گوشۂِ ادب :طلباء کی تخلیقات:آج کی کہانی۔۔۔"کامیابی یوں ہی نہیں ملتی" کہانی از : عائشہ پروین بنت محمد عرفان۔
گوشۂِ ادب :طلباء کی تخلیقات:آج کی کہانی۔۔۔
"کامیابی یوں ہی نہیں ملتی"
کہانی از : عائشہ پروین بنت محمد عرفان۔
طالبہ: جماعت نہم۔
مدرسہ : محمد یہ اردو ہائی اسکول اورنگ آباد۔
رہنمائی : معلٌمہ نفیسہ بیگم بنت غلام جیٖلانی۔ (کوآرڈینیٹر اردو کارواں،اورنگ آباد)
جو ہو گیا اسے سوچا نہیں کرتے
جو مل گیا اسے کھویا نہیں کرتے
کا میابی ان ہی کو حاصل ہوتی ہے
جو وقت اور حالات پررویا نہیں کرتے
شاداب نام کا ایک بہت ہی امیر لڑکا تھا ۔وہ پانچویں جماعت تک تو کلاس کا ٹا پر تھا لیکن ایک دن کلاس میں لیٹ آنے کی وجہ سے وہ پیچھے بیٹھا۔ اُس دن اُس نے پیچھے بیٹھے ہوئے لڑکوں سے بات کی۔ اُس نے انہیں اپنا دوست بنالیا۔ وہ ہر دن اب ان لوگوں کے ساتھ ہی بیٹھتا ۔ ایک دن اُن لوگوں نے اسکول میں پٹانے پھوڑنے کا منصوبہ بنایا لیکن شاداب نے انہیں منع کر دیا پھر بھی انھوں نے اس کی ایک نہ سنی ۔ انہی دوستوں کی وجہ سے وہ نویں میں آتے آتے کلاس ٹاپر سے بیک بینچر کہلانے لگا۔ اس کے اساتذہ اسے ہمیشہ سمجھایا کرتے" ان دوستوں کا ساتھ چھوڑ و اور پڑھائی پر توجہ دو"ـ پھر بھی وہ کسی کی نہ سنتا۔ ان دوستوں کی وجہ سے وہ دن بہ دن اور بگڑتا جا رہا تھا۔ ایک دن ان کی کلاس ٹیچر صائمہ مس نے اُن کی کلاس میں آکر کہا" کل تمہارے امتحان کے نتائج بتائے جائیں گے تو کوئی بھی بچہ غیر حاضر نہیں رہے گا"۔ اگلے دن وہ بہت ڈرا ہوا تھا کیونکہ اس نے سال بھر کوئی پڑھائی نہیں کی تھی ۔ آج اس کے امتحان کے نتائج تھے۔ شاداب کی مارک شیٹ دیکھ کر اس کے والدین کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ اُس دن شاداب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے اُس دن سے عزم کیا کہ وہ آج سے صرف اور صرف پڑھائی کرے گا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس دن شاداب کے والد کے تجارت کو قانو نًا بند کر دیا گیا۔ اُن کے پاس کچھ نہ بچا۔ شاداب کے دوستوں نے بھی اس سے بات کرنا چھوڑ دی۔ ہر طرف سے اس پر مشکل آں پڑی لیکن اس نے ہار نہ مانی۔ کبھی کبھی اس کا دل پڑھنے کا نہ بولتا، تب اُسے امتحان کے نتائج کا دن یاد آتا اور وہ پھر پڑھنے بیٹھ جاتا ۔اسی طرح اُس نے دسویں میں فرسٹ رینک حاصل کیا وہ بہت خوش تھا۔ اب اسے اپنی گیارہویں کی پڑھائی کی فکر ہونے لگی اُس نے اپنی اسکالر شپ سے آگے کی پڑھائی کرنے کا سوچا۔ اس میں بھی اس نے کڑی محنت کی اور با روہویں پاس کر لیا۔ اب اس نے اپنی زندگی میں ایک مقصد بنایا جسے اُسے پانا تھا ۔ UPSC اس نے اس پر کڑی محنت کی پھر بھی وہ اس کوشش میں فیل ہو گیا۔ اسکا حوصلہ ٹوٹ گیا لیکن اس نے دوسری بار پھر سے امتحان دینے کا سوچا۔ اس نے اس امتحان کی تیاری میں دن رات ایک کر دئیے۔ اس کے پڑوسی اسے کہنے لگیں" تو کچھ نہیں کر پائے گا"ـ لیکن اس نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ وہ ان سب کی بات کو غلط ثابت کر کے دکھائے گا ۔ اس نے دن رات محنت کی اور IAS بن کر ان سب کو بتا دیا کہ اگر ہر کوئی انسان محنت کرے تو وہ جو چاہے حاصل کر سکتا ہے۔ بس اُسےخود پر بھروسہ ہونا چاہئے ۔
جب دل میں حوصلہ ہو تو کوئی منزل نہیں مشکل
بہت کمزور دل ہی بات کرتے ہے تھکانوں کی۔
۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment