تعلیم پر لاٹھیاں نہیں، انصاف کی ضرورت ہے!نوجوانوں کا مستقبل بچائیے، جمہوریت کا وقار برقرار رکھیے - ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔(مصنف، صحافی و سماجی تجزیہ نگار)
تعلیم پر لاٹھیاں نہیں، انصاف کی ضرورت ہے!
نوجوانوں کا مستقبل بچائیے، جمہوریت کا وقار برقرار رکھیے -
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
(مصنف، صحافی و سماجی تجزیہ نگار)
ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا نوجوان ہے۔ یہی نوجوان کل کا سائنس دان، ڈاکٹر، انجینئر، استاد، جج، فوجی، کسان، صنعت کار اور ملک کا رہنما بنتا ہے۔ اگر یہی نوجوان مایوسی، بے یقینی اور ناانصافی کا شکار ہو جائے تو کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔
ہمارا آئین ہر شہری کو مساوات، انصاف اور باعزت زندگی کا حق دیتا ہے۔ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے منتخب نمائندے آئین پر حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ عوام کی خدمت کریں گے، ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔ اس لیے عوام کی توقع بھی یہی ہوتی ہے کہ ان کی آواز کو سنا جائے اور ان کے مسائل کو ترجیح دی جائے۔
آج لاکھوں طلبہ نیٹ (NEET) اور دیگر امتحانات سے متعلق پیدا ہونے والی بے یقینی، پیپر لیک، امتحانات میں تاخیر اور انتظامی خامیوں سے پریشان ہیں۔ ایک غریب مزدور، کسان یا متوسط طبقے کا باپ اپنی ضروریات قربان کرکے اپنے بچے کو کوچنگ، ہاسٹل اور تعلیم دلاتا ہے۔ جب امتحان بار بار تنازعات کا شکار ہو یا شفافیت پر سوال اٹھیں تو صرف طالب علم ہی نہیں بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔
کل ملک میں طلبہ کے احتجاج کے دوران جو مناظر سامنے آئے، وہ افسوس ناک تھے۔ نوجوان اپنے مستقبل کے تحفظ اور شفاف امتحانی نظام کا مطالبہ کر رہے تھے، مگر کئی مقامات پر طاقت کے استعمال کی خبریں سامنے آئیں۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے جرم نہیں ہوتا۔ نوجوانوں کی آواز سننا اور ان سے مکالمہ کرنا ہی ایک مضبوط جمہوری حکومت کی پہچان ہے۔
اسی طرح اتر پردیش کی محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق بھی طلبہ کی آواز سامنے آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں طلبہ کے لیے امید کا مرکز ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، مختلف ریاستوں اور بعض بیرونی ممالک سے بھی طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ طالبات کے لیے محفوظ ہاسٹل، کم خرچ تعلیم اور بہتر تعلیمی ماحول اس ادارے کی نمایاں خصوصیات بتائی جاتی ہیں۔ ان کی اپیل ہے کہ تعلیمی اداروں کے معاملات میں ایسا کوئی فیصلہ نہ ہو جس سے طلبہ کا مستقبل متاثر ہو۔
آج اگر نوجوان احتجاج کر رہے ہیں تو ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ان کی بے چینی کی وجہ کیا ہے۔ وہ صرف اپنا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر نوجوان مطمئن ہوں گے، کسان خوشحال ہوگا، مہنگائی پر قابو پایا جائے گا، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور تعلیم شفاف ہوگی، تبھی ہندوستان حقیقی معنوں میں ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بن سکے گا۔
ملک کے وزیر اعظم اور تمام منتخب نمائندوں پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عوام کی یہ امید بجا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر طلبہ، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کے مسائل پر بھی پوری توجہ دیں۔ یہی جمہوریت کی روح اور آئین کا تقاضا ہے۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اصلاح، شفافیت اور اعتماد بحال کرنے کا ہے۔ حکومت، اپوزیشن، عدلیہ، تعلیمی ادارے اور سماج کے تمام ذمہ دار افراد کو مل کر ایسا نظام قائم کرنا چاہیے جہاں نہ پیپر لیک ہو، نہ طلبہ کو احتجاج پر مجبور ہونا پڑے اور نہ ہی ان کے جائز مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جائے۔
یاد رکھئے!
لاٹھی سے خوف پیدا کیا جا سکتا ہے، اعتماد نہیں۔
طاقت سے احتجاج دبایا جا سکتا ہے، خواب نہیں۔
کتاب، قلم اور انصاف ہی ایک مضبوط ہندوستان کی بنیاد ہیں۔
اگر ہندوستان کو واقعی سپر پاور بنانا ہے تو سب سے پہلے اپنے نوجوانوں کے خوابوں کی حفاظت کرنا ہوگی، کیونکہ آج کا طالب علم ہی کل کا ہندوستان ہے۔
تعلیم پر لاٹھیاں نہیں، انصاف کی ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment