"وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ اور طلبہ تحریک کی کامیابی۔۔ از قلم : ڈاکٹر احتشام نداف۔ (سر سید احمد خان اردو ہائی اسکول شولاپور)


"وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ اور طلبہ تحریک کی کامیابی۔
از قلم : ڈاکٹر احتشام نداف۔ 
 (سر سید احمد خان اردو ہائی اسکول شولاپور) 

    تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب تعلیمی نظام میں بار بار ایسی خامیاں سامنے آئیں جو طلبہ کے مستقبل کو متاثر کریں، تو طلبہ اور عوام میں بے چینی پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔

      حال ہی میں ۲۵,جولائ کو وزیرِ تعلیم کے استعفے کو بہت سے لوگوں نے طلبہ تحریک کی ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ یہ تحریک کسی مخصوص شخصیت کی مخالفت نہیں تھی، بلکہ تعلیمی نظام میں شفافیت، دیانت داری اور طلبہ کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔

       طلبہ نے پرامن انداز میں نہ صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی بلکہ حکومت تک یہ واضح پیغام پہنچایا کہ تعلیمی نظام میں بار بار ہونے والی بے ضابطگیوں، خصوصاً پرچوں کے لیک ہونے، واقعات ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کی جدوجہد نے یہ ثابت کیا کہ جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرنے سے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

      طلبہ اور عوام الناس کے ایک بڑے طبقے کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایسے واقعات سے نہ صرف قوم کا نقصان ہوتا ہے بلکہ خصوصاً غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ  کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں، جبکہ بعض لوگوں کو ناجائز فائدہ حاصل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسی لیے طلبہ کا مطالبہ یہ بھی رہا کہ ایسا مضبوط نظام قائم کیا جائے جس میں کسی بھی بااثر یا خوشحال طبقے کو غیر قانونی فائدہ حاصل نہ ہو، اور ہر طالب علم کو صرف اپنی محنت اور اہلیت کی بنیاد پر کامیابی حاصل ہو۔

        اس تحریک نے یہ ثابت کیا کہ طلبہ جب اپنے حقوق کے لیے متحد ہوتے ہیں، تو ان کی آواز پورے ملک میں سنی جاتی ہے۔ اس تحریک میں طلبہ کی مختلف تنظیمیں پیش پیش تھیں جنمیں کاکروچ جنتا پارٹی ، AISF  طلبہ تنظیمیں، جامعہ ملیہ سے وابستہ طلبہ تنظیمیں وغیرہ نے بھرپور کردار ادا کیا۔ تحریک کے دوران طلبہ کو کچھ افراد کی جانب سے "دہشت گرد"، "من مانی" اور بعض دیگر القابات سے بھی پکارا گیا، تاہم اس سے یہ تاثر سامنے آیا کہ یہ  طلبہ تحریک تعلیم اور یکجہتی کو فروغ دینے کے خواہاں ہے۔ 

      جنتر منتر پر طلبہ نے گودی میڈیا یعنی حکومت نواز  میڈیا کے خلاف جم کر نعرے بازی کی اور خوب مخالفت کی۔جبکہ اس کے بر عکس اس تحریک کی خبریں مختلف صحافیوں اور میڈیا اداروں نے نمایاں طور پر نثر کیں۔ 
     بعض آزاد صحافیوں جن میں اجیت انجم، رویش کمار، ابھیسار شرما، ، دھرو راٹھی وغیرہ شامل ہیں، نے جنتر منتر  سے مسلسل رپورٹنگ کی، جس سے تحریک کی آواز ملک کے مختلف حصوں تک پہنچی۔

    احتجاج کے دوران طلبہ نے مشکلات اور پرتشدد پولیس کارروائی کا بھی سامنا کیا، لیکن  طلبہ اپنے موقف پر قائم رہےاور پر امن انداز میں اپنے مطالبات پیش کرتے رہے۔
      جنتر منتر پر بلا معاوضہ ۳۰ دن تک  طلبہ کو کھانا تقسیم کرنے والے یوپی کے محمد جنید بھی موضوع بحث رہے۔ ان کے اس اقدام کو سارے ملک نے سراہا۔ شہر شولاپور میں وکلاء کی  تنظیم نے اور اور مختلف سماجی و طلبہ تنظیموں نے طلبہ کی حمایت میں حکومت کے خلاف ریلیاں نکالیں، پونم گیٹ پر احتجاج کئے گئے۔ دہلی میں پارلیمنٹ کے احاطے میں شولاپور کی رکن پارلمینٹ محترمہ پر نیتی شندے بھی اراکین پارلیمنٹ کے شانہ بشانہ  طلبہ پر کیے گئے تشدد کے خلاف بیانات دیتی نظر آیئں۔  

        اس تحریک کو مختلف سماجی   جماعتوں کی حمایت بھی حاصل رہی، جن میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی،ادھو ٹھاکرے، راج ٹھاکرے، بیرسٹر اسدالدین اویسی، شرد پواروغیرہ شامل تھے۔ اس تحریک کو مختلف سماجی و معروف شخصیات کی بھی حمایت حاصل رہی۔ معروف شخصیت سونم وانگچک نے  طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں 26 دن تک بھوک ہڑتال کی.بعد ازاں پولیس غلط طریقے سے کارروائی کرتے ہوئے  انہیں اٹھالے گئی۔ان کی پر امن جدوجہد اور استقامت نے بہت سے نوجوانوں کو حوصلہ دیا۔ بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے طلبہ کے اتحاد اور بہتر  تعلیمی نظام کے مطالبے کی تعریف کی۔ اس ٹویٹ کو طلبہ کے ساتھ ساتھ ملک میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ نسرالدین شاہ، شیانہ اعظمی، پرکاش راج وغیرہ کی بھی حمایت حاصل رہی۔
     اس تحریک کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ " کے جی سے لیکر پی جی تک کسی بھی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو، میرٹ کا تحفظ یقینی بنایا جاۓ۔ اور ہر طالب علم کو اپنی محنت و صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم ہو۔ 
>

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔