ملک میں بڑھتی بے چینی، بدعنوانی اور حکومت کی خاموشی آخر کب تک؟سونم وانگچک کی تحریک کی بازگشت بیڑ ضلع تک پہنچ گئی - سید فاروق احمد قادری۔
ملک میں بڑھتی بے چینی، بدعنوانی اور حکومت کی خاموشی آخر کب تک؟
سونم وانگچک کی تحریک کی بازگشت بیڑ ضلع تک پہنچ گئی -
سید فاروق احمد قادری۔
دہلی کے جنتر منتر میں جاری سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور احتجاج اب صرف ایک فرد یا ایک تنظیم کی تحریک نہیں رہا بلکہ یہ ملک میں بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی، امتحانی بے ضابطگیوں، شفافیت اور جوابدہی کے مطالبات کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ احتجاج کرنے والے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور متعلقہ معاملات پر شفاف کارروائی کی جائے، لیکن اب تک حکومت کی جانب سے باضابطہ مذاکرات یا کسی بڑے اعلان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
اسی جذبے کے تحت آج ضلع بیڑ میں بھی صحافیوں، سماجی کارکنوں اور عوام نے آگے بڑھ کر احتجاج کیا۔ یہ احتجاج صبح 11 بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک جاری رہا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا حل نکالا جائے۔
آج ملک کا عام شہری یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ اگر بدعنوانی، امتحانی بے ضابطگیوں اور انتظامی خامیوں کی شکایات بار بار سامنے آ رہی ہیں تو ان کی روک تھام کے لیے ذمہ دار ادارے اور متعلقہ محکمے کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ عوام کی توقع ہے کہ ہر شکایت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور نظام پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔
جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے۔ اختلافِ رائے کو سننا، احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کرنا اور شفاف نظام قائم کرنا ہر جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی آواز کو نظر انداز کرنے کے بجائے مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا ہی ملک اور جمہوریت دونوں کے مفاد میں ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، متعلقہ ادارے اور عوامی نمائندے مل بیٹھ کر ایسے اقدامات کریں جن سے بدعنوانی پر مؤثر قابو پایا جا سکے، نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔ یہی ایک مضبوط، شفاف اور جوابدہ ہندوستان کی بنیاد ہے۔
Comments
Post a Comment