ماحولیاتی تحفظ کے لئے خواتین کا کردار اہمیت رکھتا ہے - ازقلم : فردوس انجم، بلڈانہ (مہاراشٹر)


ماحولیاتی تحفظ کے لئے خواتین کا کردار اہمیت رکھتا ہے - 
ازقلم : فردوس انجم، بلڈانہ (مہاراشٹر)

ماحولیاتی تبدیلی موجودہ دور کا نہایت سنگین مسٔلہ بن چکی ہے۔ اس وقت برصغیر خصوصاً ال نینو (El Nino) کے اثرات سے گزر رہا ہے، جس کے باعث درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں موسمی شدت میں نمایاں تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف موسم تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات انسانی زندگی کے سماجی، معاشی اور دیگر پہلوؤں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں خواتین کا کردار نہایت اہم اور دوہرا ہے؛ ایک طرف وہ اس مشکل وقت سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور دوسری طرف اس کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
1. ماحولیاتی تبدیلی کے خواتین پر اثرات:
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ماحولیاتی آفات جیسے سیلاب، قحط اور شدید گرمی کی لہریں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں معاشی اور سماجی ناہمواریاں شامل ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں خواتین کی بڑی تعداد زراعت اور قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہے، جو براہ راست موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔
گھریلو ذمہ داریوں کے باعث بھی خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پانی لانا، ایندھن جمع کرنا اور خوراک کا انتظام جیسے کام عموماً خواتین کے سپرد ہوتے ہیں۔ اس صورت میں انہیں ان کاموں کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہےجس سے ان کی صحت اور تعلیم دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
مزید برآں، ماحولیاتی آفات کے دوران حاملہ خواتین اور بچیاں غذائی قلت اور بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتی ہیں، جو ایک اہم مسئلہ ہے۔
2. خواتین بطور محافظ:
خواتین کو قدرتی وسائل کے مؤثر منتظمین سمجھا جاتا ہے۔ گھریلو سطح پر پانی اور بجلی کی بچت، فضلے کے مناسب انتظام اور سادہ طرزِ زندگی کو اپنانے میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
دیہی خواتین کے پاس روایتی علم کا ایک وسیع خزانہ موجود ہوتا ہے، جس میں بیجوں کا تحفظ، جڑی بوٹیوں کا استعمال اور زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے کے طریقے شامل ہیں۔ یہ علم جدید ماحولیاتی سائنس کے لیے نہایت قیمتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کئی اہم ماحولیاتی تحریکیں خواتین کی قیادت میں پروان چڑھیں، جیسے چپکو تحریک، نربدا بچاؤ آندولن اور نودھانیہ تحریک۔ ان تحریکوں نے فطرت کے تحفظ کے لیے اجتماعی شعور کو بیدار کیا۔
3. قیادت اور فیصلہ سازی میں خواتین کا کردار:
جب خواتین کو ماحولیاتی پالیسی سازی میں شامل کیا جاتا ہے تو نتائج زیادہ مؤثر اور پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر خواتین کی شمولیت سے صفائی، پانی کے انتظام اور وسائل کے بہتر استعمال کے منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔
دیہی علاقوں میں خواتین زراعت اور مویشی پالنے میں بھی فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ بے وقت بارش یا خشک سالی کی صورت میں فصلوں کو بچانے، متبادل غذائی ذرائع تلاش کرنے اور مویشیوں کی دیکھ بھال ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ بیجوں کو محفوظ رکھنے اور پانی کے بہتر استعمال کے طریقے بھی اپناتی ہیں تاکہ ممکنہ نقصان کو کم کیا جا سکے۔
عالمی سطح پر بھی خواتین نے نمایاں قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ گریٹا تھنبرگ جیسی نوجوان کارکن نے دنیا بھر کے لوگوں، خصوصاً نوجوانوں کو ماحولیاتی انصاف کے لیے متحرک کیا۔
پائیدار ترقی کے حصول میں بھی خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ وہ اپنے روزمرہ کے فیصلوں کے ذریعے ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دے سکتی ہیں، خصوصاً پلاسٹک اور یوز اینڈ تھرواشیاء کے استعمال میں کمی لا کر۔
4. حل اور سفارشات:
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم اقدامات درج ذیل ہیں۔
خواتین کی تعلیم اور آگاہی میں اضافہ کیا جائے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے جدید طریقے سیکھ سکیں۔
خواتین کسانوں کو مالی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تاکہ وہ ماحول دوست زراعت کو فروغ دے سکیں۔
حکومتی پالیسیوں میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے تجربات اور ضروریات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
 عالمی سطح پر کئی اہم معاہدے اور قوانین وضع کیے گئے ہیں، جیسے:
پیرس معاہدہ 2015 (Paris Agreement)
کیوٹو پروٹوکول 1997 (Kyoto Protocol)
مونٹریال پروٹوکول 1987 (Montreal Protocol)
حیاتیاتی تنوع کا کنونشن 1992 (Convention on Biological Diversity)
رامسر کنونشن 1971 (Ramsar Convention)
بھارت میں بھی متعدد اہم ماحولیاتی قوانین موجود ہیں، مثلاً:
ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1986
واٹر ایکٹ 1974
ایئر ایکٹ 1981
وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972
فارسٹ کنزرویشن ایکٹ 1980
نیشنل گرین ٹریبونل ایکٹ 2010
بایولوجیکل ڈائیورسٹی ایکٹ 2002
اس کے علاوہ پائیدار ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals 2017) بھی نہایت اہم ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ ان قوانین کا مطالعہ کریں اور ان پر عمل درآمد میں فعال کردار ادا کریں۔بلا شبہ خواتین ماحولیاتی تبدیلی کے حل کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں ۔
۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔