لوگوں کی خدمت اور ان کی مدد کرنا بڑی نیکی ہے۔ - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی۔(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)


لوگوں کی خدمت اور ان کی مدد کرنا بڑی نیکی ہے
از قلم :  مفتی محمد اسلم جامعی۔
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں) 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُھُم لِلنَّاس ( مسند الشھاب للقضاعی صفحہ٧١٤) لوگوں میں خوب تر وہ شخص ہے، جو لوگوں کے لیے نفع رسا ہو، مذہبِ اسلام نے انسانی خدمت کو اخلاقِ حسنہ اور عبادتِ عظیمہ قرار دیا، خدمتِ خلق محبتِ الٰہی کا تقاضا، ایمان کی روح اور دنیا و عقبیٰ کی سرخروئی کا زینہ ہے، ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اَلْخَلْقُ کلهم عيال فاحب الخلق إلی الله انفعهم لعياله ( المسند البزّار الجزء ١٣ صفحہ ٣٣٢) یعنی ساری مخلوق، اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے، اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ بندہ ہے، جو اس کے عیال کے لیے سب سے زیادہ نفع رسا ہو، بل کہ ایک دوسری روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، الله في عون العبد ما كان العبد فی عون أخيه (صحیح مسلم) یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، ان دونوں روایتوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدمتِ خلق اور لوگوں کی نفع رسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبوبیت اور مدد کا پروانہ عطا کیا، کہ لوگوں کی مدد کرنا ان کو راحت و آرام پہنچانا، ان کو کھانے پینے، کپڑے اور دیگر ضروریاتِ زندگی سے آراستہ کرنا بڑی نیکی اور ثوابِ عظیم ہیں، بل کہ خدمتِ خلق کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی بار وحی نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارِ گراں ذمہ داری سے کچھ گھبراہٹ محسوس کی، دولتکدہ پر تشریف لائے، اور ساری کیفیت اپنی غم گسار، وفا شعار شریکِ حیات اُمُّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما سے بیان کی، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے ساری کیفیت سن کر جو تسلی آمیز اور حوصلہ افزا کلمات ارشاد فرمائے وہ کتبِ احادیث میں محفوظ ہے، چناں چہ امام بخاری رح نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کے الفاظ کو اپنی صحیح میں نقل کیا، کلّا لا یحزنک الله! انك لتصل الرحم و تحمل الكل و تكسب المعدوم و تقوی الضيف و تعين علی نوائب الحق ( صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا، کیوں کہ آپ رشتہ داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرتے ہیں، بے سہارا لوگوں کی مدد کرتے ہیں مہمانوں کی خاطر تواضع کرتے ہیں، آسمانی حوادث میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جن پانچ اوصاف کو بیان کیا ان سب کا تعلق خدمتِ خلق کے مختلف پہلوؤں سے ہیں اس میں حُسنِ سکوک بھی ہے اور بدنی و مالی تعاون بھی، یہ سب کارِ نبوت ہے، کسی کی تکلیف اور دکھ درد میں شریک ہونا اس کے درد کا درماں کرنا اسوۂ نبوی، صالحین کا طریقہ اور خاصہ ہے،  

منجانب ادارہ پیغامِ جامعی مالدہ شیوار مالیگاؤں

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔