پندرہ 15 اگست یوم آزادی - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔ (استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)
پندرہ 15 اگست یوم آزادی -
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ)
ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے،جو مختلف قوموں کا مسکن اور مختلف تہذیبوں کا گہوارہ ہے،اس کی گود میں گنگا جمناکی روانی، لال قلعہ اورجامع مسجد کی مضبوطی وپاکیزگی، اور تاج محل کی خوبصورتی ہے، مگر، جب اس جنت نما ملک پر، تثلیث کےعلمبرداروں اور برطانوی سامراج کے انگریزوں نے ظالمانہ و جابرانہ طور پر قبضہ کرلیا، توملت کے پاسبانوں اور جیالوں نے برادرانِ وطن کو ساتھ لے کرایک طویل کاوش کے بعد، داغِ یتمی، نالۂ نیم شبی، سنّتِ یوسفی اور خونِ جگر بہا کرآزادئ ہند کے خواب کوشرمندۂ تعبیر کیا، تقریباً ایک صدی تک مسلمانوں نے تنِ تنہااس ملک کو آزاد کرانے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،چنانچہ اس مختصر سےمضمون میں، اجمالی طور پرانگریزوں کے ملک میں داخل ہونے،اور ازادئ وطن میں علماءکرام اور مسلمانوں کے کارناموں پرروشنی ڈالی گئی، کیونکہ ہماری نئی نسل رسمی طور پر 15 اگست اور 26 جنوری پر نشۂ مسرّت میں مخمور ہوتی ہے، ان کو اس بات علم بھی نہیں ہوتا کہ مسجدوں اورخانقاہوں میں گیسوئے دین سنوارنے والے علماء کرام، نے آزادی کے حصول کے لیے اپنا لہو بہایا، اور یہ لہو ایک دو دن نہیں، ایک دو مہینے نہیں، یا ایک دو سال تک نہیں بہا، بلکہ دو صدیوں تک بہتا رہا ہے، 1757ء میں سراج الدولہ نے اپنے لہو سے حصولِ آزادی کی جو مشعل روشن کی تھی، وہ ملک بھر میں برسوں گردش کرتی رہی، کبھی یہ مشعل ٹیپو سلطان کے ہاتھ میں رہی، اور کبھی شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رح نے اسے روشن رکھا،اور کبھی حضرت سید احمد شہید رح اور حضرت سیداسماعیل شہید رح نے اسے قریہ قریہ، بستی بستی اُٹھائے پھرتے رہے، کبھی یہ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رح اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رح کے ہاتھوں نے تھامی، کبھی اس میں حضرت شیخ الہند اور ان کے شاگردوں کے خون سے روشنی رہی، ان بزرگوں کی قیادت میں ہزاروں، لاکھوں، لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، گولیاں کھائیں، پھانسیوں پر لٹکے، کتنے ہی لوگوں نے زندگی کے ماہ وسال قید و بند کی صعوبتوں میں گزارے، جلاوطن ہوئے، اس داستانِ آزادی کا ہر حرف اور ہر لفظ ہمارے بزرگوں کے خونِ شہادت سے رنگین ہے، اس لئے لیے ہمیں اپنے تابناک ماضی سے واقفیت رکھنا ضروری ہے کیونکہ جو قوم اپنے ماضی سے کٹ جاتی ہے، وہ کبھی بھی مستقبل میں کامیابی کے نقوش ثبت نہیں کرپاتی، کامیاب منصوبے ہمیشہ ماضی کی تاریخ سامنے رکھ کر ہی بنائے جاتےہیں، اور جب ماضی کوبھلا دیا جائے، یا تاریخ کو مسخ کردیا جائے یا اس سے دانستہ تجاہل برتاجائے تو پھر اخلاقی زوال قوم کا مقدر بن جاتا ہے،
انگریزوں کی آمد :
اہلِ ہند اور باشندگانِ ہند کی بدنصیبی اور بدقسمتی نے وہ دن دکھایا کہ وہ جنّت نشان ملک یورپین اقوام بالخصوص برطانوی قوم کے ہاتھوں جہنّم نشان اور تمام دنیا سے زیادہ مفلوک اور فاقہ مست و محتاج ہوکر رہ گیا، 1498ء میں واسکوڈی گاما کی قیادت میں پرتگال کے ملاحوں نے سب سےپہلے اس سرزمین ہند کواپنے ناپاک قدموں سے آلودہ کیا، اورصوبہ بنگال کے شہر کلکتہ اور جنوبی ہند کے شہر کالی کٹ کو اپنی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، یہ لوگ تجارت کےمقصد سے وارد ہوئے تھے،مگر مذہب کی اشاعت میں بھی سرگرم ہو گئے، اس وقت ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، اس ملک میں تجارت کے بے شمار مواقع تھے، مالی ترقی کے وسیع تر امکانات نے، انگلستان کے تاجروں کو بھی ادھر متوجہ کیا، انہوں نے تیس ہزار پاؤنڈ سے ایسٹ انڈیاکمپنی کی بنیاد رکھی، اور 1601 ءمیں پہلی مرتبہ اس کمپنی کےتجارتی جہاز ہندوستان کےساحلوں پر لنگر انداز ہوئے،1612ء میں جہانگیر کےعہد حکومت میں ان انگریزتاجروں نے شہنشاہ کی اجازت سے گجرات کے شہرسورت میں اپنا اقتصادی مرکز بنالیا اور بہت جلد اس کی اور شاخیں احمد آباد، اجمیر،برہان پور اور آگرہ میں قائم کر دیں، یہ شہر اس زمانےمیں تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے تھے، اور بڑےتجارتی مراکز : میں شمارکئے جاتے تھے، اورنگ زیب عالمگیر کے عہد حکومت تک انگریزوں کی سرگرمیاں صرف تجارت تک محدود رہیں،اورنگزیب کے انتقال (1707ء) کےبعدمغلیہ حکومت کا شیرازہ منتشر ہونے لگا یہاں تک کہ احمد شاہ کے دور حکومت(1748 ء تا 1752ء)میں یہ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا، بہت سےصوبوں نے اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا، ایسٹ انڈیاکمپی جو اب تک صرف ایک تجارتی کمپنی تھی، ملک گیری کی ہوس میں مبتلا ہو گئی، اوراس نے اپنی سیاسی قوت بڑھانی شروع کر دی، یہاں تک کہ اس نے کلکتے میں اپنا ایک مضبوط فوجی قلعہ بھی تیار کرلیا۔ سراج الدولہ پہلا شخص ہے جس نے اس خطرے کومحسوس کیا اور انگریزوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کی کوشش کے طور پر 1757ء میں پلاسی کےمیدان میں ان سے جنگ کی ،سراج الدولہ کا وزیر میرجعفر غداری نہ کرتا توانگریز دُم دبا کر بھاگنے پرمجبور ہو جاتے ، اس غدارِ وطن کی وجہ سے سراج الدولہ کو شکست حاصل ہوئی ،انعام ۔ کے طور پر میرجعفر کو بنگال کا اقتدار ملا، لیکن اس کا اقتدار زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکا، کچھ دنوں بعدوہ معزول کر دیا گیا، اس کا داماد میرِ قاسم بر سرِ اقتدار آیا،انگریزوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ بھی دیر تک اقتدارپر قابض نہ رہ سکا یہاں تک کہ انگریز 1764 ء میں بہاراور بنگال پر قابض ہو گئےاور دیکھتے ہی دیکھتےاودھ تک پھیل گئے مغل حکمراں شاہ عالم نے سند دیوانی دے کر ان کے قبضے کی توثیق کر دی،جس سے انگریزی اقتدار لال قلعہ میں داخل ہوکر فرماں روائی کرنے لگا، اور اب شمالی ہند میں چاٹگام سے لے کر دہلی تک انگریزی اقتدار کا سکہ رائج ہوگیا، پھر انگریزوں نے میسورکی طرف رخ کیا، جہاں پر شیرِ میسور فتح علی خان ٹیپو جذبۂ حریت سے سرشار ہوکر برطانوی استعمار سے برسرِ پیکار تھے، میرصادق وغیرہ سلطان کےغداروں نے تثلیث کےعلمبرداروں سے ساز باز کرلی،اب ایک معرکہ کی ضرورت تھی جس میں شیرِبیشۂ حریت کو سب طرف سے گھیر کر شہید کردیا جائے 4مئی 1799ء اس منصوبہ کی کامیابی کی آخری تاریخ تھی دن کا ایک بجا تھا کہ جنگ آزادی کے اس شیر دل کمانڈر نےاپنے مخصوص جاں نثاروں کے ساتھ جن میں فدائے وطن خواتین بھی تھیں انگریز حملہ آوروں کی مدافعت شروع کی سب طرف سے گھر جانے کےباوجود مئی کی دہکتی ہوئی گرمی میں بھو کے پیاسے سات گھنٹے کی جنگ کے بعد غروب آفتاب کے وقت اس بہادر سلطان نے پیڑیاں جمے ہوئے ہونٹوں کوجام شہادت سے تر کیا اورتاریخ جبر و قہر کی پیشانی پر خونِ شہادت سے یہ فقرہ لکھ دیا :شیر کی زندگی کا ایک لمحہ گیدڑ کی صد سالہ زندگی سےبہتر ہے۔ مگر جب لارڈ ہارس نے سلطان کی خون آلود لاش دیکھی تو اُس کا نعرہ یہ تھا:آج ہندوستان ہمارا ہے۔“
ملک پر مکمل طور سے قابض :
سترہویں صدی کا آغاز عالمگیر اورنگ زیب کی شاہانہ عظمت سے ہوا اور اختتام فدائے ملک و ملت ٹیپو سلطان کی شہادت سے ہوا اور اٹھارہویں صدی کی شام کوہندوستانی عظمت کا آفتاب غروب ہو رہا تھا۔ غلامی کی شب تاریک تیزی سے ملک پرچھارہی تھی ۔ انگریزی اقتدارکی صبح صادق نمودار ہورہی تھی۔اب آزادی وطن کی سونی بزم میں صرف مرہٹی اقتدار کی ایک ٹمٹماتی شمع باقی تھی۔ لال قلعہ میں جوکچھ اُجالا تھاوہ اسی کا عکس تھا۔ ایک چراغ شمالی مغربی علاقہ میں بھیک رہا تھایہ راجہ رنجیت سنگھ کاعروج تھا۔ مسلمانوں کی طاقتیں ختم ہو چکی تھیں ۔ جوختم نہیں ہوئی تھی ، مفلوج ہو کر انگریزی اقتدار کے سامنے سر جھکا چکی تھی،
جاری..........................
Comments
Post a Comment