اقبال فہمی - (قسط اوّل) ہمالہ استقامت حیات اور خودی کا پہلا استعارہ - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔


اقبال فہمی  - (قسط اوّل) 
ہمالہ استقامت حیات اور خودی کا پہلا استعارہ - 
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔

علامہ محمد اقبال کی شاعری کا مطالعہ اگر صرف ادبی ذوق تشبیہات اور استعارات تک محدود رکھا جائے تو ان کے کلام کا ایک بڑا حصہ نگاہوں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ اقبال درحقیقت ایسے مفکر ہیں جنہوں نے شاعری کو اپنی فکر کی اشاعت ملت اسلامیہ کی بیداری اور انسان کی روحانی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ اسی لیے ان کی ہر نظم اپنے اندر ایک مستقل فکری نظام رکھتی ہے جس کے پس منظر میں قرآن حکیم سنت نبوی اسلامی حکمت مولانا روم کی معنویت اور خود اقبال کا فلسفۂ خودی جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔ نظم ہمالہ بھی اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ بظاہر یہ ایک بلند و بالا پہاڑ کی مدح معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں اقبال اس کے ذریعے ثبات عزت حرکت اور روحانی بلندی کا وہ تصور پیش کرتے ہیں جو آگے چل کر ان کی پوری فکر کی بنیاد بن جاتا ہے۔
اقبال فرماتے ہیں
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
ہمالہ کو فصیل کشور ہندوستاں کہنا محض جغرافیہ بیان کرنا نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور اخلاقی حقیقت کو علامت کے قالب میں پیش کرنا ہے۔ فصیل ہمیشہ حفاظت وقار اور استقامت کی علامت رہی ہے۔ اقبال گویا یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جس قوم کے پاس کردار کی مضبوطی ایمان کی پختگی اور اصولوں پر ثابت قدمی کی فصیل موجود ہو دنیا کی کوئی طاقت اسے آسانی سے مغلوب نہیں کرسکتی۔ اس مقام پر شاعر کا خطاب اگرچہ ایک پہاڑ سے ہے لیکن اس کے اصل مخاطب انسان ہیں بالخصوص وہ ملت جسے اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کرنی ہے۔
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں میں آسمان کا جھکنا کسی بے جان منظر کی تصویر نہیں بلکہ اس حقیقت کا استعارہ ہے کہ عظمت ہمیشہ عظمت کو سلام کرتی ہے۔ جو وجود اپنے مقصد پر قائم رہے اور زمانے کے نشیب و فراز کے باوجود اپنے مقام سے نہ ہٹے فطرت بھی اس کے وقار کا اعتراف کرتی ہے۔ قرآن مجید نے پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت حکمت اور زمین کے استحکام کی نشانی قرار دیا ہے۔ اقبال اسی قرآنی شعور کو شعری پیرایے میں ڈھال کر انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پہاڑ کی مضبوطی سے اپنے کردار کی مضبوطی کا سبق حاصل کرے۔
پھر شاعر کہتا ہے
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
یہاں اقبال ایک نہایت لطیف مگر انقلابی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہمالہ بے شمار زمانوں کا گواہ ہے مگر اس کے وجود پر فرسودگی کی کوئی علامت نہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ زمانہ اس پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اس لیے کہ اس کی حقیقت استقامت توازن اور اپنی اصل پر قائم رہنے میں ہے۔ اقبال کے نزدیک جوانی عمر کا نام نہیں بلکہ تازگی حرکت عزم اور مقصد سے وابستگی کا نام ہے۔ یہی تصور آگے چل کر فلسفۂ خودی کی صورت اختیار کرتا ہے جہاں انسان کی اصل زندگی اس کے ایمان عمل اور مسلسل ارتقا میں پوشیدہ قرار پاتی ہے۔
یہ شعر امت مسلمہ کے لیے بھی ایک خاموش پیغام رکھتا ہے۔ قومیں اس لیے بوڑھی نہیں ہوتیں کہ ان کی تاریخ طویل ہوجاتی ہے بلکہ اس وقت ان پر بڑھاپا طاری ہوتا ہے جب ان کے اندر فکر کی تازگی عمل کی حرارت علم کی جستجو اور ایمان کی روشنی ماند پڑ جائے۔ اس کے برخلاف جو قوم اپنے اصولوں سے وابستہ رہے ہر دور کے تقاضوں کو سمجھے اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنائے وہ زمانے کی گردش کے باوجود جوان رہتی ہے۔ یہی وہ فکر ہے جسے اقبال بعد میں زندگی حرکت ہے اور خودی کے مختلف مباحث میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
یہ بھی قابل توجہ ہے کہ اقبال نے نظم کا آغاز کسی بادشاہ فاتح یا سیاسی رہنما سے نہیں کیا بلکہ ایک پہاڑ سے کیا۔ اس انتخاب میں بھی ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ اقبال کی نگاہ میں قوموں کی حقیقی عظمت افراد کے عارضی اقتدار سے نہیں بلکہ ان دائمی اصولوں سے وابستہ ہوتی ہے جن پر تہذیبیں قائم رہتی ہیں۔ ہمالہ انہی دائمی اصولوں کی علامت ہے۔ وہ خاموش ہے مگر اس کی خاموشی صدیوں سے انسان کو استقامت وقار بلندی اور استقلال کا سبق دے رہی ہے۔
اسی لیے نظم کے یہ ابتدائی اشعار محض منظر نگاری نہیں بلکہ اقبال کے پورے فکری نظام کا تمہیدی اعلان ہیں۔ ان میں وطن سے محبت بھی ہے فطرت سے وابستگی بھی لیکن ان دونوں سے بڑھ کر انسان کو اپنی باطنی قوت پہچاننے اپنے کردار کو پہاڑ کی طرح مضبوط بنانے اور قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر ثابت قدم رہنے کی دعوت ہے۔ یہی زاویۂ نظر اقبال کو محض ایک قومی شاعر نہیں بلکہ امت کا مفکر اور قرآن کے پیغام کا جدید شارح بنا دیتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔