یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کیازقلم : افضال احمد ملی۔(مسجد باغ فردوس باغبان پورہ، چاندوڑ )
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
ازقلم : افضال احمد ملی۔
(مسجد باغ فردوس باغبان پورہ، چاندوڑ )
عزیزان گرامی..!
قوموں کے عروج و کمال، اور انسانیت کی تعمیر و ترقی میں کتابوں کی بڑی اہمیت رہی ہے،
جو قوم کتاب سے رشتہ توڑ لیں، وہ دنیا میں بہت پیچھے رہ جاتی ہے.
جو قوم کتاب اور مطالعہ کو اہمیت نہیں دیتی، وہ خود اپنی اہمیت اور قدر و منزلت سے محروم ہو جاتی ہے.
جس معاشرے میں مطالعہ و تحقیق رک جائے وہ معاشرہ ذہنی و عقلی طور پر ساکن ہوجاتا ہے.
اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جو قوم کتابوں سے وابستہ ہوجاتی ہے، وہ دنیا پر حکمران ہوجاتی ہے.
اس کی مثال مُسلمانوں کا وہ تاریخی دور ہے جس میں مسلمان کتابیں پڑھنے، لکھنے، اور اس کی اشاعت میں سب سے آگے تھا. اور اسی کتاب دوستی کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک مُسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی.
آج ہم ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے بھنور میں پھنس کر ٹویٹر اور واٹس اپ کی دنیا میں مگن ہوکر کتابوں سے دور ہوگئے ہیں.
انٹرنیٹ اور موبائل نے جہاں ایک طرف انسانی زندگی آسان کی ہے وہیں دوسری جانب ایک بڑا نقصان کتب بینی میں کمی کا ظاہر ہوا ہے،
کتب خانے اور لائبریریاں ویران پڑی ہیں.
کتب خانوں کی الماریوں میں چنی ہوئی کتابیں ہمیں اپنی جانب متوجہ کرنے کی ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہے،
مگر افسوس صد افسوس...!
ہم اپنی تنہائی کو دور کرنے کیلئے موبائل اور انٹرنیٹ کا سہارا لے لیتے ہیں، اور کتابیں اکیلی ہی رہ جاتی ہے،
بوریوں کے جس اندھیرے میں انہیں لایا گیا تھا، اسی اندھیرے کا کمبل اوڑھ کر انہیں دن چڑھے تک سونا پڑتا ہے.
مگر ہم یہ جان لیں..!
کہ لفظوں کو نیند نہیں آتی، اسی طرح الماریوں میں پڑے پڑے ان کی جلدیں چاک ہوجاتی ہیں،
جن کتابوں کی انگلی پکڑ کر انسان نے جنگل سے شہر تک کا سفر کیا، انہی کتابوں کے لرزتے ہاتھوں کو چھوڑ کر ہم نے مشینوں کے بازو پکڑ لئے، اور مشینوں نے ہماری دماغ کی رگیں کاٹ کر ہمیں فکری اپاہج بنادیا.
کتب بینی اور مطالعہ و تحقیق کے فقدان پر جناب سعود عثمانی صاحب نے بڑی زبردست بات کہی ہے
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے.
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی.
Comments
Post a Comment