اردو اور مراٹھی کے 1000 اساتذہ کی بھرتی کی خوشخبری،اردو، ہندی اور دکنی شاعر میرؔبیدری نے حکومت کرناٹک کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔


 بیدر۔ 21/اگست (پریس ریلیز)جمعہ کی شام ہوتے ہوتے یہ خبر اردواور مراٹھی میڈیم کے چاہنے والوں کے لئے بہار کاجھونکا ثابت ہوئی کہ حکومت کرناٹک اردو کے 800اور مراٹھی کے 200اساتذہ اس طرح جملہ 1000اساتذہ کی جائیدادیں پرکرے گی۔ جس کاخیرمقدم اردو، ہندی اور دکنی کے شاعر محمدیوسف رحیم میرؔبیدری نے کیاہے۔ اوراپنے تازہ بیان میں کہاہے کہ حکومت کرناٹک کی جانب سے گذشتہ دِنوں اساتذہ کی 15000جائیدادیں کو پر کرنے کے لئے نوٹی فکیشن جاری کیاگیاتھاجس میں کنڑااور انگریزی کوچھوڑکرکسی بھی اقلیتی زبان کے اساتذہ کے لئے کوئی موقع نہیں تھا۔جس پر سارے کرناٹک میں محبان ِ اردو، محبان ِ مراٹھی، محبان ِ ہندی، محبان ِ تیلگو اورمحبان ِ ٹمل میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اور حکومت کے خلاف انھوں نے غم وغصہ کا اظہار کیا اوراپنے حق کے لئے ودھان سودھابھی پہنچے اور اپنے اپنے مقامات پر احتجاج کیا۔ جناب میرؔبیدری نے وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار، نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور، وزیر تعلیم مدھوبنگارپا، وزیر اقلیتی بہبودوحج جنا ب یوٹی قادر، وزیر ہاوزنگ جناب بی زیڈ ضمیراحمد خان، جناب سلیم احمدچیرمین کونسل، وزیر فوڈجناب رضوان ارشد، ایم ایل اے جناب راجو سیٹھ،یاسر پٹھان، ایم ایل سی جناب عبدالجبار، محترمہ بلقیس بانو اور دیگر سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے جس طرح لسانی اقلیتوں کا فوری طورپر خیال رکھاہے وہ بے حد اہم ہے۔تاخیر سے کیفیت میں تبدیلی آتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ جن جن صحافیوں اور اخبارات نے اردو، مراٹھی، ہندی اور دیگر اساتذہ کے خلاف ہونے والی ناانصافی کو اپنے قلم اور اخبار کے ذریعہ اجاگرکیا اورزبان اور اساتذہ کے حق میں لکھا، ان کابھی میں شکرگذار ہوں۔ جناب میرؔبیدری نے اس بات کی طرف بھی حکومت کی توجہ دلائی ہے کہ وہ علاقہ کلیان کرناٹک میں اساتذہ کے تقرر پر 371(J)کا خیال رکھے۔ توقع ہے کہ اس دفعہ کے تحت اساتذہ کی تقسیم میں علاقہ کلیان کرناٹک کو فائدہ ہوگا۔ میر بیدری نے نئے تقررکئے جانے والے اساتذہ سے کہاہے کہ وہ اپنی مادری زبان اردو اورمراٹھی کو ہر ممکن استحکام بخشیں۔ لسانی اقلیتوں کے طلبہ کنڑااور انگریزی طلبہ سے آگے ہونا چاہیے۔تاکہ ریاست کی ترقی میں ان کابھی حصہ ہو۔ انھوں نے خصوصاً تقر ر کی جانے والی خواتین ٹیچرس سے بھی دردمندانہ اپیل کی کہ براہ مہربانی اپنی پوری طاقت اردو، مراٹھی اور دیگر ہندوستانی زبانوں اور ان کے اسکولوں کی بقا میں لگادیں۔ 
تصویر منسلک ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔