئی۔
اپوزیشن کا بنیادی سوال یہ تھا کہ طلبہ پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور دیگر سخت پولیس کارروائی کا حکم کس نے دیا؟ بہار میں احتجاج کے دوران فائرنگ کے واقعے پر بھی حکومت سے وضاحت طلب کی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ان سوالات کا واضح جواب دیا جانا چاہیے، جبکہ حکومت نے اپنے اقدامات کو قانون اور انتظامی تقاضوں کے مطابق قرار دیا۔
پارلیمنٹ کے سیشن کے آخری دن بھی یہی مسئلہ ایوان میں پوری شدت سے گونجتا رہا۔ گزشتہ روز قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے لوک سبھا کے اسپیکر کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیرِ داخلہ پہلے ہی یہ تحریری طور پر بتا چکے تھے کہ وہ اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، تو پھر وہ اجلاس کے ابتدائی دنوں میں ایوان میں کیوں نہیں آئے؟ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ اگر حکومت ابتدا ہی میں اپنا مؤقف واضح کر دیتی اور بروقت جواب دیتی تو شاید یہ معاملہ اتنا طول نہ پکڑتا۔ دوسری جانب حکومت نے کہا کہ وہ ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
اس پورے واقعے سے ایک اہم سبق سامنے آتا ہے۔ جمہوری نظام میں طاقت سے زیادہ مؤثر راستہ مکالمہ، اعتماد اور بروقت فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر ابتدا ہی میں طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا، ان سے بات چیت کی جاتی اور حکومت اپنا مؤقف واضح کرتی، تو ممکن ہے کہ یہ احتجاج اتنا طویل نہ ہوتا اور نہ ہی ایک بڑے سیاسی تنازع میں تبدیل ہوتا۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کو سننا کمزوری نہیں بلکہ مضبوطی کی علامت ہے۔
15 اگست ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ آزادی صرف قومی پرچم لہرانے کا نام نہیں، بلکہ انصاف، آئین کی بالادستی، عوام کی آواز کے احترام اور جوابدہی کا نام بھی ہے۔ ایک مضبوط بھارت وہی ہوگا جہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں عوامی مسائل کو سیاست سے بالاتر ہو کر دیکھیں اور اختلافات کا حل آئین اور مکالمے کے ذریعے تلاش کریں۔
آئیے اس یومِ آزادی پر ہم یہ عہد کریں کہ جمہوریت کو صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک قومی امانت سمجھیں گے۔ حکومتیں بدلتی رہیں گی، چہرے بدلتے رہیں گے، مگر آئین، انصاف اور عوام کے حقوق ہمیشہ مقدم رہنے چاہئیں۔ یہی آزادی کا اصل پیغام ہے، اور یہی ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد بھی ہے۔
Comments
Post a Comment