کوا، کبوتر اور طوطا - کہانی (ادب اطفال)۔ ازقلم : ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا۔
کوا، کبوتر اور طوطا -
کہانی (ادب اطفال)
ازقلم : ستار فیضی کڈپوی آندھرا پردیش انڈیا۔
پیارے بچو!
آپ نے ایک کوا پیاسا تھا. منظوم کہانی سنی ہوگی. اسی طرح سے کبوتر شکاری کی جال کی کہانی بھی سنی ہوگی جو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتی ہے. ایک اور نئی کہانی آج پڑھیں گے.
جنگل میں خونخوار اور پالتو جانوروں کے علاوہ مختلف قسم کے پرندے بھی رہتے ہیں. جن میں چیل، باز، فاختہ مور، مرغا، موغی. چڑیا، کوا، کبوتر، طوطا، کوئل، بلبل، مینا سارس، بطخ،.گدھ،ہنس، بٹیر، تیتر، شترمرغ، چکور، الو، چمگاڈر، پپیہا، ابابیل کیوی، قاز، روبن، ہدہد، بگلا پینگوئن، عقاب شکر خوار، رام چڑیا، ماہی خور پرندہ وغیرہ تھے . پرندوں کے بغیر جنگل ادھورا ہوتا ہے ان کی مختلف آوازوں سے جنگل کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے. ان پرندوں کی صورتیں، آوازیں، رنگ، جسامت، قدوقامت الگ الگ ہوا کرتی ہیں. چند پرندے زمین پر رہتے ہیں اور چند آسمان پر اڑتے ہیں. اسی جنگل کے ایک پیڑ پر کوا، کبوتراور طوطا رہتے تھے. تینوں میں دوستی تھی. کوا اپنے کالے رنگ سے مایوس اور غمگین رہتاتھا. اور وہ احساس کمتری میں مبتلا رہتاتھا. کبوتر اور طوطا اپنے اپنے رنگوں پر ناز ہی نہیں بلکہ غرور و گھمنڈ بھی کرتے تھے. جنگل کے پرندوں کی رانی کوئل کہتی تھی کہ ہم سب پرندوں قدرت کی حکمت
مضمر ہے. کوئی بڑا کوئی چھوٹا قدرت کی نشانی ہے. بولیوں اور رنگوں سے کسی کو کسی پر فوقیت اور فضیلت نہیں ہے. میری آواز تو سریلی ہے. میرا رنگ اتنا دلکش نہیں ہے. کوے کو منحوس کہنا اس کے کالے رنگ کو برا بھلا کہنا اچھی بات نہیں ہے. ہر پرندے میں منفی مثبت دونوں پہلو ہوتے ہیں. عاجزی انکساری انسانوں میں ہی نہیں پرندوں اور جانوروں میں بھی ہونا لازمی ہے.
خوبصورت کبوتراور طوطے شکارپورں کے جال میں کبھی کبھی پھنس جاتے ہیں. اکثر کبوتراور طوطے اپنی دلکشی سے بچوں اور بڑوں کا دل لبھاتے ہیں.ایک دن شکاری جنگل میں غلیل سے دو تین طوطوں کو زخمی کیا اور انہیں بازار میں لےجاکر فروخت کردیا. ایک طوطے کو خریدار نے اپنے بچے کی ضد پر خرید کر طوطے کوگھر لے گیا. اسے پنچرے میں رکھ کر پالنے لگا. ایک دن اس کا دوست کوا وہاں پہنچ کر حال دریافت کیا. طوطے کو احساس ہوا کہ خوبصورتی اور رنگینی بھی کبھی کبھی وبال جان بن جاتی ہے. دوسرے عام اور بدصورت پرندوں کو کیوں نہیں پالتے اور کیوں قید نہیں کرتے. یہ سوال کا سوال ہی رہ گیا.
چند پرندوں کو پنجروں میں بند کرکے پالنے کا شوق پورا کرنے والے غور سے سنو!
پرندوں کو قید کرنا ان کی آزادی جھین کر آنہیں تکلیف دینا غمزدہ کرنا اچھی بات نہیں ہے.
Comments
Post a Comment