پندرہ 15 اگست سنہ 1947 یہ ہم تمام بھارتیوں کے لئے بڑا عظیم و تاریخی دن ہے - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
پندرہ 15 اگست سنہ 1947 یہ ہم تمام بھارتیوں کے لئے بڑا عظیم و تاریخی دن ہے -
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے۔
پندرہ 15 اگست سنہ 1947 یہ ہم تمام بھارتیوں کے لئے بڑا عظیم و تاریخی دن ہے ہر سال جب یہ دن آتا ہے تو ہمیں وہ مجاھدین اور انکے وہ کارنامے اور قربانیاں یاد آجاتی ہیں جو انھوں نے اس ملک کی آزادی کی خاطر ہیش کی تھیں۔
ویسے تو اس ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں ملک کے سارے مذاھب والوں اور ساری قوموں نے قربانیاں دی ہیں لیکن جسقدر قربانیاں علماء کرام مشائخ عظام اور عام مسلمانوں نے دی ہیں اسطرح آزادی کے خاطر جتنا خون مسلمانوں نے ہہایا ہے اتنا اپنا پسینہ بھی دیگر اقوام نے اجتماعی طور پر نہیں بہایا اگر ایسا کہا جائے تو کچھ غلط نہیں یوگا
شروع شروع میں تن تنہا مسلمان ملک کی آزادی کیخاطر انگریزوں سے لڑتے رہے اسطرح اسکے بعد بھی آزادی تک میدان جنگ میں صف اول میں ہی لڑتے رہے اور اپنی قربانیاں ہیش کرتے رہے اسطرح دوسرے ممالک میں بھی ہندوستانیوں نے اپنے ملک کی آزادی کیخاطر جو انجمنیں اور تنظیمیں قائم کی تھیں وہاں بھی مسلمان صف اول میں رہکر قربانیاں دیتے رہے
سنہ 1857 کا وہ عظیم معرکہ جو آخری مسلمان مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی زیر قیادت لڑا گیا اور جسمیں پہلی مرتبہ مسلمانوں کیساتھ دیگر اقوام اور مذھب والوں نے اجتماعی طورپر شرکت کی تھی اگرچہ اس معرکہ میں مجاھدین آزادی کو فتح اور کامیابی نصیب نہیں ہوئی لیکن اسکے بعد آزادی کے لئے جدوجید اور آزادی کے لئے تحریکیں اور تیز ہوگئیں اور ملک کے چہار جانب سے آزادی کے لئے آوازیں اٹھنے لگیں
جنگ میں شکست کے بعد بہادر شاہ ظفر کو دلی سے دور برما ( رنگون ) جلاوطن کیا گیا ہے جہاں پر انھوں نے سات نومبر سنہ 1862 کو وفات پائی انکے جانب مشہور غزل
لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں اسکا آخری شعر
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لئے _____ دوگز زمیں بھی مل نہ سکی کوئے یار میں
یہ انکے ذہنی و قلبی درد و کرب کو بتلاتا ہے
اسطرح اشفاق اللہ خان اس نوجوان انقلابی مجاھد کا شمار صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بر صغیر کے ممتاز مجاھدین آزادی میں ہوتا ہے انھیں 19 دسمبر سنہ 1927 کو انکے دیگر مجاھد ساتھیوں کیساھ پھانسی دی گئی پھانسی کی جگہ پر ہہنچ کر پھانسی کے پھندے کو چومتے ہوئے اپنی آخری خواہش کا اظہار کچھ اس طرح کیا
کچھ آرزو نہیں ہے آرزو تو یہ ہے _____ رکھ دے کوئی ذراسی خاک وطن کفن میں
اسیطرح نیتاجی سبھاش چندر بوس نے ملک ہندوستان کی تحریک آزادی میں کلیدی رول ادا کیا ہے اور انھوں نے برطانوی فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے آزاد ہند فوج تشکیل دی جسمیں ہندو مسلم سکھ عیسائی تمام مذاھب کے لوگ شامل تھے اور سبھوں نے ملک کی آزادی لئے جدوجہد اور قربانیاں دیں
ریشمی رومال کی تحریک جسکی وجہ سے شیخ الھند مولانا محمود الحسن اور انکے شاگرد مولانا حسین احمد مدنی اور دیگر انکے ساتھیوں کو مالٹا کی جیل میں قید و بند کی مشقتوں سے دوچار کیا گیا
اسطرح مولانا ابو الکلام آزاد جنگ آزادی میں آپکا کردار بڑا نمایا رہا تاریخ جنگ آزادی آپکے ذکر کے بغیر ناقص و ادھوری ہے آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بھی رہے ہیں آپکی ایک بڑی کوشش ہندو مسلم کے درمیان اتحاد کی رہی ہے ہندو مسلم اتحاد کے وہ بڑے علمبردار تھے جسکے لئے زندگی بھر کوشش کرتے رہے
لیکن بہت سارے حالات سے گذرنے اور تجربہ اور مشاھدہ کے بعد آپ نے ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہے
اپنے فرمایا
اگر دنیا دس ہزار سال یا دس لاکھ سال مزید قائم رہے تو پھر بھی دو چیزیں ختم نہیں ہونگی
پہلی چیز ہندو قوم کی تنگ نظری
اور دوسری مسلمان قوم کی اپنے سچے رہنماووں سے بدگمانی
آزادی کے اس عظیم رہنما اور مجاھد کا 22 فروری سنہ 1958 کو انتقال ہوگیا
بھارت کے سیاسی رہنما اور آزادی کے اہم ترین مجاھدین میں ایک اہم ترین شخصیت موہن داس کرم چند گاندھی کی بھی ہے جنھیں احتراما مہاتما اور باپو بھی کہا جاتا ہے جنھوں نے برطانوی تسلط سے ہندوستان کی آزادی کے لئے بڑی طویل جدوجہد کی اور کئی تحریکیں چلائیں ستیہ گرہ اور اہنسا ( عدم تشدد) کو اپنا ہتھیار بنایا ستیہ گرہ ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی تحریک جو عدم تشدد پر مبنی تھی اور یہ طریقہ کار ملک کی آزادی کے لئے کارگر بھی ثابت ہوئی اس عدم تشدد کا تذکرہ آج بھی دنیا احترام کیساھ کیا جاتا ہے اور اس عظیم مجاھد آزادی اور رہنما کو ایک ہندو قوم پرست نتھورام گوڈسے نے 30 نومبر سنہ 1948 کو قتل کیا
یہ مختصر طورپر چند مشہور و معروف مجاھدین آزادی کا تذکرہ ہے ورنہ ہزاروں لاکھوں بھارتیوں نے اپنے اس ملک کی آزادی کے لئے قربانیاں دی ہیں
اور وہ مجاھدین اور شہداء زبان قال اور زبان حال سے ہم سے یہ کہ گئے کہ
کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو _____ اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو
اللہ تعالی ہمارے اس ملک کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے
Comments
Post a Comment