غزل - میربیدری، کرناٹک۔


غزل  -  
میربیدری، کرناٹک۔ 

تم بھی ان سے بول دو، خس کم جہاں پاک 
راز سارا کھول دو، خس کم جہاں پاک 

گر بہت جھک جھک وہ کرتاجارہاہو
مختصر سا رول دو، خس کم جہاں پاک 

مجھ سے اچھا کوئی ملتا گر نہ ہو تو 
ان بُروں میں تول دو، خس کم جہاں پاک 

پاک کرنا ہی ہے تو کانوں میں اس کے 
زہر کوئی گھول دو، خس کم جہاں پاک 

لے لیا استعفیٰ آخر کو سبھوں نے 
سارے طلبہ بول دو خس کم جہاں پاک 

خود کو یوں بیکار رکھنے سے ہے اچھا 
زندگی کامول دو، خس کم جہاں پاک 

مارنے والے ہو، مجھ کو گولیاں میرؔ
ہاتھ میرے کھول دو، خس کم جہاں پاک

Comments

  1. واہ جی واہ
    کیا کہنے
    محاورے کو ردیف بنا کر آپ نے اس کا حق پوری ایمانداری اور انصاف سے نبھایا ہے۔ میری طرف سے بے شمار داد قبول کریں

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔