اقبال فہمی - (قسط سوم) ہمالہ رفعتِ کردار عظمتِ تاریخ اور علوِّ انسانی کا علمبردار ہے۔۔ ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
اقبال فہمی -
(قسط سوم)
ہمالہ رفعتِ کردار عظمتِ تاریخ اور علوِّ انسانی کا علمبردار ہے۔
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
علامہ محمد اقبال کی نظم ہمالہ کا یہ حصہ نظم کے سابقہ اشعار کی نسبت کہیں زیادہ بلند فکری اور روحانی مضامین کا حامل ہے۔ اب تک اقبال نے ہمالہ کو استقامت بقا اور بصیرت کی علامت کے طور پر پیش کیا تھا لیکن اب وہ اس کے ظاہری حسن سے آگے بڑھ کر اس کی عظمت کو انسانی کردار تہذیبی وقار اور روحانی رفعت کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ اقبال کی نگاہ میں فطرت کی ہر عظیم شے ایک خاموش معلم ہے جو زبان کے بغیر بھی انسان کو زندگی کے اصول سکھاتی ہے۔ اس لیے ہمالہ کی برف اس کی بلند چوٹیاں اس کی وادیاں اور اس کے گرد منڈلاتے بادل سب اپنے اندر ایک ایسا فکری پیغام رکھتے ہیں جو انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے اور اپنی خودی کو بیدار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اقبال فرماتے ہیں:
برف نے باندھی ہے دستارِ فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہِ مہرِ عالم تاب پر
یہ شعر محض ایک حسین منظر کی تصویر نہیں بلکہ اقبال کی علامتی شاعری کا نہایت اعلیٰ نمونہ ہے۔ عام شاعر اگر برف سے ڈھکی ہوئی چوٹی کو دیکھتا تو اس کی سفیدی چمک یا دلکشی بیان کرتا لیکن اقبال کی نگاہ اس ظاہری حسن سے آگے بڑھ کر اس کے اندر پوشیدہ اخلاقی اور روحانی معنی تلاش کرتی ہے۔ اسی لیے وہ برف کو دستارِ فضیلت سے تعبیر کرتے ہیں۔
اسلامی تہذیب میں دستار ہمیشہ عزت وقار علم ذمہ داری اور قیادت کی علامت رہی ہے۔ کسی شخص کے سر پر دستار رکھنا دراصل اس کے فضل و کمال کا اعتراف ہوتا ہے۔ اکابر علماء مشائخ قضاۃ اور اہلِ علم کی دستار اسی عزت و شرف کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اقبال اسی تہذیبی شعور کو فطرت کی زبان میں منتقل کرتے ہیں۔ گویا قدرت نے خود ہمالہ کے سر پر فضیلت کا تاج رکھ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہاڑ کو کوئی انسانی مرتبہ حاصل ہوگیا بلکہ مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض مخلوقات کو ایسی شان عطا فرمائی ہے کہ وہ دیکھنے والوں کے دل میں عظمت، وقار اور خشیتِ الٰہی پیدا کر دیتی ہیں۔
یہاں برف کی سفیدی بھی محض ایک رنگ نہیں بلکہ ایک اخلاقی استعارہ ہے۔ سفیدی ہمیشہ پاکیزگی صفائی اور بے داغ کردار کی علامت رہی ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان کی اصل زینت بھی یہی ہے۔ دولت اقتدار شہرت اور ظاہری حسن عارضی چیزیں ہیں لیکن اگر کردار پاکیزہ ہو، نیت خالص ہو اور زندگی تقویٰ سے آراستہ ہو تو وہی انسان حقیقی فضیلت کا مستحق بنتا ہے۔ اسی لیے فلسفۂ خودی میں بھی اقبال بار بار اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ خودی کی تعمیر اخلاقی پاکیزگی کے بغیر ممکن نہیں۔
خندہ زن ہے جو کلاہِ مہرِ عالم تاب پر
یہ مصرع اقبال کے تخیل کی رفعت کا شاہکار ہے۔ سورج پوری کائنات کو روشنی عطا کرتا ہے مگر شاعر کی نگاہ میں وہ بھی ہمالہ کی برفانی دستار کو دیکھ کر گویا مسکرا رہا ہے۔ یہاں سورج اور ہمالہ کے درمیان کوئی مادی مقابلہ نہیں بلکہ عظمت کا باہمی اعتراف ہے۔ اقبال یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کائنات کا پورا نظام اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق چل رہا ہے اور ہر مخلوق اپنی حدود میں رہ کر اپنے رب کی بندگی کر رہی ہے۔ اسی لیے عظمت کبھی تصادم پیدا نہیں کرتی بلکہ ایک عظمت دوسری عظمت کا احترام کرتی ہے۔ انسان اگر اس قانون کو سمجھ لے تو تکبر حسد اور خودنمائی جیسی بیماریاں اس کے دل سے ختم ہو جائیں۔
پھر شاعر فرماتے ہیں:
تیری عمرِ رفتہ کی اک آن ہے عہدِ کہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
یہ شعر انسان کو زمانے کی وسعت اور اپنی محدود حیثیت کا احساس دلاتا ہے۔ ہمالہ صدیوں نہیں بلکہ ہزاروں برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔ انسانی تہذیبیں آئیں عروج پایا زوال پذیر ہوئیں اور مٹ گئیں لیکن ہمالہ خاموشی کے ساتھ ان سب کا مشاہدہ کرتا رہا۔ اقبال اس حقیقت کو بیان کرکے انسان کو تاریخ کے صحیح شعور کی دعوت دیتے ہیں۔ جو قوم اپنی چند دہائیوں کی کامیابی پر غرور کرتی ہے یا چند برسوں کی ناکامی سے مایوس ہو جاتی ہے وہ تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں کرتی۔ تاریخ کا مطالعہ انسان میں تحمل بصیرت اور مستقبل بینی پیدا کرتا ہے۔
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن میں بھی ایک لطیف اشارہ پوشیدہ ہے۔ بادل کسی جگہ مستقل قیام نہیں کرتے لیکن ہمالہ کی عظمت انہیں بھی اپنے دامن میں ٹھہرا لیتی ہے۔ گویا عظیم شخصیتیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ان کے پاس لوگ صرف ان کی قوت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے وقار حکمت اور خیر خواہی کی وجہ سے آتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی جب کامل ہوتی ہے تو وہ دوسروں کو اپنے تابع نہیں بناتی بلکہ ان کے لیے باعثِ سکون باعثِ اعتماد اور باعثِ خیر بن جاتی ہے۔
اس کے بعد اقبال فرماتے ہیں:
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرمِ سخن
تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
یہ شعر اقبال کے تصورِ انسان کا آئینہ دار ہے۔ ثریا عربی ادب اور اسلامی روایت میں بلندی، رفعت اور دور رس منزل کی علامت ہے۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ ہمالہ کی چوٹیاں ثریا سے گفتگو کر رہی ہیں تو ان کا مقصود یہ نہیں کہ پہاڑ حقیقتاً ستاروں سے ہم کلام ہے بلکہ وہ انسان کو یہ سبق دینا چاہتے ہیں کہ بلند کردار رکھنے والا انسان ہمیشہ بلند مقاصد کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ وقتی منفعت پر نہیں بلکہ دائمی اقدار پر ہوتی ہے۔
یہی وہ تصور ہے جو بعد میں اقبال کے مردِ مؤمن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مردِ مؤمن کے قدم زمین پر ہوتے ہیں وہ معاشرے میں رہتا ہے لوگوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے لیکن اس کی فکر آسمانوں سے ہم کلام ہوتی ہے۔ اس کے مقاصد صرف ذاتی مفاد قومی تعصب یا وقتی سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ رضائے الٰہی خیرِ انسانیت اور سربلندیِ امت کو اپنا نصب العین بنا لیتا ہے۔
پہنائے فلک تیرا وطن کا مفہوم بھی اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ اقبال انسان کو محدود دائروں سے نکال کر وسعتِ فکر عطا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک مومن کا وطن صرف مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ پوری کائنات ہے کیونکہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے اور اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا رب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی خودی تعصب نہیں سکھاتی، بلکہ ذمہ داری خدمت اخوت اور آفاقیت کی تعلیم دیتی ہے۔
درحقیقت اس پورے حصے میں ہمالہ ایک آئینہ بن جاتا ہے جس میں اقبال انسان کو اس کی اصل منزل دکھاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسان کی رفعت اس کی جسمانی قوت میں نہیں بلکہ کردار کی بلندی میں ہے اس کی عظمت دولت میں نہیں بلکہ پاکیزگی میں ہے، اس کی بقا اقتدار میں نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری میں ہے، اور اس کی معراج زمین پر رہتے ہوئے آسمانی اقدار کو اختیار کرنے میں ہے۔ یہی پیغام بعد میں اقبال کے فلسفۂ خودی مردِ مؤمن اور قرآنی تصورِ انسان میں پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اس اعتبار سے نظم ہمالہ کا یہ حصہ محض ایک پہاڑ کی تعریف نہیں بلکہ انسان کو اس کی کھوئی ہوئی روحانی عظمت یاد دلانے کا ایک مؤثر اور حکیمانہ خطاب ہے۔
Comments
Post a Comment