کالم نگاری - بچوں کا تحفظ اور ہماری ذمہ داری - ازقلم : رہبر تماپوری۔


 کالم نگاری - 
 بچوں کا تحفظ اور ہماری ذمہ داری - 
ازقلم : رہبر تماپوری۔
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ:  8431012141

بچے ایک کورے کاغذ کی مانند ہوتے ہیں؛ ان پر زندگی کے ابتدائی نقوش گھر، اسکول اور معاشرہ مل کر ثبت کرتے ہیں۔ وہ ایک زرخیز زمین بھی ہیں، جس میں جو بیج بویا جائے، وقت کے ساتھ اسی کا پودا پروان چڑھتا ہے اور پھر وہی پھل دیتا ہے۔ محبت، اخلاق، علم اور اعتماد کے بیج بوئے جائیں تو کردار کی خوشبو پھیلتی ہے، جبکہ خوف، تشدد، تحقیر اور بے توجہی شخصیت کو اندر سے زخمی کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بچے کے تحفظ کا سوال دراصل اس کے مستقبل کی تعمیر کا سوال ہے۔
بچے ہمارے پاس ایک قیمتی امانت ہیں۔ امانت داری صرف ان کی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان کے جسم، ذہن، جذبات اور کردار کی حفاظت بھی اسی کا حصہ ہے۔ یہاں تعلیم اور تربیت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تعلیم علم فراہم کرتی ہے، جبکہ تربیت اس علم کو زندگی کا حصہ بناتی ہے۔ تعلیم کسی مرحلے پر مکمل ہو سکتی ہے، مگر تربیت ہر لمحہ جاری رہتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کا رویہ، گفتگو اور طرزِ عمل خاموش سبق بن کر بچے کی شخصیت میں اترتا رہتا ہے۔
اسی تربیت کا اہم حصہ تحفظ کا شعور ہے۔ جسمانی تشدد، ذہنی اذیت، ہراسانی اور جنسی استحصال جیسے خطرات بچے کے اعتماد اور شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ اس لیے بچوں کو عمر کے مطابق بنیادی جسمانی آگاہی دینا ضروری ہے کہ ان کے جسم کے کچھ حصے نجی ہیں، نامناسب لمس کو کیسے پہچانا جائے اور کسی ناخوش گوار صورتِ حال میں کس قابلِ اعتماد فرد سے فوراً بات کی جائے۔ مقصد خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ انہیں اپنے تحفظ کے قابل بنانا ہے۔
اس شعور کو مضبوط کرنے کے لیے گھر اور اسکول کا ماحول بھی محفوظ اور بااعتماد ہونا چاہیے۔ بچے کے رویے، مزاج یا معمولات میں غیر معمولی تبدیلی کو محض شرارت سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے دوست کون ہیں، وہ کن لوگوں سے متاثر ہو رہے ہیں اور کن سرگرمیوں میں وقت گزار رہے ہیں، یہ جاننا ضروری ہے؛ تاہم نگرانی کا انداز ایسا ہو جس میں اعتماد قائم رہے۔ بچے کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ مشکل گھڑی میں ڈانٹ سے پہلے اس کی بات سنی جائے گی۔
آج اس ذمہ داری کا ایک نیا میدان ڈیجیٹل دنیا بھی ہے۔ انٹرنیٹ علم، تحقیق اور تعلیم کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے، مگر بے مقصد اسکرین ٹائم، نامناسب مواد اور غیر محفوظ آن لائن روابط بچوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ والدین کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ کیوں دیکھ رہا ہے اور اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مثبت استعمال، مناسب وقت اور باخبر نگرانی کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا کو خطرے کے بجائے سیکھنے کا وسیلہ بنایا جا سکتا ہے۔
بچوں کا تحفظ کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں؛ یہ گھر، اسکول اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں بچے خوف کے سائے میں نہیں، اعتماد اور شعور کی روشنی میں پروان چڑھیں۔ انہیں صرف خطرات سے بچانا کافی نہیں، بلکہ خطرات کو پہچاننے، بروقت آواز اٹھانے اور درست فیصلہ کرنے کا ہنر بھی دینا ہوگا۔
کیونکہ آج کا بچہ صرف ہمارا آج نہیں، ہمارا آنے والا کل ہے۔ اگر ہم نے اس ننھی زمین میں شعور، محبت، علم اور کردار کے بیج بو دیے تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے کی صورت میں پھلیں گی جہاں تحفظ بھی ہوگا، انسانیت بھی اور امن بھی۔

Comments