افسانچہ - آنکھیں انہیں سے چار ہوئیں - بقلم : محمود علی لیکچرر -


افسانچہ - آنکھیں انہیں سے چار ہوئیں - 
بقلم : محمود علی لیکچرر - 

رات خاموش تھی۔ فضا پر ہلکی چاندنی کا راج تھا۔ باغ کے پھول اپنی خوشبو بکھیر رہے تھے، آبشار کا نغمہ دل کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ تھا اور پرندوں کی مدھم چہچہاہٹ فطرت کے ساز میں ایک نئی لے پیدا کر رہی تھی۔

پھولوں کی خوشبو میں محبت کی مہک کو محسوس کرنا ہر شخص کے مقدر میں نہیں ہوتا۔ یہ وہ لطیف کیفیت ہے جو صرف خوش نصیب دلوں کو نصیب ہوتی ہے، جہاں جذبات کی پاکیزگی، خوابوں کی روشنی اور محبت کی خاموش سرگوشیاں ایک ساتھ جنم لیتی ہیں۔

آریان اسی دلکش منظر میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک اسے محسوس ہوا، سفید لباس میں ملبوس ایک حسین دوشیزہ دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا نام ماہ نور تھا۔ اس کے ہاتھوں میں تازہ پھولوں کا ایک نازک ہار تھا، جس کی مہک فضا میں گھلتی جا رہی تھی۔

دونوں کی نظریں ملیں تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے اپنی رفتار روک دی ہو۔ نہ کوئی لفظ ادا ہوا، نہ کوئی وعدہ کیا گیا، مگر آنکھوں نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو زبانیں برسوں میں بھی ادا نہیں کر سکتیں۔

ماہ نور مسکرائی محبت سے پھولوں کا ہار آریان کے گلے میں ڈال دیا اور آہستہ سے بولی

"محبت صرف ملنے کا نام نہیں، دلوں کے یقین کا نام ہے۔

آریان نے بے اختیار اس کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر وہ چاندنی میں تحلیل ہونے لگی پھولوں کی خوشبو اور بھی گہری ہو گئی، آبشار کی آواز مدھم پڑ گئی اور پرندوں کی چہچہاہٹ یکایک خاموشی میں ڈھل گئی۔

اسی لمحے...

دھڑام!

کمرے میں کسی چیز کے گرنے کی زور دار آواز گونجی۔

آریان گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے پریشانی سے اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک بلی میز سے ٹکرا کر گلدان گرا چکی تھی۔ بلی کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا چکی تھی مگر خواب کی خوشبو اب بھی کمرے میں محسوس ہو رہی تھی۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
اصل میں وہ سب ایک خواب تھا۔
صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر داخل ہوئی۔ آریان نے بے اختیار باہر دیکھا تو سامنے سڑک پر دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی ہوئی ایک لڑکی نظر آئی۔ وہی سفید لباس وہی دلکش انداز وہی چہرہ...
ماہ نور!
چند لمحوں کے لیے وقت ایک بار پھر ٹھہر گیا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور واقعی آنکھیں انہیں سے چار ہوئیں۔
آریان کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ آہستہ آہستہ گنگنانے لگا
دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا.
ماہ نور نے نگاہیں جھکا کر ایک ہلکی سی مسکراہٹ بکھیری جیسے خواب نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہو۔
آریان نے دل ہی دل میں سوچا
"بعض خواب صرف نیند میں نہیں دیکھے جاتے کچھ خواب جاگتی آنکھوں سے بھی اپنی تعبیر پا لیتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔