واجد اختر صدیقی کی "نقشِ تحریر" : علاقائی ادب کے فروغ میں ایک مثبت پیش رفت۔ ازقلم : ڈاکٹر عافیہ حمید۔(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد)
واجد اختر صدیقی کی "نقشِ تحریر" : علاقائی ادب کے فروغ میں ایک مثبت پیش رفت۔
ازقلم : ڈاکٹر عافیہ حمید۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد)
واجد اختر صدیقی ریاستِ کرناٹک، بالخصوص گلبرگہ (حیدرآباد کرناٹک) کی ایک ممتاز ادبی شخصیت ہیں۔ اردو نثر کے حوالے سے موصوف دور دراز علاقوں تک اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ سن 2023ء میں ان کی چوتھی تصنیف **"نقشِ تحریر"** منظرِ عام پر آئی اور قلیل مدت میں علمی و ادبی حلقوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ اس کی پذیرائی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے طول و عرض سے متعدد ناقدین اور مبصرین نے نہ صرف اس کتاب پر اظہارِ خیال کیا بلکہ اسے علاقائی ادب کے تحفظ و فروغ کی ایک اہم اور مثبت کاوش قرار دیا۔ اس کتاب پر ملک کے موقر رسائل، جرائد اور اخبارات میں متعدد تبصرے شائع ہو چکے ہیں۔ "نقشِ تحریر" کا مطالعہ میرے لیے بھی باعثِ مسرت رہا، اور انہی تاثرات کو قلم بند کرنے کی یہ ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
واجد اختر صدیقی اردو دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کی علمی، تدریسی اور ادبی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ میدانِ ادب میں ان کی بے لوث خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اپنے علمی ذوق، مطالعے اور مسلسل محنت سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انسان کسی شعبے سے حقیقی دلچسپی رکھتا ہو تو اس کی لگن ہر دشواری کو آسان بنا دیتی ہے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔
"نقشِ تحریر" بھی اسی لگن، محنت اور ادبی وابستگی کا ثمر ہے۔ کتاب اپنے خوبصورت سرورق سے لے کر آخری صفحے تک حسنِ ترتیب، عمدہ پیشکش اور دلکشی کا احساس دلاتی ہے۔ اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے ہر مضمون کی ترتیب و تدوین میں نہایت عرق ریزی سے کام لیا ہے۔
واجد اختر صدیقی کی استاد نوازی کا بین ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب کا انتساب اپنے مرحوم استاد محترم ڈاکٹر وحید انجم کے نام کیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں درج ان کا یہ شعر انسانی زندگی کی بے ثباتی کی نہایت خوبصورت ترجمانی کرتا ہے:
یہ دنیا ہے فانی، یہ دنیا ہے فانی
عجب زندگانی، عجب زندگانی
واجد اختر صدیقی جہاں ایک اچھے ادیب اور نقاد ہیں، وہیں ایک صاحبِ طرز شاعر بھی ہیں۔ اس کتاب کی ترتیب و تہذیب میں بھی ان کی فکری بصیرت، تخلیقی صلاحیت اور ادبی ذوق نمایاں طور پر جلوہ گر ہے۔ آٹھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب اپنی ساخت، مواد اور اسلوب کے اعتبار سے متعدد انفرادی خصوصیات کی حامل ہے۔
کتاب کے ابتدائی مضمون "مجھے کہنا ہے کچھ" میں مصنف لکھتے ہیں:
"سرزمینِ گلبرگہ شعر و ادب کے لحاظ سے درخشندہ روایات اور تابناک ماضی کی امین ہے۔ یہاں کا ادب منفرد ہے اور یہاں کے ادبا و شعرا غیر معمولی اہمیت و عظمت کے حامل ہیں۔"
بلاشبہ گلبرگہ ادب و ثقافت کا ایک زرخیز مرکز رہا ہے۔ واجد اختر صدیقی نے "نقشِ تحریر" میں انہی ادبا، شعرا اور قلم کاروں پر مضامین، تبصرے اور تجزیے شامل کیے ہیں جن کا تعلق ضلع گلبرگہ سے ہے۔ یوں یہ کتاب اپنے علاقے کے اہلِ قلم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش بن گئی ہے۔
ڈاکٹر غضنفر اقبال، جن کا تعلق گلبرگہ کے ایک علمی و ادبی خانوادے سے ہے اور جو تقریباً پچیس کتابوں کے مصنف ہیں، نے واجد اختر صدیقی پر "واجد اختر صدیقی: ایک نقشِ خاکساری" کے عنوان سے نہایت عمدہ خاکہ تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"واجد اختر صدیقی ارضِ دکن کے ایسے سپوت ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں میں دیارِ دکن کے ادیبوں اور شاعروں کو خصوصی اہمیت دی۔ ان کی تحریریں دکن کے فن کاروں کی ادبی خدمات کا مؤثر، منظم اور دل آویز بیان ہیں۔"
ڈاکٹر غضنفر اقبال کی اس رائے سے اندازہ ہوتا ہے کہ واجد اختر صدیقی کی تحریریں فکری گہرائی، منطقی ربط اور شگفتہ اسلوب کی آئینہ دار ہیں۔
پروفیسر مجید بیدار، ڈاکٹر شفیع ایوب اور عزیز بلگرامی جیسی ممتاز ادبی شخصیات نے بھی "نقشِ تحریر" کی تحریروں کو قابلِ اعتنا، مستند اور ادبی اعتبار سے اہم قرار دیا ہے۔
کتاب کے مختلف ابواب اپنے موضوعات کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ بابِ زمان میں گلبرگہ کی تصانیف کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ بابِ سخن میں اٹھارہ قدیم و جدید شعرا پر مضامین شامل ہیں، جن میں پروفیسر حمید سہروردی، خمار قریشی، ثنا تماپوری، نصیر احمد نصیر، ڈاکٹر رزاق اثر، حامد اکمل، ڈاکٹر سید عتیق اجمل وزیر اور محمد جاوید اقبال صدیقی شامل ہیں۔
بابِ فن میں آٹھ اہم قلم کاروں، مثلاً منظور وقار، ریاض قاصدار، ڈاکٹر غضنفر اقبال اور محمد عرفان ثمین پر مضامین شامل کیے گئے ہیں، جبکہ بابِ ایوان میں پندرہ اہلِ قلم پر مضامین شامل ہیں، جن میں ڈاکٹر وہاب عندلیب، عبدالرحیم آرزو، پروفیسر حمید سہروردی، خالد سعید، ڈاکٹر وحید انجم، ڈاکٹر انیس صدیقی اور ڈاکٹر منظور احمد دکنی نمایاں ہیں۔
بابِ جہان میں "زخموں کی زبان"، "منظر دھواں دھواں" اور "کلام تجھ لب کا" جیسی کتابوں پر تبصرے شامل ہیں۔ بابِ چمن میں تین کتابوں پر تبصرے، بابِ میزان میں گیارہ کتابوں کے جائزے، جبکہ آخری باب بابِ گمان میں دو افسانوں کے تجزیے شامل کیے گئے ہیں۔
کتاب کے آخر میں محمد جاوید اقبال صدیقی نے واجد اختر صدیقی کے حالاتِ زندگی اور علمی و ادبی خدمات پر مبنی مختصر کوائف مرتب کیے ہیں، جو کتاب کی افادیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
مصنف کے اسلوبِ نگارش کا اندازہ درج ذیل اقتباسات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ پروفیسر حمید سہروردی کی شاعری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
"حمید سہروردی نے اپنی شاعری کو استعاراتی نظام میں ڈھالا ہے اور ان کی بیشتر نظمیں ابہام گوئی کی عمدہ مثالیں ہیں، تاہم ان کی متعدد نظمیں وسیع تر مطالب و مفاہیم کی حامل ہیں۔ انہوں نے غیر شاعرانہ الفاظ کو بھی نہایت برمحل استعمال کیا ہے۔"
منظور وقار کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
"منظور وقار اگرچہ طنز و مزاح نگاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، لیکن دیگر ادبی اصناف میں بھی انہیں نمایاں فنی دسترس حاصل ہے۔ انہوں نے جس میدان میں بھی قلم اٹھایا، ظرافت اور شگفتگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔"
ڈاکٹر انیس صدیقی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"نہایت خاموش طبع، کم آمیز، نام و نمود سے بے نیاز ڈاکٹر انیس صدیقی صحافت، بالخصوص ادبی صحافت، تحقیق، ترتیب و تدوین اور اشاریہ سازی سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔"
اسی طرح ڈاکٹر منظور احمد دکنی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"گلبرگہ سے ابھرنے والی یہ نئی آواز مستقبل میں بھی اپنی صداقت اور تنقیدی بصیرت کے باعث اردو ادب میں ایک مستحکم مقام حاصل کرے گی۔"
مختصراً یہ کہ "نقشِ تحریر"** 312 صفحات پر مشتمل ایک اہم ادبی تصنیف ہے، جسے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی نے نہایت خوبصورتی سے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب گلبرگہ کے ادبی سرمایہ میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ تحقیق سے وابستہ افراد، ریسرچ اسکالروں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے یہ ایک مفید اور قابلِ استفادہ کتاب ہے۔ **400 روپے** کی مناسب قیمت پر دستیاب یہ تصنیف مصنف سے براہِ راست رابطہ کرکے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment