محمد عابد اللہ اطہر کی تصنیف ’’کلامِ اقبال میں مذہبی شخصیات کا تذکرہ‘‘ — اقبال فہمی کی ایک انفرادی کاوش - ازقلم : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔ سیل نمبر:


محمد عابد اللہ اطہر کی تصنیف ’’کلامِ اقبال میں مذہبی شخصیات کا تذکرہ‘‘ — اقبال فہمی کی ایک انفرادی کاوش - 
ازقلم : واجد اختر صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک۔ سیل نمبر: 9739501549

علامہ اقبال بین الاقوامی شاعر تھے یا ہیں، یہ کہنا محض ایک رسمی جملہ ہوگا۔ وہ بین الاقوامی شاعر تو تھے ہی، لیکن اس سے بڑھ کر دلوں کی دھڑکنوں میں بس جانے والے شاعر تھے۔ وہ عشقِ حقیقی کے شاعر تھے تو دوسری جانب عوامی احساسات کے ترجمان بھی تھے۔ وہ ایسے منفرد شاعر تھے جنہوں نے ہر عمر کے افراد کے لیے اپنے افکار کو شعری قالب میں ڈھالنے کی کامیاب سعی کی۔ انہوں نے ہندوستان میں بھائی چارے کے فروغ کے لیے رواداری کا درس بھی عام کیا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اقبال کی شاعری کا بڑا حصہ قرآنِ حکیم کی تفہیم و تفسیر پر مشتمل ہے۔ انہوں نے بارئ تعالیٰ کے فرمودات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں قومی یکجہتی، سالمیت اور اتحاد کی تعلیمات بھی نمایاں طور پر ملتی ہیں۔ حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے بھگوان رام کو ’’امامِ ہند‘‘ کے لقب سے نوازا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خالص اسلامی فکر کے حامل شاعر ہونے کے باوجود انہوں نے انسانی اخوت اور رواداری کا درس دیا۔ اس لحاظ سے ان کی شاعری کثیرالجہتی کا عمدہ نمونہ ہے۔
اقبال کے شعری اوصاف میں یہ بات بھی اہم ہے کہ جہاں وہ بعض مقامات پر ابہام کی فضا پیدا کرتے ہیں، وہیں سہلِ ممتنع کی پھوار بھی ان کی شاعری کو ایک لطیف دلکشی عطا کرتی ہے۔ ان کی شاعری کسی ایک فلسفے کی متحمل نہیں ہوسکتی بلکہ ان کے ہاں فلسفۂ خودی، فلسفۂ عشق، فلسفۂ انا، فلسفۂ زیست، فلسفۂ موت و حیات اور فلسفۂ فنا جیسے متعدد تصورات جلوہ گر ہیں جو ان کی شاعری کو آفاقیت بخشتے ہیں۔ شاہین کا تصور ان کی شعری امیجری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔
اقبال فہمی کے لیے قاری کا عالم ہونا ضروری نہیں۔ اگر کوئی علمی شخصیت اقبال کی شاعری کی شرح و توضیح کرتی ہے تو وہ تشریح دو آتشہ ہوجاتی ہے۔ ہمارے کرناٹک میں ایک ایسی ہی علمی شخصیت موجود ہے جو معلم بھی ہے، شاعر بھی، فلسفی و محقق بھی اور ادیب و نقاد بھی۔ ان سب سے بڑھ کر وہ ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، کرناٹک سے وابستہ ہیں۔ آج کل محمد عابد اللہ اطہر شیموگوی اسی ادارے کے ریاستی صدر کے منصب پر فائز ہیں۔ عابد اللہ اطہر کی پانچ کتابیں پہلے ہی منظرِ عام پر آکر مقبولیت حاصل کرچکی ہیں، جن میں: (1) تجلیاتِ اقبال (کلامِ اقبال میں قرآنی اصطلاحات کا جائزہ)، (2) حسنِ عمل (ترتیب)، (3) جدید اردو لسانیات، (4) حسرتوں کی سحر (نظموں کا مجموعہ)، (5) مجلسِ ابلیس و مجلسِ مفتیانِ عالم (ڈراما) شامل ہیں۔ سن 2026ء میں ان کی ایک اور اہم کتاب بعنوان ’’کلامِ اقبال میں مذہبی شخصیات کا تذکرہ‘‘ اردو شاعری کے حوالے سے منظرِ عام پر آئی ہے۔
یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ علامہ اقبال کو سمجھنے کی ایک منفرد اور قابلِ قدر کوشش ہے۔ عابد اللہ اطہر نے ایک اچھوتے موضوع پر کام کرتے ہوئے علامہ اقبال کی شاعری میں مذہبی شخصیات کے تذکرے کو نہایت احسن پیرائے میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کے پانچ ابواب ہیں: اول انبیاء، دوم صحابۂ کرام، سوم اولیاء، چہارم علمائے دین و مجتہدین اور پنجم دیگر مذاہب کی مذہبی شخصیات۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں جن خصوصیات اور جن خطوط پر ان شخصیات کا ذکر کیا ہے، مصنف نے اسے حتی الامکان اسی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس خوبصورت اور خوب سیرت ادبی تحفے کو انہوں نے اپنے استادِ محترم پروفیسر مسعود سراج کے نام معنون کرکے استاد شناسی کا ثبوت دیا ہے اور خراجِ تحسین کے طور پر اقبال کا یہ خوبصورت شعر پیش کیا ہے:
اگر کوئی شعیب آئے میسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے
پروفیسر مسعود سراج اپنے دور کے ممتاز استاد اور دانشور رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے مختصر تاثر ’’اظہارِ معنی‘‘ میں لکھا ہے کہ "محمد عابد اللہ نے زمانۂ طالب علمی ہی میں اپنی وسعتِ معلومات سے اساتذہ کو متاثر کر لیا تھا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ لسانیات پر ان کی تحریریں درِ تجسس وا کرتی ہیں۔" مسرت کا اظہار کرتے ہوئے وہ آگے رقم طراز ہیں کہ ’’مقامِ مسرت ہے کہ انہوں نے اقبال کی شاعری کے ایک اہم گوشے پر قلم اٹھایا ہے۔ مذہبی شخصیات پر لکھنا آسان نہیں، لیکن عابد اللہ نے ایک ایسے موضوع پر مواد فراہم کیا ہے جو اقبال سے ان کی گہری دلچسپی، ذوقِ تجسس، پختہ علمی بصیرت اور ژرف نگاہی کا بین ثبوت ہے۔‘‘

     عابد اللہ اطہر کے تعلق سے جتنے اوصاف پروفیسر مسعود سراج نے بیان کیے ہیں، وہ بلا تردد مصنف میں موجود ہیں۔ میں تو یہ کہوں گا کہ اس موضوع پر انہوں نے جو تحقیقی کام انجام دیا ہے، اس میں ان کی انتھک محنت، جستجو، لگن اور علمی دیوانگی شامل ہے۔ ایسی جنونی کیفیت کا حامل شخص ہی ایسے گوہرِ مراد کو قارئین کے سامنے پیش کرسکتا ہے اور خاموشی سے یہ باور کرا سکتا ہے کہ تحقیق اسے کہتے ہیں اور تحقیق ایسی ہونی چاہیے۔ اقبال کو سمجھنے اور سمجھانے کا کام ایک کامیاب محقق ہی کرسکتا ہے اور عابد اللہ اطہر نے یہ کام بخوبی انجام دیا ہے۔
’’میری رائے‘‘ کے عنوان سے ابوالمظفر محمد منور عفی عنہ لکھتے ہیں کہ ’’جب کبھی مذہبی موضوعات سے منسلک کتابوں کا ذکر ہوتا ہے تو نظر بے تحاشہ عالموں کی جانب جاتی ہے، لیکن اس تصنیف اور صاحبِ تصنیف کا اک عجب معاملہ ہے کہ جید علما کے اس عالم میں علما کا سا کارنامہ انجام دیا ہے۔‘‘ 
     میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اقبال فہمی کے لیے عالم ہونا ضروری نہیں بلکہ علمیت کافی ہے، اور یہی علمیت اطہر کے قلم سے پھوٹتی محسوس ہوتی ہے۔ ’’سات جملے‘‘ کے عنوان سے عابد اللہ اطہر نے بجا طور پر لکھا ہے کہ:
’’مذہبی شخصیات کا سہارا لے کر بے کیف و بے مقصد زندگیوں کو دلسوز انداز میں زندگی کا مقصد اپنی جدتِ طبع سے نئی اور مؤثر تراکیب شعری سے شعریت کا اظہار ، تمثیلات کا انوکھا پن، استعارات کا عجیب و عمیق عالم، شخصیات کا تہہ دار اظہارِ بیان اور احساسِ سود و زیاں کے لیے حقائقِ عالم کا جو موازناتی نظام علامہ اقبال نے اپنے شاعرانہ تخیلات سے عالمی ادب کو دیا ہے، کم از کم اس کے ہم پلہ دین کے لیے کوئی اور شاعر علوم شرقیہ میں آج ابھر نہیں سکا۔‘‘
   عابد اللہ اطہر نے اس ایک طویل جملے میں علامہ اقبال کو جو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، اس میں تخیل اور تخلیقی قوت کی حسین وادیاں آباد نظر آتی ہیں۔ یہ خراجِ عقیدت حق بیانی پر مبنی ہے اور آنے والے دنوں میں بھی اس کی معنویت برقرار رہے گی۔ واللہ اعلم۔
بابِ اول میں 12 انبیاء، بابِ دوم میں 11 صحابہ، بابِ سوم میں 11 اولیاء، بابِ چہارم میں 9 علمائے دین و مجتہدین اور بابِ پنجم میں 8 دیگر مذاہب کی مذہبی شخصیات، یعنی مجموعی طور پر 51 شخصیات کا تذکرہ علامہ اقبال کی شاعری میں عرق ریزی کے ساتھ تلاش کیا گیا ہے۔ ہر باب سے ایک شخصیت کا مختصر احاطہ یہاں میرا مقصود ہے تاکہ اس کتاب کی تیاری کے پس منظر میں شامل محنت کا اندازہ ہوسکے اور اقبال کی شاعری کے نئے جہانوں کی سیر بھی نصیب ہو۔
کلامِ اقبال میں حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ ’’آدم‘‘ کا استعمال کل 37 مرتبہ ہوا ہے؛ بانگِ درا میں 9 بار، بالِ جبریل میں 14 بار، ضربِ کلیم میں 9 بار اور ارمغانِ حجاز میں 5 بار۔ تحقیق کی سچائی اور عظمت یہ ہے کہ انہوں نے ہر شعر کو نہ صرف نقل کیا ہے بلکہ اس کے پس منظر، تشریح اور متعلقہ واقعات کو بھی تفصیل سے پیش کرکے تحقیق کا حق ادا کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
یہ شعر ’’تصویرِ درد‘‘ (بانگِ درا) سے ماخوذ ہے۔ اس شعر میں ڈاکٹر اقبال نے فرقہ بندی کو ایک درخت اور تعصب کو اس کا پھل قرار دیا ہے۔ یہی تعصب انسان کو اس کے اعلیٰ مقام سے محروم کردیتا ہے۔ یہاں حضرت آدم کے ساتھ پوری انسانیت کی طرف بھی اشارہ موجود ہے۔
اس باب میں فاضل مصنف نے تمام 37 اشعار کا مطالعہ پیش کیا ہے۔
بابِ دوم میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ نظم ’’بلادِ اسلامیہ‘‘ (بانگِ درا) کے حوالے سے یوں پیش کیا گیا ہے:
نکہتِ گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا
تربتِ ایوب انصاری سے آتی ہے صدا
اس ضمن میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے متعلق تمام اہم واقعات کو بھی پیش کیا گیا ہے۔
بابِ سوم میں حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق تین نظموں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں ان کا ذکر موجود ہے۔ مثال کے طور پر نظم ’’بلال‘‘ (بانگِ درا):
تھے نظارے کے مثلِ کلیم، سودا تھا
اویس طاقتِ دیدار کو ترستا تھا
اسی طرح بابِ چہارم میں مولانا حسین احمد مدنی کے تعلق سے علامہ کا یہ شعر نقل کیا گیا ہے:
قلندر جز دو حرفِ لا الٰہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہِ شہر قاروں ہے لغاتِ حجازی کا
بابِ پنجم میں سری رام کے حوالے سے اقبال کی شاعری کا ذکر ملتا ہے۔ اقبال نے رام کی شجاعت اور پاکیزگی سے متاثر ہوکر اپنے پہلے شعری مجموعے میں ’’رام‘‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی، جس کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
تلوار کا دھنی تھا، شجاعت میں فرد تھا
پاکیزگی میں، جوشِ محبت میں فرد تھا
مضمون کی طوالت کے پیشِ نظر یہاں نہایت مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف کی بڑی خوبی یہ ہے کہ جن جن مذہبی شخصیات کا انہوں نے علامہ اقبال کی شاعری میں تذکرہ کیا ہے، ان سے متعلق تمام اشعار نقل کیے ہیں اور ان اشعار کی تشریح کے ساتھ ان کے پس منظر کا بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض شرح تک محدود نہیں رہتی بلکہ معلومات کا ایک وقیع خزینہ بن جاتی ہے۔ تمام معلومات دلائل کے ساتھ پیش کی گئی ہیں۔ زبان تحقیقی ہے، بیان سہل اور رواں ہے۔ مجھے ان کے اسلوبِ نگارش سے زیادہ ان کی معلوماتی وسعت متاثر کرتی ہے، جو اس کتاب کو ایک اہم ادبی و مذہبی دستاویز کا درجہ عطا کرتی ہے۔ یہ کتاب ہر اردو داں کے مطالعے میں آنے کے لائق ہے۔ یقینِ واثق ہے کہ ہر قاری اس کے مطالعے سے حظ اٹھائے گا، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی فاضل مصنف کا مقصد بھی ہے اور منصب بھی۔
182 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 200 روپے مناسب ہے۔ یہ کتاب ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، کرناٹک کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ اس نمبر 9980476200 پر رابطہ کرکے اس کتاب کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور مطالعے کے بعد اپنی لائبریری کی زینت بنایا جاسکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔