شعبہ اُردو سوشل کالج میں کلامِ شاعر بہ زبان ِ شاعر کا کامیاب انعقاد


            شولاپور۔نامہ نگار(اقبال باغبان) شعبہ اُردو شولاپور سوشل اسوسی ایشن آرٹس اینڈ کامرس کالج شولاپورمیں ایک شعری نشست بعنوان کلامِ شاعر بہ زبان شاعرمنعقد کی گئی۔ اس تقریب میں پونہ کے معروف شاعررفیق قاضی نے اپنے منتخب کلام ِبلاغت نظام سے طالب علموں کو محظوظ کیا۔ کالج کے کارگزارپرنسپل ڈاکٹر۔ اِی۔جا۔ تنبولی کی صدرات میں منعقد اس تقریب کی ابتدا، بی۔اے۔ سالِ سُوّم کی طالبہ مصباح شیخ نے کی۔ صدرشعبہ اُردو ڈاکٹرمحمدشفیع چوبدارنے شعبہ اُردواور مہمان شاعرکا تعارف پیش کیا۔ مہمان شاعررفیق قاضی صاحب نے اپنا منتخب کلام سنایا جسے طالب علموں اور اساتذہ نے خوب داددی۔ بالخصوص ان اشعارکوسامعین نے خوب سراہا۔

-حُسن ِکردارسے میں جب بھی سنورجاتاہوں
دیکھنے والوں کی سوچوں میں اُتر جاتا ہوں

-ہرملاقات فال ہوتی ہے
اورجُدائی ملال ہوتی ہے

-نفرتوں سے بھرے ہوئے جگ میں
دوستی با کمال ہوتی ہے

-کن مشکلوں کے دورسے کٹتی ہے زندگی
سانسیں بھی بن گئی ہیں بڑا بوجھ جان پر

-جیتے ہیں یہاں خوب کے ماحول میں سب لوگ
جو راہ تھی پُر امن وہ ہموارنہیں ہے

            اپنی صدارتی تقریرمیں کالج کے کارگزار پرنسپل ڈاکٹرای۔ جا۔ تنبولی نے مہمان خصوصی کا شکریہ ادا کیااور شعبہ اُردو کی کارکردگی کو سراہا ۔ اُردو شاعری کے متعلق کہا کہ اُردوشاعری میں انسانیت اوراُخوت کا پیغام دیا ہے۔ اس خوبصورت تقریب کی نظامت کالج کے فعال پروفیسر ڈاکٹر غوث احمد شیخ نے کی اورپروفیسر تسنیم وڈو نے رسم شکریہ ادا کی۔ اس تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر فاطمہ انجم اور کثیر تعدادمیں طالب علموں نے شرکت کر کے پروگرام کو کامیاب بنایا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔