سابق رکنِ راجیہ سبھا ڈاکٹر فوزیہ خان کے اعزاز میں شاندار استقبالیہ تقریب۔عوامی خدمت، تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں ڈاکٹر فوزیہ خان کا کردار قابلِ تقلید: سید حسین اختر۔


اورنگ آباد:(نامہ نگار)سابق رکنِ راجیہ سبھا اور معروف سماجی و تعلیمی شخصیت ڈاکٹر فوزیہ خان کے اعزاز میں گزشتہ شام مولانا ابوالکلام آزاد ریسرچ سینٹر، اورنگ آباد میں ایک شاندار استقبالیہ تقریب کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ خان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب کی صدارت مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر اور بی سی یو ڈی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر ارتکاز افضل نے مشترکہ طور پر کی۔ اس موقع پر جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم کے صدر حاجی عبدالجبار، ایورسٹ ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالغفار قادری، ڈاکٹر رفیق ذکریا کالج فار ویمن کے پرنسپل ڈاکٹر مقدوم فاروقی، ماہرِ تعلیم فیاض خان، مولانا محفوظ الرحمٰن فاروقی، فاروق مجتبیٰ، ایم۔ اے۔ پٹھان، ونچت بہوجن آغاڑی کے قائد و سابق کارپوریٹر جاوید قریشی، سینئر رہنما مولانا عبدالقادر، سابق ڈپٹی میئر توقی حسن خان سمیت دیگر معززین خصوصی طور پر موجود تھے۔تقریب کے آغاز میں شہر کے معروف شاعر شمیم خان نے ڈاکٹر فوزیہ خان کی سماجی، تعلیمی اور سیاسی خدمات کے اعتراف میں ایک خوبصورت تہنیتی نظم پیش کی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ بعد ازاں اس نظم کو خوبصورت فریم کی شکل میں ڈاکٹر فوزیہ خان کو بطور یادگار تحفہ پیش کیا گیا۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ خان کی عوامی خدمت، تعلیمی میدان میں ان کی کاوشوں اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ خان نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل، خواتین کی تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔مہاراشٹر راجیہ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے چیئرمین سید حسین اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ خان کی عوام کے تئیں خدمات بے لوث اور قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان میں رہتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ خان نے ہمیشہ سماجی ذمہ داریوں کو ترجیح دی اور تعلیم، خواتین کی ترقی اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے مسلسل کام کیا۔ ان کی شخصیت خدمت، اخلاص اور عوامی وابستگی کی روشن مثال ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا راستہ تعلیم اور تحقیق سے ہوکر گزرتا ہے، اس لیے ایسے افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جو نئی نسل کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔تقریب میں سائنس، فارمیسی، انجینئرنگ اور دیگر مختلف شعبوں میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرنے والے 13 نوجوان محققین کی بھی تہنیت کی گئی اور انہیں گلپوشی کے ذریعے مبارک باد پیش کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ارتکاز افضل اور رضوان اللہ کی تصنیف کردہ کتابوں کی رسمِ اجرا بھی انجام پائی۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر فوزیہ خان نے منتظمین اور شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو تعلیم، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ و نوجوانوں کو محنت، عزم اور علم کے راستے پر آگے بڑھنے کی تلقین کی۔تقریب کی کامیابی میں خالد سیف الدین، محمد وسیلہ، ڈاکٹر عرفان، رؤف خان، جمیل احمد اور دیگر ذمہ داران نے اہم کردار ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ابوبکر رہبر اور ڈاکٹر سہیل ذکی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔تقریب میں شہر کے دانشوروں، ادیبوں، ماہرینِ تعلیم، سماجی کارکنوں اور معزز شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور ڈاکٹر فوزیہ خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔