چائے ۔از قلم: رہبر تماپوری۔


چائے ۔
از قلم: رہبر تماپوری۔
 (دکنی ظرافت نگاری)



آتے ہی تینوں کی آواز گونجی—

"ایک چائے... تین کٹ!"

جلیل چچا بولے،
"ارے بھیا! مہنگائی نے کمر توڑ دی میاں،
اور تم لوگاں کا روز یہی نعرہ!"

تینوں ہنسے،
"چچا! غم نکو کرو،
چائے پلاؤ،
فکر کو بھاپ بن کے اُڑ جانے دو۔"

چائے ختم ہوئی،
حساب آیا۔

جیبیں ٹٹولیں؛
پرانا ٹکٹ ملا،
پیسہ نہ ملا۔

آخر ایک نے اماں کو فون کیا،
"اماں! فون پے پر بیس روپے بھیج دو نا۔"

"ٹنگ!"

رقم آ گئی۔

جلیل چچا مسکرا کر بولے،
"اللہ کرے جلدی روزگار ملے،
اور آ کے کہو—
'تین چائے... تین فل!'"

جاتے جاتے پھر وہی صدا گونجی—

"کل پھر آتے میاں...
ایک چائے... تین کٹ!"

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔