سورۂ الفاتحہ اور ہمارے عہد و پیماں۔۔ ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
سورۂ الفاتحہ اور ہمارے عہد و پیماں۔
ازقلم : پروفیسر مختارفرید، بھیونڈی مہاراشٹرا۔
آج ہم ایک ایسے موضوع پر گفتگو کرنے جا رہے ہیں جو سورۂ فاتحہ کے بارے میں ہماری سمجھ کو اس کی اصل بنیادوں تک واپس لے جاتا ہے۔ ہم قرآنی دلائل کی روشنی میں یہ واضح کریں گے کہ یہ عظیم سورت محض ایک دعا نہیں جسے ہم ہر نماز میں دہراتے ہیں، بلکہ یہ ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک مکمل عہد و میثاق ہے۔ ایسا عہد جس میں ہماری طرف سے تین بنیادی شرائط پر قائم رہنے کا اقرار شامل ہے، اور یہی وہ تین شرائط ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخلے کے لیے مقرر فرمایا ہے۔
ہم یہ بھی واضح کریں گے کہ سورۂ فاتحہ کا ہر جملہ اس عہد کے ایک بنیادی رکن کی نمائندگی کرتا ہے۔
عہد و میثاق کا تصور اللہ کی کتاب میں کوئی اجنبی بات نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیا تھا اور ان سے پہلے آنے والی امتوں سے بھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ہم سے بھی کوئی عہد لیا ہے؟
اس کا جواب ہے: جی ہاں۔ اور یہ عہد خود سورۂ فاتحہ میں موجود ہے۔ ہم ہر مرتبہ نماز میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں، اگرچہ ہم میں سے اکثر لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہوتے۔
آئیے، اب اس عہد کے بنیادی ارکان کو ایک ایک کرکے سمجھتے ہیں۔
اس عہد کا پہلا رکن اللہ پر ایمان ہے، اور اس کا اظہار سورۂ فاتحہ کے ان الفاظ میں ہوتا ہے:
"اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ"
قرآن کی زبان میں حمد صرف شکر گزاری کا نام نہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، بلکہ حمد کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان اس حقیقت کا اقرار کرے کہ اللہ ہی ایک معبودِ برحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
اسی مفہوم کی وضاحت سورۂ بنی اسرائیل (الإسراء) میں بھی ملتی ہے، جہاں فرمایا گیا ہے:
"اور کہہ دو: تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے، اور وہ قادر مطلق ہے، اس کا کوئی مددگار ہے۔"
اس طرح یہاں حمد کا تعلق خالص توحید سے جوڑ دیا گیا ہے۔
یعنی اللہ نہ کسی کا باپ ہے، نہ اس کا کوئی بیٹا ہے، نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔
لہٰذا جب ہم کہتے ہیں:
"الحمد للہ رب العالمین"
تو ہم اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں کہ تمام جہانوں کا رب صرف اللہ ہی ہے۔
یہی اس عہد کی پہلی شرط ہے، یعنی اللہ پر ایمان۔
دوسرا رکن یومِ آخرت پر ایمان ہے، اور اس کا اظہار ان الفاظ میں ہوتا ہے:
"مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ"
یعنی جب ہم اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر لیتے ہیں تو اس کے بعد یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہی جزا و سزا کے دن کا مطلق مالک ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ ایک دن ضرور آئے گا جب تمام انسان اپنے اعمال کا حساب دیں گے، اور اللہ تعالیٰ ہی اس دن کا واحد اور مطلق حاکم ہوگا۔
اس طرح سورۂ فاتحہ کی ان دو آیات کے ذریعے ہم نجات کی پہلی دو بنیادی شرائط کا اقرار کرتے ہیں:
اللہ پر ایمان۔
یومِ آخرت پر ایمان۔
اب آتے ہیں تیسرے اور عملی لحاظ سے سب سے اہم رکن کی طرف۔
یہ ہے عملِ صالح کا عہد، اور اس کا اظہار سورۂ فاتحہ کے اس عظیم اعلان میں ہوتا ہے:
"إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ"
یعنی:
"ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔"
یہاں ہمیں کچھ دیر رک کر غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس آیت کے اندر دو ایسے بنیادی تصورات کے درمیان نہایت باریک فرق بیان کیا گیا ہے جنہیں اکثر لوگ ایک ہی سمجھ لیتے ہیں۔ یہ دو تصورات عبادت اور استعانت ہیں۔
قرآن کی زبان میں عبادت کا مفہوم محض چند مذہبی رسومات ادا کرنا نہیں، بلکہ زمین میں اصلاح قائم کرنا ہے۔ اس معنی کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس گفتگو کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو انسان کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان ہوئی، جیسا کہ سورۂ بقرہ میں بیان ہوا ہے:
"اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، تو انہوں نے کہا: کیا تو اس میں ایسے کو پیدا کرے گا جو زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا، جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں؟"
فرشتوں کی تشویش زمین میں فساد اور خونریزی کے بارے میں تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان سے مطلوب اس کے بالکل برعکس کام ہے، یعنی زمین میں اصلاح قائم کرنا اور انسانی جانوں کی حفاظت کرنا۔ یہی درحقیقت عبادت کا جوہر ہے۔
لہٰذا جب ہم کہتے ہیں: "إِيَّاكَ نَعْبُدُ" (ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں) تو ہم دراصل اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی کتاب میں مقرر کردہ حدود اور اصولوں کے مطابق زمین میں اصلاح کریں گے۔
یہ مفہوم سورۂ ذاریات کی اس آیت سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے:
"اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔"
اس اعتبار سے انسان کی تخلیق کا مقصد عبادت ہے،اور لفظ عبادت، عبد سے بنا ہے جیسے ہم عام فہم زبان میں غلام کہیں گے، جومالک کا ہر حکم بجا لاتا ہے، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، ہمارے تخلیق کا مقصد زمین میں اصلاح ہے، نہ کہ صرف ظاہری عبادات کی ادائیگی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ نیک عمل جو زمین کی اصلاح کرے، فساد کو روکے، انسانوں کی بھلائی کا سبب بنے، خواہ وہ علم کے میدان میں ہو، محنت و تعمیر میں ہو یا لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے کی صورت میں، وہ اللہ کی عبادت ہے۔
اس کے برعکس استعانت، جیسا کہ ہم کہتے ہیں: "وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" (اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں)، عبادت سے ایک الگ تصور ہے۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ استعانت کن ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے۔ سورۂ بقرہ میں فرمایا گیا:
"صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، اور بے شک یہ (نماز) خشوع رکھنے والوں کے سوا سب پر بھاری ہے۔"
اس سے معلوم ہوا کہ نماز استعانت کا ذریعہ ہے، عبادت نہیں، اس مفہوم کے مطابق جسے ہم بیان کر رہے ہیں۔
یہ فرق نہایت اہم ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز وہ ذریعہ ہے جو انسان کو حقیقی عبادت، یعنی زمین میں اصلاح، انجام دینے کی قوت عطا کرتی ہے۔
اسی حقیقت کی تائید سورۂ عنکبوت کی اس آیت سے ہوتی ہے:
"بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔"
چونکہ بے حیائی اور برائی دراصل اصلاح کے برعکس اور فساد کی صورتیں ہیں، اس لیے نماز انسان کو فساد سے بچا کر اصلاح کی راہ پر قائم رکھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
اسی طرح روزہ بھی استعانت کے ذرائع میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔"
روزے کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے، اور تقویٰ کی اصل روح اللہ کی حدود کی پابندی کرتے ہوئے فساد سے بچنا اور اصلاح کو اختیار کرنا ہے۔
اس طرح روزہ بھی نماز کی طرح ایک ایسا ذریعہ ہے جو انسان کو حقیقی عبادت، یعنی زمین میں اصلاح، انجام دینے میں مدد دیتا ہے۔
اس کے بعد ہم اس عہد کے اگلے حصے کی طرف آتے ہیں:
"اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ"
یعنی: "ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔"
اب سوال یہ ہے کہ یہ صراطِ مستقیم کیا ہے؟
خود قرآن اس سوال کا جواب سورۂ انعام میں دیتا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ ان بنیادی احکام کا ذکر فرماتا ہے: شرک سے بچنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، اولاد کو غربت کے خوف سے قتل نہ کرنا، کھلی اور چھپی بے حیائیوں سے دور رہنا، ناحق کسی جان کو قتل نہ کرنا، یتیم کے مال کی حفاظت کرنا، ناپ تول میں انصاف کرنا، عدل کی گواہی دینا اور اللہ کے عہد کو پورا کرنا۔یہ تین آیات (6:151–153) اس قدر جامع ہیں کہ بہت سے علماء انہیں قرآن کے بنیادی اخلاقی اور معاشرتی احکام کا خلاصہ قرار دیتے ہیں۔
پھر انہی احکام کے اختتام پر فرمایا:
"اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔"
لہٰذا صراطِ مستقیم وہی راستہ ہے جو اللہ نے اپنی حدود، احکام اور اخلاقی اصولوں کی صورت میں بیان فرمایا ہے۔ اگر ہم ان کی پیروی کریں تو ہماری زندگی درست ہوگی، زمین میں اصلاح قائم ہوگی اور ہماری حقیقی عبادت بھی مکمل ہوگی۔
جب ہم دعا کرتے ہیں:
"صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ"
تو ہم اس راستے کی ہدایت مانگتے ہیں جس پر اللہ کے انعام یافتہ بندے چلے۔
قرآن سورۂ نساء میں ان کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین، اور یہ کتنے بہترین ساتھی ہیں۔"
پس اللہ کے انعام یافتہ لوگ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں، اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں انہی کا راستہ عطا کرے، نہ کہ ان لوگوں کا جن پر غضب ہوا یا جو گمراہ ہوگئے۔
اب جب ہم سورۂ فاتحہ کے اس پورے عہد پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل انہی تین بنیادی شرائط پر مشتمل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں جنت کے استحقاق کی بنیاد قرار دیا ہے:
"بے شک جو لوگ ایمان لائے، اور جو یہودی ہوئے، اور عیسائی، اور صابئین، ان میں سے جو بھی اللہ پر، یومِ آخرت پر ایمان لایا اور نیک عمل کرتا رہا، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے، نہ انہیں کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
یہ تین شرائط ہیں:
اللہ پر ایمان۔
یومِ آخرت پر ایمان۔
نیک عمل۔
یہی تینوں شرائط سورۂ فاتحہ میں بھی موجود ہیں:
الحمد للہ رب العالمین — اللہ پر ایمان۔
مالک یوم الدین — آخرت پر ایمان۔
إياك نعبد وإياك نستعين — نیک عمل، زمین میں اصلاح، اور اس کے لیے اللہ سے مدد طلب کرنا۔
اس آیت کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ شرائط صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ یہودیوں، عیسائیوں اور صابئین سمیت ہر اس شخص کے لیے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے، آخرت پر یقین رکھے اور نیک عمل کرے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا عہد اور اس کی رحمت کسی ایک قوم یا گروہ تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو ان تین بنیادی اصولوں کو اختیار کرے۔ اللہ کے نزدیک اصل معیار کسی مخصوص جماعت یا مذہبی شناخت سے وابستگی نہیں، بلکہ ایمان اور عملِ صالح ہے۔
لہٰذا، عزیزو! جب ہم اپنی نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھتے ہیں تو ہم محض چند الفاظ نہیں دہراتے، بلکہ ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ ہم اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں، یومِ حساب پر ایمان کی تجدید کرتے ہیں، زمین میں اصلاح کا عزم کرتے ہیں، اس مقصد کے لیے اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اس کے سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت طلب کرتے ہیں۔
اسی لیے سورۂ فاتحہ قرآن کی عظیم ترین سورت ہے، کیونکہ یہ انسان اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو چند واضح اور جامع اصولوں میں سمیٹ دیتی ہے۔
جب ہمیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ سورۂ فاتحہ محض ایک دعا نہیں بلکہ اللہ کے ساتھ ایک عہد و میثاق ہے، تو اسے پڑھنے کا ہمارا انداز بھی بدل جاتا ہے۔ پھر ہم اسے جلدی جلدی نہیں پڑھتے بلکہ ہر آیت کو اس شعور کے ساتھ ادا کرتے ہیں کہ ہم اپنے خالق کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کر رہے ہیں۔
ہم اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں، آخرت کو اپنا انجام تسلیم کرتے ہیں، عملِ صالح کو اپنی زندگی کا طریقہ بناتے ہیں اور صراطِ مستقیم کو اپنا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
اس طرح سورۂ فاتحہ صرف سات آیات میں پورے دین کا جامع خلاصہ پیش کر دیتی ہے۔
پروفیسر مختارفرید ، بھیونڈی مہاراشٹرا
Comments
Post a Comment