فارغین مدارس کے لیے مولانا ازاداردو یونیورسٹی میں بہترین مواقع - دینی مدارس کے طلبہ کے لیے" اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں" پروگرام کا آغاز۔
حیدرآباد، 18 جولائی (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، ملک بھر کے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے عصری اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ایک اہم مرکز ہے۔ جہاں پر انتہائی کم فیس کے ساتھ روایتی اور پروفیشنل کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ آج ”اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں“ پروگرام کے افتتاحی اجلاس کو مخاطب کر رہے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام کا آغاز گذشتہ برس ہی کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد اردو یونیورسٹی میں دستیاب تعلیمی مواقع کے متعلق طلبہ کی اسکولی سطح ہی پر آگہی میں اضافہ کرنا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے اس بات کی وضاحت کی کہ کسی بھی یونیورسٹی کی ترقی صد فیصدی غیر مقامی طلبہ کے ساتھ ہرگز ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات پر تاسف کا اظہارکیا کہ مانو گذشتہ 28 برسوں سے شہر حیدرآباد میں قائم ہے لیکن یونیورسٹی کا انتظامیہ مقامی طلبہ کو داخلوں کے لیے راغب کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کے لیے انہوں نے جاریہ تعلیمی سال سے 10 فیصدی زائد نشستیں مقامی طلبہ کے لیے مختص کی ہیں اور شہر حیدرآباد کے مختلف مقامات سے آنے والے طلبہ کی سہولت کے لیے اردو یونیورسٹی طلبہ کو بس پاسس کے لیے سبسیڈی بھی دے گی۔ آج کے "اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں" پروگرام کی افتتاحی تقریب میں تین دینی مدارس دارالعلوم الرحمانیہ۔ رنگیلی کھڑکی یا قوت پورہ حیدرآباد، المعہد العالی والعربی اور جامعہ عائشہ نسواں داراب جنگ کالونی سعید آباد حیدرآباد کے طلباءو طالبات کوخاص طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ پروفیسر عین الحسن کے مطابق مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی آج ملک بھر میں اردو زبان میں روایتی اور عصری تعلیم فراہم کرنے والی ایک اہم جامعہ ہے۔ جس میں تقریباً 50 ہزار طلباءو طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ریگولر کورسز میں یونیورسٹی 132 پروگرام چلا رہی ہے۔ جبکہ نظامت فاصلاتی تعلیم کے تحت 20 مختلف پروگراموں میں داخلے جاری ہیں۔ ان کے مطابق یونیورسٹی میں اقامت خانوں کی سہولت محدود ہے۔ جس کی بڑے پیمانے پر اب مزید توسیع بھی ممکن نہیں۔ ایسے میں زیادہ سے زیادہ ڈے اسکالرس کو داخلہ دے کر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اپنا حلقہ وسیع کرسکتی ہے۔
اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام کی افتتاحی تقریب کے آغاز میں اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ، صدر مانو المنائی اسوسی ایشن نے خیر مقدمی کلمات کہے اور وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن کے ان اقدامات کی ستائش کی جس کے ذریعہ سے وائس چانسلر زیادہ سے زیادہ مقامی طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق پروفیسر سید عین الحسن مانو کے پہلے ایسے وائس چانسلر ہیں جنہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ شہر حیدرآباد میں قائم اردو یونیورسٹی میں شہر حیدرآباد کے طلبہ کو ان کا مستحقہ مقام دیا جانا چاہیے۔
پروفیسر سید نجم الحسن، کوآرڈینیٹر المنائی افیئرس نے بھی افتتاحی تقریب کو مخاطب کیااور کہا کہ اردو یونیورسٹی اردو والوں کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی میں روایتی کورسز کے ساتھ ساتھ سائنس اور دیگر مضامین میں بھی پروفیشنل تعلیم دی جاتی ہے اور یونیورسٹی کا فیس کا ڈھانچہ انتہائی کم ہے۔ ڈاکٹر محمد مصطفےٰ علی سروری، اسوسیئٹ پروفیسر ایم سی جے نے بھی افتتاحی اجلاس کو مخاطب کیا۔ اور کہا کہ اردو یونیورسٹی کا دورہ کریں پروگرام کے تحت اس برس اسکولی طلبہ کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے طلبہ کو یونیورسٹی کا دورہ کروایا جائے گا۔ تاکہ انہیں اسکول اور مدرسہ کے سطح پر ہی اردو یونیورسٹی میں دستیاب تعلیمی مواقع کے متعلق آگہی ہوسکے۔ انہوں نے دینی مدارس کے طلبہ کو مشورہ دیا کہ جو طلبہ بی اے یا ایم اے کے علاوہ سائنس یا لاءوغیرہ کے کورسز کرناچاہتے ہیں وہ ریاستی حکومت اوپن اسکولنگ یعنی TOSS سے اپنی دسویں اور بارہویں کے امتحانات کامیاب کریں۔ اس کے بعد وہ مانو کے کسی بھی تکنیکی یا پیشہ ورانہ کورس میں داخلہ لینے کے اہل ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدوس، اسسٹنٹ رجسٹرار اور ناصر حسین شعیب، جنرل سکریٹری المنائی اسوسی ایشن بھی شہہ نشین پر موجود تھے۔
Comments
Post a Comment