ہمیں بشیر بدر کے فن کی قدر کرنی چاہیے مگر انہیں بت نہیں بنانا چاہیے" — ڈاکٹر اسلم جمشید پوری۔ اردو کارواں کے زیرِ اہتمام بشیر بدر پر دو روزہ عالمی آن لائن سیمینار اختتام پذیر، ملک و بیرونِ ملک کے محققین کی بھرپور شرکت۔


ممبئی/شولاپور، 6 جولائی: اردو کارواں کے زیرِ اہتمام معروف شاعر بشیر بدر کی شخصیت اور فن پر منعقدہ دو روزہ عالمی آن لائن سیمینار کا اختتام علمی، تنقیدی اور تحقیقی مباحث کے ساتھ ہوا۔ اختتامی روز مختلف اجلاسوں میں ملک کی ممتاز جامعات کے اساتذہ، محققین اور بیرونِ ملک سے شریک ریسرچ اسکالروں نے اپنے مقالات پیش کیے اور بشیر بدر کی شاعری کے مختلف فنی و فکری پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
چوتھے اجلاس کے صدر ڈاکٹر عبدالرب استاد (سابق کارگزار صدرجامعہ گلبرگہ یونیورسٹی، کرناٹک)نے مقالہ نگاروں کے مقالات کا باریک بینی سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ "بشیر بدر کی شاعری مشرقی روایتوں کی امین ہے اور ان کی شاعری ہمارے معاشرے اور اطراف کے حالات کے گہرے مشاہدے کی آئینہ دار ہے۔" اس اجلاس کے دوسرے صدر پروفیسر غلام سرور ساجد (شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہا کہ "اچھا شاعر خود اپنا ناقد ہوتا ہے، اور بشیر بدر میں یہ وصف بدرجۂ اتم موجود تھا۔" انہوں نے اردو کارواں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔
پانچویں اجلاس کے صدر نیپال کے معروف شاعر و ادیب ڈاکٹر ثاقب ہارونی نے کہا کہ جدید شاعری کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، مگر روایتی شاعری کی اپنی مستقل شناخت اور قدر و قیمت ہے، اور عربی و فارسی الفاظ کی آمیزش کی بنیاد پر اس کی تحقیر نہیں کی جا سکتی۔
چھٹے اجلاس میں پروفیسر ستار (سابق رجسٹرار، مولوی عبدالحق یونیورسٹی، کرنول، آندھرپردیش) اور پروفیسر ڈاکٹر عطا اللہ خان سنجری (شری شنکر اچاریہ سنسکرت یونیورسٹی، کالی کُٹ،کیرلا) نے صدارت کرتے ہوئے مقالات کا تنقیدی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی مقالہ لکھنا ایک مستقل فن ہے جبکہ اسے مؤثر انداز میں پیش کرنا ایک الگ مہارت ہے، جس کے لیے درست تلفظ، مؤثر ادائیگی اور عمدہ اندازِ بیان نہایت ضروری ہے تاکہ تحقیق کا پیغام سامعین تک صحیح انداز میں پہنچ سکے۔
سیمینار میں ملک کی تقریباً پچیس جامعات، جہاں شعبۂ اردو قائم ہے، کے ریسرچ اسکالروں نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ بیرونِ ملک تہران یونیورسٹی (ایران) سے ریسرچ اسکالر سمیرا گیلانی نے "بشیر بدر کی شاعری ناقدوں کی آرا کے آئینے میں" کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کر کے بین الاقوامی رنگ کو مزید نمایاں کیا۔
اختتامی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، (صدر شعبۂ اردو، چوہدری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ) نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں بشیر بدر کی شخصیت اور فن کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میرٹھ سے ان کا گہرا تعلق تھا، مگر فرقہ وارانہ فسادات میں ان کا مکان نذرِ آتش ہونے کے بعد وہ مستقل طور پر بھوپال منتقل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم اہلِ علم و ادب کی زندگی میں ان کی مناسب قدر نہیں کرتے اور ان کے انتقال کے بعد انہیں غیر معمولی مرتبہ دے دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں بشیر بدر کے فن کی قدر کرنی چاہیے مگر انہیں بت نہیں بنانا چاہیے، کیونکہ ہر شاعر اور ادیب کی تخلیقات علمی اور تنقیدی جائزے کی متقاضی ہوتی ہیں۔"
اختتامی اجلاس میں اردو کارواں کی جانب سے فرید احمد خان نے مہمانانِ کرام کا خیرمقدم کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اختتامی اجلاس کے صدر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کا جامع تعارف بھی پیش کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے اردو کارواں کی ادبی و تحقیقی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل دس سالوں سے معیاری علمی پروگرام منعقد کرتا رہا ہے،اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔
پروگرام کے کوآرڈ ینیٹر ڈاکٹر محمد شفیع چوبدار نے ملک و بیرونِ ملک سے شریک تمام صدورِ اجلاس، مہمانانِ خصوصی، محققین، اساتذہ، طلبہ اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سیمینار کی کامیابی میں پروفیسر ڈاکٹرسمیہ باغبان،ڈاکٹر صدف آرا چوبدار اور اردو کارواں کے تمام اراکین نے نمایاں کردار ادا کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔