کابینہ میں مزید مسلم نمائندگی کا مطالبہ اور مسلم مطالبات پر کانگریس قیادت سے بیدر کے وفد کی اہم ملاقات۔


بیدر4. جولائی(نامہ نگار) کرناٹک میں کانگریس حکومت کے اقتدار کے تین سال مکمل ہونے اور ریاستی قیادت میں تبدیلی کے بعد، ضلع بیدر سے  ایک نمائندہ وفد نے صدر جمعیت العلماء ضلع بیدر  مولانا محمد تصدق ندوی کی قیادت میں بنگلورو پہنچ کر کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔  وفد میں حافظ محمد عبدالحکیم قاسمی رکن عیدگاہ کمیٹی، مولانا محمد مونس کرمانی، حافظ محمد عمر قریشی ، محمد فیاض احمد (ایچ کے جی این خازن عیدگاہ کمیٹی، مولانا محمد عرفان ، محمد سراج احمد سوداگر انجینئر،  محمد فہیم الدین سیریکار (سابق چیئرمین، بیدر ضلع وقف ایڈوائزری کمیٹی)، سید منصور احمد قادری (رکن، کرناٹک اسٹیٹ حج کمیٹی)، عبد السمیع سیکریٹری ضلع کانگریس کمیٹی، سید منظور احمد سیدمیٹل ، ڈاکٹر سراج الدین، محمد مختار سیریکار، محمد الیاس، محمد نثار احمد، سید منصور، سید اقبال اور سید ارشد الزماں سمیت علماء کرام، دانشوران، دینی، ملی و سماجی شخصیات اور مختلف فلاحی اداروں کے ذمہ داران شامل تھے۔ وفد نے آل انڈیا کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے،صدر پردیش کانگریس کمیٹی  بی.کے.ہری پرشاد،کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی. کے. شیو کمار، سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا اور بیدر ضلع کےنو منتخب وزیر پنچایت ایشور کھنڈرے سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔وفد نے کانگریس قیادت کو یاد دلایا کہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار تک پہنچانے میں مسلمانوں نے متحد ہو کر فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا اور انتخابی منشور میں مسلمانوں سے متعدد اہم وعدے کیے گئے تھے، تاہم تین سال گزرنے کے بعد صرف حجاب سے متعلق پابندی میں نرمی کی گئی ہے ماباقی وعدے بھی پورے کئے جائیں۔ملاقات کے دوران وفد نے زور دے کر مطالبہ کیا کہ موجودہ حکومت کی باقی ماندہ مدت میں مسلمانوں کو انصاف پر مبنی سیاسی نمائندگی دی جائے۔ وزیر اعلیٰ ڈی. کے. شیوکمار نے وزارت کی اپنی پہلی فہرست میں ایک مسلمان کو وزیر بنایا ہے وفد نے  دوسری فہرست میں کم از کم مزید چار مسلم وزراء کو کابینہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وفد نے خصوصی طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ کلیان کرناٹک خطے میں اقلیتوں نے بڑی تعداد میں کانگریس کے حق میں ووٹ دے کر پانچ ارکانِ پارلیمنٹ کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ کلیان کرناٹک میں جو طبقہ کانگریس کو صرف دس فیصد ووٹ دیا ہے اس کو تین  وزارتیں دی گئی ہیں اور جو طبقہ کانگریس کو %80  فیصد ووٹ دیا ہے اس کو  وزارت میں کوئی نمائندگی نہیں دی گئی یہ سرا سر نا انصافی ہے اس فیصلے کو لیکر اقلیتوں میں سخت ناراضگی بے چینی پائی جارہی ہے جبکہ کانگریس ہمیشہ ہر ذات اور سماج کے ساتھ برابری اور انصاف کا دعوٰی کرتی ہے اس لیے اس خطے سے ایک سینئر، باصلاحیت اور تجربہ کار مسلم رکنِ اسمبلی کو وزیر بنایا جانا ناگزیر ہے۔وفد نے کہا کہ حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے جائز مطالبات کو محض انتخابی وعدوں تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرے، کیونکہ حکومت کی موجودہ میعاد میں اب صرف دو سال کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے وفد کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور نکات کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے جلد مثبت اور عملی فیصلہ کیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کے دیرینہ مطالبات کی تکمیل کی سمت مؤثر پیش رفت ممکن ہو سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔