ایس آئی آر عمل فوری طور پر منسوخ کیا جائے بیدر میں سیاہ پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج، انتخابی کمیشن کو یادداشت پیش۔


بیدر۔ یکم ۔ جولائی( نامہ ںگارمحمد عبدالصمد)۔ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایس آئی آر مخالف عوامی تحریک کمیٹی، مختلف سیکولر سیاسی جماعتوں اور عوامی تنظیموں کی جانب سے ضلع کلکٹریٹ کے سامنے سیاہ پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج کیا گیا۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ایس آئی آر عمل جمہوری اقدار کے منافی ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں غریب اور محروم طبقات اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ احتجاج کے بعد کمیٹی کے عہدیداروں نے ریاستی چیف الیکشن آفیسر وی۔ انبو کمار کے نام ایک مطالباتی یادداشت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیوانند بی۔ کرالے کو پیش کی۔ اس موقع پر ایس آئی آر مخالف عوامی تحریک کمیٹی کے کنوینر شریکانت سوامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی کا موجودہ طریقۂ کار عوام دشمن اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے صرف محدود دستاویزات کو ہی قابلِ قبول قرار دیا گیا ہے، جبکہ راشن کارڈ، آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور ووٹر شناختی کارڈ جیسے عام اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے دستاویزات کو تسلیم نہ کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے غریب، دلت، پسماندہ طبقات اور خواتین کی بڑی تعداد اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے 2014 کے بعد نوٹ بندی، زرعی قوانین، جی ایس ٹی، نیٹ اور این آر سی سمیت متعدد عوام مخالف پالیسیاں نافذ کیں، اور اب ایس آئی آر کے ذریعے بھی غریب عوام کے بنیادی حقوق کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس غیر سائنسی اور عوام مخالف عمل کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ کمیٹی کے رکن اوم پرکاش روٹے نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقۂ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے انتخابی کمیٹی سے چیف جسٹس آف انڈیا کو خارج کر دیا گیا ہے، جس سے تقرری کے عمل کی غیر جانبداری پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف شکایت درج کرانے یا ان کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کے امکانات بھی محدود کر دیے گئے ہیں، جو جمہوری نظام کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔اس موقع پر سماجی قائد عبدالمنان سیٹھ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایس آئی آر کا عمل اسی طرح نافذ رہا تو بڑی تعداد میں غریب شہری ووٹ ڈالنے کے بنیادی حق سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں ایسے افراد سرکاری فلاحی اسکیموں، راشن، ماہانہ وظیفہ اور رہائشی منصوبوں جیسے بنیادی سرکاری فوائد سے بھی محروم کیے جا سکتے ہیں۔احتجاج میں مختلف عوامی و سماجی تنظیموں اور سیکولر جماعتوں کے کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور انتخابی عمل میں شفافیت، مساوات اور تمام شہریوں کے ووٹنگ کے حق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے متنبہ کیا کہ اگر ایس آئی آر کا عمل واپس نہ لیا گیا تو ریاست بھر میں احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔