احسان فراموشی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔از قلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے ۔

احسان فراموشی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔از قلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے ۔

   ہر ایک انسان جانتا ہے کہ انسان بنیادی طورپر کمزوریوں کا مجموعہ ہے اور منجملہ اسکی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری اسکی احسان فراموشی بھی ہے 
    جب یہ حقیقت ھیکہ کسی نہ کسی اعتبار سےایکدوسرے کے محسن و معاون ہیں تو اس احسان کا تقاضا ھیکہ اپنے محسن کیساتھ وفاداری اور احسان شناسی کا معاملہ کیا جائے اسکے تعاون کا اچھا بدلہ دیا جائے اگر بدلے میں کوئی مادی چیز دینے کی استطاعت نہ ہوتو خلوص دل کیساتھ دعائے خیر دی جائے اور اپنے قول و عمل سے ہرگز اسطرح ظاہر نہ کیا جائے جس سے احسان فراموشی کی بو آتی ہو 
  ہم پر احسانات چاہے والدین کے ہوں یا اساتذہ کرام علماء کرام یا دیگر رشتہ داروں یا دوست و احباب کے ہوں کسی نے ہمیں کھلایا پلایا اور پہنایا ہوگا کسی نے اچھا اور نیک مشورہ دیا ہوگا کسی نے روپیہ پیسے سے تعاون کیا ہوگا کسی نے وقتی طورپر قرض دیا ہوگا کسی نے مشکل وقت اور ضرورت کے وقت ساتھ دیا ہوگا کسی کبھی کسی طرح سے مدد کی ہوگی غرض یہ کہ ہر ایک شخص دوسرے کے احسان تلے دبا ہوا ہے اسلئے ہمیں اپنے تمام محسنین کو یاد رکھنا چاہیئے اور سبھوں کے حق میں دعا بھی کرتی رہنی چاہیئے اور شریعت مطہرہ نے بھی ہمیں حکم دیا ھیکہ ہم احسان شناسی کا ثبوت دیں اور نبئ کریم نے بھی احسان شناسی کی تعلیم فرمائی ہے 
  حضرت ابو ھریرہ فرماتے ھیکہ نبئ کریم نے ارشاد فرمایا جو شخص انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا شکر ادا نہیں کرتا ( جامع ترمذی ) 
  احسان چکانا یا اپنے محسن کے حق میں دعا کرنا یہ ہمارا واجبی فریضہ ہے اور احسان فراموشی یہ بڑا جرم ہے اور جھنم میں لے جانے والا عمل ہے جیساکہ صحیح بخاری میں ھیکہ نبئ کریم نے اپنے عید کے خطبے میں نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا مجھے جھنم دکھلائی گئی تو اسمیں زیادہ میں نے عورتوں کو پایا وجہ یہ کہ وہ نافرمانی کرتی ہیں نبئ کریم سے پوچھا گیا کیا وہ کفر بااللہ یعنی اللہ تعالی کی نافرمانی کرتی ہیں؟ تو نبئ کریم نے ارشاد فرمایا وہ شوہر کی نافرمانی ( ناشکری) کرتی ہیں اگر تم زندگی بھر ان میں سے کسی عورت کیساتھ احسان کرتے رہو پھر تمہاری طرفسے کبھی کوئی انکے خیال میں ناگواری کی بات ہوجائے تو فورا کہدیگی کہ میں نے کبھی بھی تم سے بھلائی نہیں دیکھی ہے 
     اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ھیکہ احسان فراموشی بڑا گناہ و جرم ہے لہذا اپنے محسن اور اسکے احسانات کو یاد کرنا چاہیئے 
   دنیا میں جو مجموعی طورپر فساد و بگاڑ اور اختلاف برہا ہے اسکی ایک وجہ احسان فراموشی بھی ہے اگر احسان شناسی طبیعت بن جائے تو پھر نہ خانگی زندگی میں کوئی اختلاف ہوگا اور نہ ادارہ جاتی سطح پر کوئی فساد و بگاڑ ہوگا 
  مگر افسوس کہ آج ہمارے مسلم معاشرہ میں احسان شناسی کی جگہ احسان فراموشی نے لی ہے جسکی وجہ سے ہر جگہ اختلافات اور دوریاں بڑھ رہی ہیں۔  اہل عرب کے نزدیک ایک محاورہ مشہور ہے( اتق شر من احسنت الیہ ) یعنی جسپر تم نے احسان کیا ہو اسکے شر سے بچتے ریو آج تقریبا ہر جگہ یہی حال ھیکہ جسپر احسان کیا جاتا ہے وہی سب سے زیادہ نقصان اور تکلیف کا باعث بنتا ہے 
   حضرت تھانوی فرماتے ھیکہ اس زمانہ میں دوستی اور محبت اکثر اغراض کے لئے ہوتی ہے جب تک غرض پوری ہوتی رہی دوست ہے اور جس دن اغراض میں کمی آئی اس دن سے دشمن بنے چنانچہ تجربہ شاھد ھیکہ جن لوگوں پر پورا اعتماد تھا کہ یہ دوستی سے کبھی نہیں بدلینگے وہ بھی اپنے اغراض میں کسی وقت نقصان دیکھکر بالکل بدل گئے اور ایسے بدلے کہ دشمن سے بھی بدتر دشمن بن گئے 
  اللہ تعالی احسان فراموشی سے ہماری حفاظت فرمائے اور اپنے محسنوں اور انکے احسانوں کو یاد رکھنے اور انکا بدلہ دینے اور انکے حق میں دعائے خیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔