اُردو اور انگریزی اخبارات کے تراشوں سے صرف نظر کرنامحکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ بیدر کادرست قدم ہے یا.....؟


 بیدر۔ 16/جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری کی خصوصی رپورٹ) ریاست کرناٹک میں SIRکاپیچیدہ اورنازک عمل جاری وساری ہے۔ اس تعلق سے تازہ خبر یہ ہے کہ ایس آئی آر فارم واپس حاصل کئے جانے کی صورتحال بیدرضلع کے تمام تعلقہ جات میں بہترتوہے لیکن بیدر تعلقہ کی حالت ضلع کے دیگر تعلقوں سے کمزوربتائی جارہی ہے، جس کے پیش نظرضلع الیکشن افسرو ڈپٹی کمشنرمحترمہ شلپاشرما صاحبہ نے 15/جولائی چہارشنبہ کو بیدر شہر کے مختلف کالونیوں کادورہ کیاتھاجن میں گنیش نگر، بسوانگر، کمبارواڑہ، فیض پورہ درگاہ وغیرہ کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس خبر کواہمیت اس لئے حاصل ہوئی ہے کہ شائع شدہ خبر کی ایک پی ڈی ایف بناکر بیدر کامحکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ نے وائرل کیاہے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ اس پی ڈی ایف میں ضلع الیکشن افسر کے دورہ کی اکلوتی خبر ہے لیکن افسوس اس بات کاہے کہ اس میں صرف 17اخبارات کے تراشے شامل ہیں۔ جن میں کنڑی زبان کے 16اور ہندی اخبار کاایک تراشہ ملتاہے۔ جبکہ ہمارے ”شہر ِ اردو بیدر“ سے تین مقامی اردواخبارات حیدرآباد کرناٹک، ادبی عکاس اور سرخ زمین نکلتے ہیں۔ گلبرگہ سے کے بی این ٹائمز اور سالار بیدر پہنچتے ہیں۔ اسی طرح حیدرآباد سے روزنامہ منصف،سیاست، اعتماد، رہنمائے دکن وغیرہ گذشتہ نصف صدی سے بیدر کے شہریوں تک خود بیدر کی اطلاعات سے باخبر کرتے آرہے ہیں۔ 
 لیکن ایسا لگتاہے کہ بیدر کے محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ کو اردو اخبارات سے کچھ لینا دینانہیں ہے۔ کیوں کہ کہایہ جارہاہے کہ ان اردو اخبارات کی بیدر کے محکمہ میں جگہ نہیں ہے۔اگر اردو اخبارات کی وارتامحکمہ میں جگہ ہوتی تو وہ 17اخبارات کی بھیجی گئی پی ڈی ایف میں روزنامہ حیدرآباد کرناٹک، روزنامہ ادبی عکاس اور روزنامہ سرخ زمین میں ضلع الیکشن افسر کی شائع خبر کو شامل کرتے۔ تینوں مقامی اردو اخبارات میں شائع شدہ خبرتصویر میں منسلک ہے۔ انگریزی اخبارات، داہندو، دکن ہیرالڈ، دکن کرانیکل وغیرہ بیدر آتے ہیں۔ان اخبارات کا قومی سطح پر بڑا چرچاہے۔ ان اخبارات کے تراشے بھی شامل نہیں ہیں۔ عین ممکن ہے ان انگریزی اخبارات میں مذکورہ خبر شائع نہ ہوئی ہولیکن بیدر سے کئی ایک مقامی ہندی اخبارات نکلتے ہیں جیسے دمن، بیدر کی آواز، بیدر سندیش، مہاکایاس، کارنجہ ایکسپریس، بیدر جاگرتی وغیرہ وغیرہ لیکن ان تمام ہندی اخبارات میں سے صرف ایک اخبار”بیدر سندیش“ کاتراشہ شامل کرنے کامطلب آخرکیاہے۔کیایہ سمجھاجائے کہ دوسرے ہندی اخبارات جیسے دمن، بیدر کی آواز، مہاکایاس، کارنجہ ایکسپریس، بیدر جاگرتی وغیرہ آج جمعرات کو بند ہیں یایہ اخبار صرف کبھی کبھی نکلتے ہیں اور محکمہ اطلاعات اور تعلقات عامہ (وارتا) کے دفتر تک نہیں پہنچتے؟باہر سے بیدر آنے والے ہندی اخبارات میں ملاپ حیدرآباد، دینک بھاسکر اورنگ آباد، سوتنتر وارتا حیدرآباد اور دیگر شامل ہیں۔سناہے کہ بیدرمستقر سے 50سے زیادہ کنڑی اور ہندی اخبارات نکلتے ہیں۔ ایک یادومقامی انگریزی اخبارات بھی نکلتے ہیں۔ اتنے اخبارات میں سے صرف 17اخبارات (جن میں قریب پانچ اخبارات ریاستی سطح کے ہیں) کے تراشے ملنا اور باقی اخبارات کے تراشوں کاشامل نہ ہونا کیامعنی رکھتاہے۔ حالانکہ بیدر کے باہر سے آنے والے اردو، ہندی،تیلگو، مراٹھی اور انگریزی اخبارات کی ایک طویل فہرست ہے۔اس طرح یہ تعداد 80سے زیادہ پہنچتی ہے اور ان تمام اخبارات کے سرگرم رپورٹر بیدر میں موجودہیں۔
 سب سے زیادہ افسوس اسی بات کا ہے کہ بید رکے تینوں مقامی اردو اخبارات میں ڈپٹی کمشنر اورضلع الیکشن کمشنر کی خبر شائع ہونے کے باوجود اردو اخبار کے ان تراشوں کو پی ڈی ایف کلپ میں جگہ نہیں مل سکی۔ اور یوں بھی مقامی اردو اخبارات کی علیحدہ سے اپنی کوئی مؤثر تنظیم بھی نہیں ہے جو اس طرح کے معاملات پر حکومت اور ارباب مجاز کو باخبر کرسکے۔یابیدر کے رکن اسمبلی رحیم خان یا ضلع انچارج وزیر ایشور کھنڈرے سے ہی بات کرسکے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔