پروفیسر ڈاکٹر صادق شیخ و ڈاکٹر صفینہ شیخ کا آرٹیفیشل وِزڈم پر منفرد ڈیزائن پیٹنٹ شائع - "جذباتی و نفسیاتی مشاورت، اسٹریس مینجمنٹ اور میڈیکل ہیلنگ کے میدان میں اہم پیش رفت". : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
پروفیسر ڈاکٹر صادق شیخ و ڈاکٹر صفینہ شیخ کا آرٹیفیشل وِزڈم پر منفرد ڈیزائن پیٹنٹ شائع -
"جذباتی و نفسیاتی مشاورت، اسٹریس مینجمنٹ اور میڈیکل ہیلنگ کے میدان میں اہم پیش رفت". : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں۔
بھوساول کے ممتاز ماہرِ تعلیم و محقق پروفیسر ڈاکٹر صادق شیخ اور ان کی شریکِ حیات ڈاکٹر صفینہ شیخ نے تحقیق و اختراع کے میدان میں ایک اور نمایاں سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے۔ حکومتِ ہند کے انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس (IPR) آفس کی جانب سے ان کے منفرد ڈیزائن پیٹنٹ "Artificial Wisdom Based Emotional Wellness Assisting Device" کو باضابطہ طور پر شائع کیا گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت اور انسانی جذباتی صحت کے امتزاج پر مبنی ایک جدید تصور پیش کرتا ہے۔
یہ اختراعی ڈیزائن مستقبل میں جذباتی و نفسیاتی مشاورت (Emotional & Psychological Counselling)، ذہنی دباؤ (Stress Management)، غصے کے مؤثر نظم و نسق (Anger Management) اور طبی بحالی (Medical Healing) کے شعبوں میں معاون ثابت ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی مریضوں کی ذہنی کیفیت کا بہتر تجزیہ کرنے، بروقت رہنمائی فراہم کرنے اور علاج کے نتائج کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
آج کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت صنعتی، تجارتی اور الیکٹرانک شعبوں میں انقلاب برپا کر رہی ہے، وہیں ڈاکٹر صادق شیخ اور ڈاکٹر صفینہ شیخ کی یہ تحقیق اس ٹیکنالوجی کو انسانی صحت، خصوصاً ذہنی و جذباتی بہبود سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ ان کی یہ اختراع اس بات کی غماز ہے کہ مستقبل کی طبی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی اور انسانی نفسیات کا امتزاج علاج کے نئے امکانات پیدا کرے گا۔
اس ڈیوائس کے ذریعے معالجین کو مریضوں کی جذباتی کیفیت کو بہتر انداز میں سمجھنے، ذہنی دباؤ کی شدت کا اندازہ لگانے اور کم وقت میں زیادہ مؤثر طبی مشورے فراہم کرنے میں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج میسر آنے کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔
پروفیسر ڈاکٹر صادق شیخ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے مصنوعی ذہانت، اختراعی ٹیکنالوجی اور جدید تحقیق کے مختلف میدانوں میں مسلسل سرگرم ہیں۔ اس طویل تحقیقی سفر میں ڈاکٹر صفینہ شیخ نے نہ صرف ان کا بھرپور ساتھ دیا بلکہ مختلف تحقیقی منصوبوں کی تکمیل میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان دونوں کی علمی ہم آہنگی اور تحقیقی بصیرت نے متعدد نئے تصورات کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بھوساول جیسے شہر سے تعلق رکھنے والے اس باصلاحیت جوڑے کی یہ کامیابی نہ صرف شہر بلکہ پورے خطۂ خاندیش، ریاست مہاراشٹر اور ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔ خصوصاً اقلیتی طبقے سے وابستہ نوجوانوں کے لیے یہ کامیابی ایک روشن مثال ہے کہ لگن، مسلسل محنت، تحقیق اور جدت پسندی کے ذریعے عالمی معیار کی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
علمی، تعلیمی، طبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر صادق شیخ اور ڈاکٹر صفینہ شیخ کو اس نمایاں کامیابی پر مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کا یہ ڈیزائن پیٹنٹ مستقبل میں ذہنی صحت اور میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی راہیں ہموار کرے گا اور انسانی خدمت کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔
Comments
Post a Comment