طلبہ کی آواز، گنگا جمنی تہذیب اور جمہوریت کا امتحان - ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
طلبہ کی آواز، گنگا جمنی تہذیب اور جمہوریت کا امتحان -
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
(صحافی، سماجی تجزیہ نگار)
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، جہاں عوام کو اپنی بات آئینی اور پرامن انداز میں رکھنے کا حق حاصل ہے۔ گزشتہ دنوں ملک میں طلبہ کی جانب سے تعلیم، شفاف امتحانی نظام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہونے والے احتجاج نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ نوجوانوں کی آواز کو کس انداز میں سنا جانا چاہیے۔ یہ احتجاج صرف چند طلبہ کا نہیں بلکہ اس نسل کے مستقبل اور امیدوں کی ترجمانی بن گیا۔
20 جولائی کو احتجاج نے اس وقت سنگین صورت اختیار کر لی جب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس کارروائی میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے، جس سے ملک بھر میں تشویش اور غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے عوام کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ نوجوانوں کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں ہے یا سنجیدہ مکالمے میں۔
اس احتجاج کے دوران ایک ایسا منظر بھی سامنے آیا جس نے ہر حساس دل کو متاثر کیا۔ بعض طلبہ نے پولیس اہلکاروں سے مخاطب ہو کر کہا: "شیم شیم... کیا آپ کے بھی بچے نہیں ہیں؟ کیا ہمارے مستقبل کی کوئی قیمت نہیں؟" یہ الفاظ صرف ایک نعرہ نہیں تھے بلکہ ایک پوری نسل کی بے بسی اور امید کی پکار تھے۔ اطلاعات کے مطابق بعض پولیس اہلکار بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے اور افسوس کا اظہار کیا۔ یہ منظر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پولیس اہلکار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، اور ان کے اپنے گھروں میں بھی نوجوان مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔
اس واقعے کے بعد کانگریس کے طلبہ ونگ نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 24 گھنٹے کی مہلت دی۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ تعلیمی معاملات میں پیدا ہونے والی صورتحال کی اخلاقی ذمہ داری قبول کی جائے۔ حکومت نے استعفے کی راہ اختیار نہیں کی بلکہ وزیرِ تعلیم پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اس سے سیاسی بحث مزید تیز ہوئی، لیکن اصل سوال آج بھی وہی ہے کہ ملک کے نوجوانوں کا مستقبل کیسے محفوظ بنایا جائے۔
اس پوری تحریک کا سب سے روشن پہلو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب تھی۔ احتجاجی مقام پر ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بلاامتیاز طلبہ کی خدمت کی۔ کسی نے کھانا تقسیم کیا، کسی نے پانی پلایا، کسی نے طبی امداد فراہم کی۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے یا تم کس سیاسی جماعت سے وابستہ ہو۔ سب نے صرف یہ دیکھا کہ یہ ہمارے ملک کے نوجوان ہیں اور ان کی مدد کرنا انسانیت کا تقاضا ہے۔
خاص طور پر جنید نامی نوجوان کا کردار قابلِ تحسین رہا، جس نے احتجاج کے دوران آنے والے ہر شخص کے لیے مفت کھانے کا انتظام کیا۔ اس نے کسی سے مذہب، ذات یا سیاسی وابستگی نہیں پوچھی۔ اس کا عمل اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت محبت، خدمت، رواداری اور بھائی چارے میں پوشیدہ ہے۔
گزشتہ برسوں میں ملک کے سماجی ماحول کے بارے میں مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اس احتجاج نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ جب نوجوانوں کے مستقبل اور قومی مفاد کا سوال سامنے آتا ہے تو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ہر قسم کی تقسیم سے بڑی ثابت ہوتی ہے۔ یہی وہ روایت ہے جس نے آزادی کی جدوجہد میں بھی ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام برادریوں کو ایک ساتھ کھڑا کیا تھا۔
اسی دوران لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم سونم وانگچک نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ صرف احتجاج کی ایک شکل تبدیل ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے مطالبات، خصوصاً لداخ کے عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کے سلسلے میں حکومت کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر سنجیدہ پیش رفت نہ ہوئی تو آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ایسے حالات میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا وہ تاریخی جملہ بے اختیار یاد آتا ہے:
"حکومتیں آئیں گی، جائیں گی، پارٹیاں بنیں گی، بگڑیں گی، مگر یہ ملک رہنا چاہیے، اس ملک کی جمہوریت زندہ رہنی چاہیے۔"
یہی پیغام آج بھی ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے نظریات رکھ سکتی ہیں، اختلاف بھی جمہوریت کا حسن ہے، لیکن ملک، آئین، نوجوانوں کا مستقبل اور قومی یکجہتی ہر سیاسی مفاد سے بالاتر ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، اپوزیشن، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور عوام مل کر نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کریں۔ احتجاج کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوری آواز سمجھا جائے، اور مسائل کا حل مکالمے، شفافیت اور انصاف کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ یہی ہندوستان کی جمہوری روح ہے، یہی گنگا جمنی تہذیب کا پیغام ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ملک کو مزید مضبوط، متحد اور ترقی یافتہ بنا سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment