احساس - تحریر: مولانا میرذاکر علی محمدی پربھنی۔


احساس - 
تحریر: مولانا میرذاکر علی محمدی پربھنی۔
 9881836729 

  کسی درد مند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے۔
 یہ نگاہ مست کی مستیاں کسی بد نصیب پہ ڈال دے۔ 

      احساس کو الفاظوں میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ خداے برتر نے ہر انسان کے دل میں احساس ( Soft corner ) نرم گوشہ کو رکھا ہے اور وہ ایک انمول  شئ ہے۔احساس ہو تو پراے بھی خون کے رشتوں سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اور احساس خون کے رشتوں کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔  اور دوسروں کے تیئں محبت  الفت و اخوت کا ایک پیغام ہوتا ہے۔ لیکن آج اگر ہم جائزہ لیں تو ہمیں دوردور تک انسان تو دید کو ملتے ہیں لیکن انسانیت اور انسانوں کے تئیں انسانیت نوازی، حسن اخلاق ،اور اکرام انسانیت کا بہت حد تک فقدان نظر آتا ہے۔دنیا میں ہر جنم لینے والا انسان ،انسان کہلاتا ہے۔ اور دنیا میں ہر (creation) تخلیق خداے برتر کی قدرت کا مظہر ہے۔ اللہ نے یہ دنیا کو اپنے بندوں اور انسانوں کے لیے پیدا کیا ہے۔ عین اسی طرح اللہ کی معرفت اور اسکی خوبصورت تخلیق کائنات اور خلاء میں Glaxy شمسی وقمر ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر یہ سرد اور گرم ہوایں یہ خوبصورت فضایں ۔ اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ  اس کائنات کا خالق اللہ ہے جس نے ان تمام کو وجود بخشا اور اسی کی ایماء پر اختتام پذیر بھی ہوگا۔ اللہ کی وحدانیت اور معرفت یہ بھی ہے کہ جب ہم سنتے ہیں وہی احساس بنکر ہمارا کان بن جاتا ہے ۔جس سے ہم سنتے ہیں۔ زبان بن جاتا ہے۔ جس سے ہم بولتے ہیں۔ اور ہاتھ بن جات ہے۔ جس سے ہم پکڑتے ہیں۔ اگر کوئ ناشکری کے الفاظ بھی کہتا ہے تو اس کو یہ احساس ہونا چاہیے۔ خدا نے مجھے قوت گویائ عطا کی ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا کروں نہ کہ ناشکری۔ اگر وہ قوت گویائ صلب کرلیتا۔ تو ایک لفظ ادا نہ کرسکتے۔ مولانا وحیدالدین خان نے الرسالہ میں اہم ترین     ( chapter) رقم کیا تھا۔ ایک خاتون نے عدالت عالیہ میں فرد جرم عائد کیا کہ طلاق بائن کے بعد نان نفقہ دیا جاے۔ جب جج نے خاتون سے کہا کہ  یہ تو خلاف اسلام ہے۔ خاتون نے جواب میں کہا ۔ what has Islam done for me  that i should  follow  the  tent  of  Islam . اسلام نےمیرے لیے کیا کیا کہ میں اس کی پیروی کروں۔ مولانا نےکہا اگر اس بات کا احساس ہوتا  کہ اللہ قوت گویائ صلب کرلیتا تو کچھ کہنے کے قابل بھی نہ ہوتی۔ خدا ایسے احساس کا نام ہے۔ رہے سامنے   اور دکھائ نہ دے۔ جو تو چھپکر گناہ کرتا ہے اہل جہاں سے۔ کوئی دیکھتا  ہے تجھے آسماں سے۔ غلطی کا احساس اور پھر ندامت کے آنسو اللہ کو بہت عزیز ہے۔ اللہ کا احساس ہو تو بھاری بوجھ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ نے انسان کو ایک دوسرے کے درد اور دکھ کو سمجھنے اور اللہ کی مخلوق پر رحم د کرم کا معاملہ اور غمخواری کے لیے بنایا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والے دل اورطاجساس کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ہم اس واقعہ سے  اخذ کرسکتے ہ 
     سبگتگین ایک مشہور بادشاہ گذرا ہے، اس نے جوانی میں شکار میں ایک ہرنی کا بچہ پکڑا اور محل کی طرف چل پڑا ۔ اس نے دیکھا کہ ہرنی اپنے بچے کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوے بادشاہ کہ پیچھے پیچھے آرہی تھی ،گویا کہ وہ اپنی زبان میں یہ کہ رہی تھی کہ اے سبگتگین میرے بچے کو خدا را چھوڑ دو۔ بادشاہ کا ضمیر اور احساس جاگا ،اور اس نے ہرنی کے بچے کو آزاد کیا۔
    چناں چہ رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئ ۔ آپ نے فرمایا ،اے سبگتگین آپ کی رحم دلی اور احساس کے ضمن میں خداے برتر نے آپ کو اور اہل خاندان کو انعام میں ایک طویل ( Empire) سلطنت عطا کی ہے۔ اور یہ خواب سچا ہوا۔ جہاں تک رحم اور احساس کا معاملہ ہے خداے برتر نے اس کو بہت اونچا مقام عطا کیا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم و کرم کا معاملہ کرو،آسمان والا تم پر کرم فرمائ کا معاملہ کریگا۔ آج دنیا کو ( Love and (effection) محبت و انسیت کے دو بول درکار ہے۔ جس سے معاشرہ ،سماج گلزار ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کو اگر فتح کرنا ہو تو اخلاق اور دو میٹھے بول کی ضرورت ہے۔ آج دنیا ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ہے، اتنی ہی تیزی سے ( Moral values) اخلاقی اقدار میں پیچھے ہے۔ آج کے دور میں کسی کو کسی کا احساس اور ہمدردی نہیں رہی۔ اس مسابقتی دور میں انسان ،انسان سے کنارہ کشی اختیار کیے ہوے ہے۔ اس نفرتوں کے دور میں، اس نفرتوں کے بازار میں، انسان جاے تو کیاں جاے۔ آج انسانیت کو انسانوں سے ڈر ہے جانوروں سے نہیں۔ اس ضمن میں ایک مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب ( wolves) بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا، اور برف کی وجہ سے خوراک کی قلت ہوجاتی ہے تو بھیڑیے ایک دائرہ بناکر بیٹھ جاتے ہیں ،اور ایک دوسرے کو گھورنا شروع کردیتے۔ جیسے ہی کوئ بھیڑیا بھوک سے گرجاتا، باقی سب مل کر اس پر ٹوٹ پڑجاتے ہیں اور اسکو کھاجاتے۔ اس عمل کو فارسی میں " گرگ آشتی کہتے ہیں۔ اس عمل کا اگر ہم جائزہ لیں تو یہ عمل انسانوں میں سرایت کرگیا ہے۔ کمزور انسانوں پر ظلم وستم ، اور اس کو ہراساں کرکے اس کی زندگی اجیرن کرکے جہنم بنادیتے ہیں۔ گویا کہ آج کے انسان کا ضمیر اور احساس مر چکا ہے۔ جو بھیڑیوں سے بھی بد تر یوچکے ہیں۔ جبکہ انسان کو اللہ نے اشرف الخلوقات بنایا ہے۔ اور انسان کو جانوروں سے ممتاز کیا ہے۔ لیکن انسان جانور سے بھی زیادہ گھاتک اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔  
             واے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا                                       کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔