آج وہ، کل ہماری باری ہے - زندگی یقینی، موت بے یقین؟ ازقلم : شعیب احمد محمدی۔
آج وہ، کل ہماری باری ہے -
زندگی یقینی، موت بے یقین؟
ازقلم: شعیب احمد محمدی۔
جنازے پہ جنازہ اٹھتا دیکھا
پھر بھی انسان موت سے غافل ہے
قبرستان بھرتے گئے لوگوں سے
اور دل ہیں کہ خالی ہیں خوف سے
تمہید: وہی لمحہ جو تھمے نا
ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ بچہ ماں کی گود میں تھا، انگلی پکڑ کر چلنا سیکھ رہا تھا، توتلی زبان سے اللہ اور امی"ابو" بولا تو گھر میں عید ہو گئی۔ پھر دیکھتے دیکھتے وقت کا پتا نا چلا ایسا لگا جیسے آنکھ جھپکی اور بچہ اسکول کا بستہ، مدرسے کی تختی، جوانی کی نوکری، شادی کے خوشیاں، بچوں کی کلکاریاں۔ اور اچانک محلے میں اعلان ہوتا ہے: "فلاں کا انتقال ہوگیا ہے"۔
آتے ہوئے اذان ہوئی جاتے ہوئے نماز
اتنے قلیل عرصہ میں آئے اور چلے گئے
یہ ہے وقت۔ نہ رکتا ہے، نہ تھکتا ہے، نہ مہلت دیتا ہے۔
سب سے بڑا تضاد
دنیا کا سب سے عجیب تضاد دیکھو۔ ہر انسان جانتا ہے کہ اسے مرنا ہے۔ قبرستان جاتے ہیں، مٹی ڈالتے ہیں، "انا للہ" پڑھتے ہیں۔ مگر قبرستان سے نکلتے ہی ایسے جیتے ہیں جیسے موت صرف دوسروں کے لیے آئی ہے۔
آج وہ گیا، کل ہماری باری ہے۔ یہ جملہ ہر جنازے میں سنتے ہیں، مگر دل پر نہیں لیتے۔ ہم مٹی کے بنے ہیں، مٹی پر چلتے ہیں، مٹی میں دفن ہوتے ہیں۔ پھر بھی موت سے غافل ہیں۔
دینی پہلو: وقت؛ اللہ کی قسم
اللہ نے وقت؛ کی قسم کھائی: "وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ" [العصر: 1-2]
یعنی زمانہ گواہ ہے، انسان خسارے میں ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں: صحت اور فراغت" [بخاری]
گود کا بچہ، اسکول کا لڑکا، دولہا، باپ، دادا۔ ہر اسٹیج پر ہم سمجھتے ہیں "ابھی تو بہت وقت ہے"۔ مگر موت کا فرشتہ کیلنڈر نہیں دیکھتا۔
معاشرتی منظر: جنازہ اور بازار ایک ساتھ
محلے میں جنازہ اٹھ رہا ہے، اور چند قدم دور بازار میں وہی دھوکہ، وہی جھوٹ، وہی سودی کاروبار چل رہا ہے۔
قبر پر مٹی ڈال کر آئے، اور واپس آکر اسی بے دینی کی زندگی کو اپنا لیا۔
یہ ہے ہماری غفلت۔ ہم موت کو "واقعہ" سمجھتے ہیں، "سبق" نہیں سمجھتے۔
نفسیاتی دھوکہ: موت ہمیشہ "دوسرے" کی
نوجوان سمجھتا ہے موت بوڑھوں کو آتی ہے۔ بوڑھا سمجھتا ہے "ابھی تو ہسپتال کے چکر لگ رہے ہیں، وقت ہے"۔
امیر سمجھتا ہے پیسہ موت کو ٹال دے گا۔ غریب سمجھتا ہے "میری کیا اوقات، فرشتہ پہلے دوسروں کو لے جائے گا"۔
حالانکہ قبرستان میں ہر عمر، ہر طبقہ، ہر طاقت والا لیٹا ہے۔
جذباتی جھٹکا: ذرا سوچو
1. وہ بستر: جس بستر پر تم موبائل اسکرول کرتے ہو، کل اسی پر تم مر کے پڑے ہو سکتے ہو۔
2. وہ کمرہ: جس کمرے کو AC سے ٹھنڈا رکھتے ہو اور تنہائی کے گناہ کرتے ہو، کل قیامت میں وہی تمہارے گناہوں کو اجاگر کرے گا۔
3. وہ موبائل: جس پر تم نے سٹیٹس لگایا "Feeling Alone"، کل اسی سے تمہاری موت کے میسج فارورڈ ہوں گے۔
اخلاقی علاج: موت کو زندگی میں لاؤ
نبی ﷺ نے فرمایا: "عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے" [ترمذی]
4 کام آج ہی شروع کرو:
1. وصیت لکھو: قرض، امانت، حق کس کا باقی ہے لکھو۔ کیونکہ موت بتاکر نہیں آتی۔
2. معافی مانگو: ماں باپ، بہن، بھائی، بیوی، رشتہ دار، جس کا دل دکھایا۔ آج معافی مانگ لو ورنہ مرنے کے بعد کیسے معافی مانگو گے۔
3. صدقہ جاریہ: مسجد، بورنگ پانی، قرآن، نیک اولاد، یتیم اور بیوہ کی کفالت کرو تاکہ تمہارے مرنے کے بعد بھی قبر میں نیکی کا کھاتہ جاری رہے۔
4. روز محاسبہ: رات سونے سے پہلے 2 منٹ۔ آج جھوٹ بولا؟ نماز چھوڑی؟ کسی کا حق مارا؟ استغفار کر کے اور آئندہ پختہ عزم کر کے سو جاؤ۔
خلاصہ: میزان بناؤ
زندگی گود سے جنازے تک، زندگی "تیز رفتار ٹرین" کی طرح ہے۔ ہر اسٹیشن ایک بار آتا ہے۔ بچپن گیا تو گیا، جوانی گئی تو گئی۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو:
1. جوانی کو بڑھاپے سے پہلے،
2. صحت کو بیماری سے پہلے،
3. فراغت کو مشغولیت سے پہلے،
4. مالداری کو فقر سے پہلے،
5. زندگی کو موت سے پہلے"
اس لیے آج ہی رکو، سوچو:
میرا بچپن کیسا گزرا؟ جوانی کہاں لگا رہا ہوں؟ والدین کو کیا دے رہا ہوں؟ قبر میں کیا سوال ہوگا؟
آخری بات:
آج ہم نے کسی کی قبر پر مٹی دی، کل کوئی ہمیں مٹی دے گا۔
فرق صرف 2 گز زمین کا ہے۔
اس 2 گز کی تیاری کر لو۔ وہاں AC نہیں چلے گا، وہاں تمہاری نماز، صدقہ، اخلاق اور ماں باپ کی دعا کام آئے گی۔
"فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ" اللہ کی طرف دوڑو۔ [الذاریات: 50]
کیونکہ موت تمہاری طرف دوڑی چلی آ رہی ہے۔
حاصلِ کلام:
اللہ باقی من کل فانی
صرف خدا کی ذات رہے گی
مٹ جائے گی دنیا ساری
اللہ باقی من کل فانی
اللہ ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق دے۔ آمین۔
---
Comments
Post a Comment