ایک خط تیرے نام - ازقلم : مسرورتمنا۔


ایک خط تیرے نام - 
ازقلم : مسرورتمنا۔ 
 
تمنا کیسی ہو 
آسام کے ایک میگزین میں 
تمہارا افسانہ پڑھا
خوشی سے دل بے قابو ہوگیا
مسرت کے بارے کیا ہی لکھوں
 بس سارے کام چھوڑ کر
مہکتے خواب اٹھالی
تمہارے افسانے سے 
اور کاینات جھوم اٹھی
بس میری دوست زیبا کو
یہ گفٹ کررہا ہوں
خاموش مت رہو
اپنی پانچویں کتاب سے
ادب کی دنیا میں روشنی
بھر دو.... بارش بہت تیز
ہے لگتا ہے آسام گوھاٹی میں
بس چایے کافی اور گرما گرم
پکوڑے بس میں تو اسی میں
خوش ہوں
لیکن تم اپنی کتاب شایع کر کے خوش ہونا ....تیرے گھروندے کہاں... کہاں آواز دوں تم کو
خواب قسمت اور تارے
تم ذندہ ہو مجھ.میں کہیں
واہ بہت خوب مجھے تو لگتا ہے کردار کے ساتھ کاری بھی
ذندہ .. ..  
سونامی .....ہری کانچ کی چوڑیاں.. ویسے بھی ساون چل رہا ہرے کانچ کی چوڑیاں پہن کر لڑکیاں جھولے جھولتی ہیں ریما اور پورنما بھی یہی
کرتی ہیں..... خیر تم جلدی کتاب کی خوشخبری دو رسم اجرا میں ضرور شامل کرنا
نایاب حیدر 
آسام گوھاٹی 

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔