بیدر کے وارڈ نمبر 13 خوشی نگر میں 6،7 ماہ سے پینے کے پانی کا بحران، فوری حل کا مطالبہ۔
بیدر8/اگسٹ(نامہ نگار) بیدر شہر کے وارڈ نمبر 13 خوشی نگر (پُکٹ نگر) میں گزشتہ 6،7 ماہ سے پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں انڈین نیشنل بھیم آرمی کی جانب سے بیدر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو تحریری یادداشت پیش کرتے ہوئے فوری طور پر پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ علاقہ کے عوام گزشتہ کئی ماہ سے پینے کے پانی کے لیے پریشان ہیں۔ عوام، بزرگ شہری، مزدور اور طلبہ پانی حاصل کرنے کے لیے نشیبی علاقے میں واقع پانی کی ٹنکی تک جانے اور وہاں سے پانی بھر کر دوبارہ اونچائی پر واقع اپنے گھروں تک سیڑھیاں چڑھنے پر مجبور ہیں، جس سے خصوصاً خواتین اور بچوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انڈین نیشنل بھیم آرمی کے بانی و ریاستی صدر دلیپ کمار ورما نے علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے عوام کی مشکلات کا جائزہ لیا اور کہا کہ پانی بنیادی ضروریات میں شامل ہے، اس لیے عوام کو پینے کے پانی کے لیے اس طرح دربدر ہونا افسوسناک ہے۔ یادداشت میں مزید کہا گیا کہ ضلع کے انچارج وزیر کی جانب سے افسران کو ضلع میں پینے کے پانی کی قلت نہ ہونے کی ہدایت کے باوجود متعلقہ افسران کی جانب سے اس مسئلہ پر توجہ نہ دینا قابل افسوس ہے۔ یادداشت کے مطابق اس مسئلہ کو متعدد مرتبہ مقامی عوامی نمائندوں، رکن اسمبلی اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کے علم میں لایا گیا، تاہم اب تک مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انڈین نیشنل بھیم آرمی کی ریاستی و بیدر ضلعی یونٹ نے میونسپل کمشنر سے مطالبہ کیا کہ معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو فوری ہدایات جاری کی جائیں اور وارڈ نمبر 13 خوشی نگر کے عوام کو پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی جائے۔ یادداشت میں انتباہ دیا گیا کہ اگر مسئلہ فوری طور پر حل نہیں کیا گیا تو علاقہ کے عوام کے ساتھ میونسپل کارپوریشن کے روبرو ایک روزہ علامتی دھرنا دیا جائے گا۔ یادداشت پر شری کانت ساگر، بھاویدوڈی سدرشن بھاگیاکر اور دلیپ کمار ورما سمیت تنظیم کے عہدیداروں کے دستخط موجود ہیں۔
Comments
Post a Comment