غزل۔ - ازقلم : حکیم سعید میسوری۔
غزل۔ -
ازقلم : حکیم سعید میسوری۔
میں ہوں آئینہ ، مقدر میں ہیں پتھر میرے
دوست بھی بن کے عدو آ گئے گھر پر میرے
روک سکتے نہیں اڑنے سے مصائب مجھ کو
یہ تسلی ہے مجھے پاس ہیں شہپر میرے
غم نہیں مجھ کو ، کہ رسوائیاں مل جائیں گی
جو بھی الزام لگیں آج ہی سر پر میرے
مدتوں بعد ، ہوئی ہے مرے دل پر دستک
کون ! یہ آ گیا بھولے سے یوں در پر میرے
تیر جتنے بھی سعید ، اس نے چلائے مجھ پر
آ لگے سیدھے ، وہ بالکل ہی جگر پر میرے
Comments
Post a Comment