تبدیلی سے پیشتر خود کو بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے - "اقراء شاہین اکیڈمی اور مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی کے اشتراک سے اساتذہ کی یک روزہ تربیتی ورکشاپ؛ جدید تدریسی رجحانات اور مصنوعی ذہانت پر ماہرین کی رہنمائی".
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) تعلیم کے بدلتے ہوئے منظرنامے، جدید تدریسی تقاضوں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے مؤثر استعمال سے اساتذہ کو روشناس کرانے کے مقصد سے مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی، حیدرآباد اور اقراء شاہین اکیڈمی، جلگاؤں کے باہمی اشتراک سے اساتذہ کی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ ورکشاپ میں ماہرینِ تعلیم نے عصرِ حاضر کے تعلیمی چیلنجز، تدریسی حکمتِ عملی، تعلیمی ٹیکنالوجی اور طلبہ کی بدلتی ہوئی ذہنی ضروریات پر جامع رہنمائی فراہم کی۔
تقریب کے صدر ماہرِ تعلیم الحاج عبدالکریم سالار نے اپنے صدارتی خطاب میں علامہ اقبال کے معروف مصرع "آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اساتذہ کو روایتی تدریسی انداز سے آگے بڑھتے ہوئے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا طالب علم معلومات کے وسیع ذخیرے تک رسائی رکھتا ہے، اس لیے استاد کا کردار محض معلومات فراہم کرنے والے کا نہیں بلکہ ایک رہنما، محقق اور رہبر کا بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "تبدیلی سے پیشتر اپنے آپ کو تبدیل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔" ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے ڈاکٹر ہارون بشیر نے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اساتذہ کی علمی و فنی استعداد میں مسلسل اضافہ ناگزیر ہے۔
تربیتی نشست میں پروفیسر ڈاکٹر سمیع صدیقی نے مصنوعی ذہانت (AI) کے تعلیمی میدان میں بڑھتے ہوئے کردار پر تفصیلی اور عملی گفتگو کی۔ انہوں نے مختلف AI ٹولز اور ان کے تدریسی استعمال کا عملی مظاہرہ پیش کیا، جسے شرکاء نے بے حد دلچسپی سے دیکھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ AI اساتذہ کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی عمل کو زیادہ مؤثر، تخلیقی اور نتیجہ خیز بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر وسیم شیخ نے موجودہ تعلیمی نظام، تدریسی منصوبہ بندی، جانچ و تشخیص کے جدید اصول اور استاد کے بدلتے ہوئے کردار پر مدلل اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ مؤثر تدریس صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ طلبہ میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت پیدا کرنا بھی استاد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ورکشاپ میں مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی، جلگاؤں اکائی کے رکن اور اقراء ایچ جے تھیم کالج کے پرنسپل وقار شیخ کے ہمراہ ڈی ایڈ بی ایڈ شعبہ جات کے زیر تربیت اساتذہ، جملہ اسٹاف ممبران و دیگر اساتذہ کرام موجود تھے رسم شکریہ پروفیسر عرفان شیخ نے ادا کیا ۔
Comments
Post a Comment