غزل۔ - ازقلم : بابا آزاد جرولی یوپی۔


غزل۔ - 
ازقلم : بابا آزاد جرولی یوپی۔

عداوتوں کی جمی برف اگر پگھلتی نہیں 
تو پھر یہ شمع۔ محبت دلوں میں جلتی نہیں

میں جس مکاں سے نکل آیا مدتوں پہلے 
یہ اس کی یاد مرے دل سے کیوں نکلتی نہیں

یہ کس مرض کے شکنجے میں پھنس گیا ہوں میں 
کسی دوا سے طبیعت مری سنبھلتی نہیں

وہی غزل جسے کہتے تھے لوگ محبوبہ
اداس رہتی ہے محفل میں اب مچلتی نہیں

نہ کچھ خزاں سے ہے مطلب نہ کچھ بہار سے ہے
مرے لئے تو کبھی کوئی رت بدلتی نہیں

کیا ہے ہم نے الگ جب سے راستہ اپنا
ہمارے ساتھ یہ دنیا تبھی سے چلتی نہیں

کسی بھی حال میں یہ متحد نہیں ہوتے 
ہوا جو روز چراغوں کے سر کچلتی نہیں

بابا آزاد جرولی یوپی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔