بھروسے کا قتل(افسانہ) - از قلم: رہبر تماپوری۔
بھروسے کا قتل(افسانہ) -
از قلم: رہبر تماپوری۔
آسمان پر سیاہ بادلوں کا راج تھا۔ موسلا دھار بارش زمین کو اس طرح بھگو رہی تھی جیسے برسوں سے دبے ہوئے دکھ آج آنسو بن کر برس پڑے ہوں۔ ہر چند لمحوں بعد بجلی کی خوفناک کڑک خاموش فضا کو چیر دیتی اور پھر گہرا اندھیرا ہر طرف چھا جاتا۔ اچانک ایک شدید کڑاکے کے ساتھ بجلی کے جھٹکے نے پورے گھر کو تاریکی میں ڈبو دیا۔ کمرے کی کھڑکی سے ٹکراتی بارش کی بوندیں اور ہوا کے تیز جھونکے ایک عجیب سا سناٹا اور اداسی فضا میں بکھیر رہے تھے۔
اس تاریکی میں کھڑکی کے قریب ایک شخص ساکت بیٹھا تھا۔ اس کی نظریں بارش کے قطروں پر جمی تھیں، مگر اس کا دل برسوں پرانی یادوں کے سفر پر نکل چکا تھا۔ ہر چمکتی ہوئی بجلی اسے اپنے والد کا شفیق چہرہ دکھا دیتی، اور ہر گرج اس کے دل میں چھپے پرانے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیتی۔ وہ اپنے ماضی کے ان اوراق کو پلٹ رہا تھا جن پر اس نے محبت، اعتماد اور خلوص کی داستانیں لکھی تھیں۔
اسے اپنے والد کا وہ جملہ آج بھی لفظ بہ لفظ یاد تھا جو انہوں نے زندگی کے آخری دنوں میں کہا تھا:
"بیٹا! باپ وہ ہستی ہے جس کے رہتے ہوئے سب عزیز اپنے ہوتے ہیں، اور اس کی رخصت کے بعد سب اپنے اجنبی ہو جاتے ہیں۔"
تب وہ اس جملے کی گہرائی کو پوری طرح نہیں سمجھ سکا تھا۔ اسے یقین تھا کہ خاندانی رشتے ہمیشہ محبت اور وفاداری سے قائم رہتے ہیں، مگر وقت نے اسے سکھا دیا کہ باپ صرف ایک فرد نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسی مضبوط دیوار ہوتا ہے جو پورے خاندان کو جوڑے رکھتی ہے۔ جب وہ دیوار گر جاتی ہے تو بہت سے چہرے بدل جاتے ہیں اور کئی رشتوں کی حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
والد کے ہوتے ہوئے یہ حویلی محبت، احترام اور اخلاق کا گہوارہ تھی۔ ہر شخص ایک دوسرے کے دکھ سکھ کا ساتھی تھا۔ مگر والد کے انتقال کے بعد حالات بدلنے لگے۔ جن چچاؤں کو وہ باپ کا درجہ دیتا تھا، جن پر اسے سب سے زیادہ بھروسہ تھا، وقت کے ساتھ ان کے رویوں میں تبدیلی آنے لگی۔ دولت کی خواہش نے رشتوں کی حرمت کو کمزور کر دیا۔
والد کی محنت سے بنائی ہوئی جائیداد، جو دراصل ایک امانت تھی، لالچ کا سبب بن گئی۔ کاغذات کے چند ٹکڑوں نے برسوں کے رشتوں میں فاصلے پیدا کر دیے۔ انہوں نے اس کے حق کو نظر انداز کیا، اسے بے سہارا محسوس کرایا اور اس کے اعتماد کو ایسا زخم دیا جو آسانی سے بھرنے والا نہ تھا۔ یہ صرف جائیداد کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ اس بھروسے کا قتل تھا جو اس نے اپنے خاندان پر کیا تھا۔
وہ سوچتا رہا کہ آخر دولت میں ایسی کون سی طاقت ہے جو انسان کو اپنے ہی رشتوں کے حقوق بھولنے پر مجبور کر دیتی ہے؟ کیا چند زمینوں اور مال و زر کے لیے محبت، خلوص اور انسانیت کو قربان کیا جا سکتا ہے؟ اسے یقین تھا کہ دنیا کی چیزیں عارضی ہیں۔ انسان کسی کا حق لے کر وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتا ہے، مگر دل کا سکون اور ضمیر کی آواز ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے۔
وہ جانتا تھا کہ ہر امانت کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ انسان دنیا میں صرف ایک ذمہ دار ہے، مالک نہیں۔ جو چیز کسی کے حق میں ہو، اسے چھین لینا کامیابی نہیں بلکہ ایک آزمائش ہے۔ ایک دن ہر انسان کو اپنے اعمال کا جواب اپنے رب کے حضور دینا ہے۔
بارش اب تھمنے لگی تھی۔ سیاہ بادل آہستہ آہستہ افق سے سرک رہے تھے اور مشرق کی سمت سے صبح کی پہلی کرن خاموشی سے زمین پر اتر رہی تھی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو فضا میں پھیل چکی تھی۔ اس نے لرزتے ہوئے ہاتھ اٹھائے اور اپنے رب کے حضور دعا کی:
"اے میرے پروردگار! میرے والد پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی مغفرت فرما اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ مجھے ان کی دی ہوئی دیانت، صبر، عزت اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ اگر میرے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو مجھے صبرِ جمیل عطا فرما، میرے دل کو نفرت سے محفوظ رکھ اور مجھے ہمیشہ انصاف کے راستے پر چلنے کی ہدایت دے۔ آمین۔"
دعا کے بعد اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا۔ اس نے عہد کیا کہ وہ کبھی کسی کا حق نہیں مارے گا، چاہے زندگی میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اصل کامیابی دولت جمع کرنے میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں سرخرو ہونے میں ہے۔
روشنی مکمل طور پر پھیل چکی تھی۔ وہ کھڑا ہوا، اپنے والد کی یادوں کو دل سے لگایا اور ایک نئی امید کے ساتھ زندگی کے سفر پر چل پڑا۔ آج اسے معلوم ہو چکا تھا کہ دولت کی ہوس میں اندھے ہونے والوں سے کہیں زیادہ امیر وہ ہے جس کے پاس سچائی، دیانت اور صبر کا سرمایہ ہو۔
زندگی چند روزہ ہے، مگر اعمال ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اس لیے کسی کا حق نہ چھینیے، کسی کے اعتماد کو مجروح نہ کیجیے اور کسی کے بھروسے کا قتل نہ کیجیے۔ کیونکہ ایک دن ہم سب نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے، جہاں نہ دولت کام آئے گی، نہ طاقت، بلکہ صرف انصاف، نیکی اور اعمال انسان کے ساتھ ہوں گے۔ یہی حقیقی کامیابی اور انسان کی اصل میراث ہے۔
Comments
Post a Comment