سید حسین اختر : وعدہء وفا کی مورت - ش۔شکیل اورنگ آباد۔
سید حسین اختر : وعدہء وفا کی مورت -
ش۔شکیل اورنگ آباد۔
9529077971
ہر بنی نوع انسان کی نظروں سے انگنت انسان آتے اور چلے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بنی نوع انسان کئی مشاہدات اور تجروں کے مراحل سے گزرتا ہے۔ پھر اس کے بعد بنی نوع انسان کے لاشعور میں ایک دائمی اور مستقل پیمانہ قائم ہو جاتا ہے۔اور اُسی پیمانے سے جیتنے اُس کے ربط میں انسان آتے ہیں نا پنا شروع کر دیتا ہے۔ اپنے اپنے طور جو لیبل تیار کر رکھا ہے۔جیسا کے ”اچھا انسان“ ”بڑُرا انسان“ چسپا کر دیتا ہے۔ یہ ہر ایک انسان کااپنا ذاتی سند یا لیبل ہو تا ہے۔ اُس کے پاس جو لیبل یا سند ہے وہ معیاری ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے اپنی اپنی دلیل اور ثبوت وہ انسان پیش کرتا ہے۔ہماری حیات فانی میں ہمیں کچھ ایسے انسان اور شخصیت ملتے ہیں۔ جوہماری فانی حیات میں لافانی نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ایسے انسان یا شخصیت کو ہم تا حیات نہیں بھول پاتے۔اُن کی باتیں‘ یادیں‘اُن کا طرز عمل‘اُن کے عادات و اطواراخلاق ِحمیدہ‘پُر خلوص پیار و محبت اور بے لوث عشق ہماری بقیہ زندگی کے لیے خضرِ راہ بن جاتے ہیں۔ایسے ہی صفات سے معمور ایک شخصیت ہے جن نام ”سید حسین اختر“ ہے۔سید حسین اختر صاحب کی شخصیت باغ و بہار والی شخصیت ہے۔ حسین اختر صاحب کی شخصیت اُنہیں لوگوں کو متاثر کرتی ہیں‘ جن کے دل کی اتھاہ گہرایؤں میں اخلاص نیت کا سمندر موجزن ہے۔حسین اختر مہاراشٹر ااُردو اکیڈ می کے صدر عہدے پر فائز ہونے کے باوجود۔حسین اختر صاحب کو عہدے اور کرسی کا رائی کے دانے کے برابر بھی غرور تکبر نہیں ہے۔مجھے بھی کئی بار تجربہ اور مشاہدہ ہو گیا ہے۔ممکن ہے آپ کو بھی میری طرح تجربہ اور مشاہدہ ہو گیا ہوگا۔یعنی جو اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے ہیں۔وہ اپنے ماتحتوں کو عضوء معطل سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ ساتھ ہی جو لوگ اُن کی آؤ بھگت کرنے میں مصروف ہوتے ہیں اُنہیں بھی وہ کوئی بھی اہمیت نہیں۔یہ بڑے عہدے یا اعلیٰ کرسی پر جو فائز ہوتے وہ ایک طرح کی غلط فہمی میں اور عقل و شعور کے فقدان میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بڑے عہدے پر یا اعلیٰ کرسی پر جو متمکن ہو تے ہیں۔ جب اُن کے پاس سے عہدہ یا کرسی چلی جاتی ہے۔اُس وقت وہ کہتے ہیں۔ ”وائے نا دانی کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا‘ خواب تھا جو کچھ دیکھا‘ جو سنا افسانہ تھا۔“لیکن حسین اختر صاحب اس سراب سے بخوبی واقف ہے۔میں تو یہ محسوس کیا ہوں کہ‘غرور تکبر گھمنڈ اُن کی شخصیت کی صفات میں یہ صفات عنقا ہے۔اردو اکیڈمی کی صدر والی کرسی پر فائز ہونے سے قبل وہ اُردو کے بہترین قاری ہیں۔ مشہور و معارف قلم کارکو ہی نہیں جو نو آموز قلم کار ہو تے ہیں اُن کی تخلیقات کا بڑی دلچسپی اور انہماک سے مطالعہ کر تے ہیں۔ وہ مطالعے تک ہی محدود نہیں رہتے جن کی تخلیقات متاثر کرتے ہیں اُنہیں فون پر مبارک دبادی دے کر حوصلہ اور ہمت کے پنکھِ پرواز عطا کر تے ہیں۔ اس بات کا احساس مجھے اُس وقت ہوا جب میری پہلی مختصر ملاقات حسین اختر صاحب سے ہوئے تھی۔ گفتگو کے دوران کہنے لگے۔”رخ سے پردہ اُٹھا دے ذرا سا قیا بس ابھی رنگ محفل بدل جائے۔میں آپ کی کئی تخلیقات پڑھا ہوں‘ فون کرکے کئی بار مبارک بادی بھی دیا ہوں‘ شاید آپ کو یاد نہیں ہوگا۔۔۔۔آگے دھیرے سے حسین اختر صاحب کہے‘کیسے یاد رکھوگے آپ مشہور قلم کار ہو نا!۔“اتنا سنتے ہی میرا سارا شریر شرم کے پانی سے شرابور ہو گیا۔میں خجل اور منفعل جذبات سے لبریز کہا ایسا مت کہئے آپ صاحب۔۔۔ میں کیا!میری حقیقت کیا!یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم کے آپ جیسے قاری اللہ تعالیٰ نے میرے لیے پیدا کیا ہے۔میں اس بات سے انکار بھی نہیں کر سکتا کہ جب بھی تخلیق شائع ہوتی ہے مبارک بادی کے کئی فون آتے ہیں۔“اس پر حسین اختر معنی خیز انداز میں مسکراکر کہنے لگے۔”یہی تو میں آپ کو کہنے جار ہاہوں انگنت قاریوں کے درمیان مجھ ناچیز قاری کو کیسے یاد رکھیں گے۔“ اتنا سنتے ہیں میں شرم کی تحت الشعریٰ میں پہنچ گیا۔میری زبان گنگ ہو گئی۔قلم کاروں کے پاس الفاظو ں کا ذخیرہ ہوتا ہے۔لیکن میری حالت بیان کرنے کے لیے میرے پاس کوئی بھی الفاظ نہیں تھے‘ حسین اختر صاحب کو کیسے اور کس طرح کا جواب کو دوں‘میں سوچتا رہ گیا۔حسین اختر ہلکے سے ہنستے ہوئے کہنے لگے۔”چائے پی لیجئے جناب ٹھنڈی ہو جائے گی۔۔۔۔شکیل میاں میں بہت بڑا افسر نہیں ہوں‘ آپ اپنی ہچکیچاہٹ اور ڈر کو دل و دماغ سے نکال دیجئے گا۔کوئی انسان اگربڑے عہدے یا کرسی پر فائز ہے یہ تصور نہ کیجئے وہ انمول‘ بیش و قیمتی کوہ ِ نور ا ہیرا ہے۔میں کل بھی ایک انسان تھااور آج بھی ایک انسان ہوں۔جس طرح آپ کے جسمانی اعضاء ہیں ویسے ہی میرے جسمانی اعضاء ہیں۔ایسا مت خیال کیجئے کے میری شخصیت میں سُر خاب کے پر لگ گئے ہیں۔کیا ہے شکیل میاں۔۔۔۔یہ فانی دنیا ہے‘ قرآن میں متعدد بار اللہ تعالیٰ فرمایا ہے‘ ہر عروج کے بعد زوال ہے‘اور ہر زوال کے بعد عروج ہے۔بس جب تک ہم دنیا میں ہیں اُس وقت تک اسی بات کو ذہن میں رکھنی ہوگی۔اپنے طرز عمل سے کسی کا کوئی تقصان نہ ہو‘ جب تک دنیا میں رہو اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہچانتے رہو۔یہی مذہب ہے اور یہی انسان اور انسانیت کی معراج ہے۔“حسین اختر صاحب کی دل آویز‘دلکش باتیں سن کر میں سنگ مجسم بن گیا تھا۔ اس کے بعد اپنی سے اُٹھ کھڑے ہوتے ہوئے کہنے۔”چلو چلتے ہیں۔۔۔ مجھے ایک جگہ جانا ہے۔۔۔انشاء اللہ جب بھی اورنگ آباد آونگا‘ دوبارہ ملاقات کر ونگا۔۔۔اور ہاں جب میرے سے ملاقت کرو توبڑے چھوٹے کے تفرقے کو ذہن سے نکال کر ہی ملاقات کرنا۔انسان اور انسانیت کی جو صفاتیں ہیں اُنہیں صفاتوں کے ساتھ ملاقات کیجئے۔ورنہ میں ناراض ہو جاؤنگا۔وہ چائے کے پیسے ہوٹل کے کاؤنٹر پر دیتے ہوئے باہر نکل گئے۔یہ ہیں عظیم شخصیت کے مالک حسین اختر۔ میرے وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ حسین اختر سے میری دوبارہ ملاقات ہوگی۔لیکن میرے وہم و گمان ایک دن تار تار ہو گیا۔ یعنی میرے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے حسین اختر صاحب کی چہکتی آواز کانوں کے ذریعے سارے جسم میں سریت کر گئی۔”میں اورنگ آباد آچکا ہوں۔ لوکھنڈا کالج میں ایک پروگرام ہے‘ اُس میں شریک ہو کر سیدھے آپ کے پاس آتا ہوں۔“ وعدہِ وفا نبھاتے ہوئے بے لوث پیار و محبت اور باوفائی کی مورت بنے حسین اختر صاحب میرے غریب خانے تشریف لائے۔ میں اپنی استطاعت کے مطابق مہمان نوازی میں مصروف ہونے لگا تو کہنے لگے۔ ”مہمان نوازی سے زیادہ اخلاص نیت اہمیت رکھتی ہے۔کیونکہ اپنے مذہب میں اخلاص نیت ایسی ہی ضروری ہے جیسے انسانی جسم کو متحرک رکھنے کا کام روح کرتی ہے۔ اپنے مذہب کے ہر ایک عمل میں اخلاص نیت کی اہمیت ہے۔بس آج کل کے مسلمان اس منطق اور فلسفے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔جس کی وجہ سے گروہو بندی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔جس کی وجہ گدرت‘نفرت‘عداوت اور دشمنی کے ناقابل تسخیر قلعے وجو د میں آگئے ہیں۔“ اس کے بعد میں نے ان کی خدمت میں اپنی کتاب”سرگوشیاں“ پیش کیا اس کے بعدمیری سلطان اختر صاحب پر مرتب کی گئی کتاب”اُردو کا مسافر: سلطان اختر“ پیش کیا۔ کتابیں دیکھ کر اُن کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔ میں اپنی جگہ کھڑا سوچ رہا تھا۔ کیا حسین اختر صاحب کی اخلاص نیت سے بھر پور مسکراہٹ کو کوئی محسوس کرپا ئے گا؟ کیا وعدہِ وفا کی مورت‘ حسین اختر کی بے لوث مسکراہٹ کو اپنے روح میں محسوس کرپائے گا؟اسی جذبے اور فلسفے کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے۔ ”جب اُسے ڈھونڈے نکلے تو نشاں تک نہ ملا‘ دل میں موجود رہا آنکھ سے اوجھل نکالا۔
Comments
Post a Comment