غزل - ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
غزل -
ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
دوستو! دوستی کی بات کریں
اب نہیں دشمنی کی بات کریں
یوں نہ کم ہمتی کی بات کریں
ایسے مت بے بسی کی بات کریں
کب تلک منہ پھلائے بیٹھیں گے
مان جائیں ہنسی کی بات کرو
ہوگا کل کیا خدا ہی جانتا ہے
ہم تو آج اور ابھی کی بات کریں
خار کا تذکرہ نہ چھیڑیں اب
مسکراتی کلی کی بات کریں
بھول کر یاد اب تو ماضی کی
اک نئی زندگی کی بات کریں
دل سے کینہ نکال کر مہروؔ
پیار اور دوشتی کی بات کریں
مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
Comments
Post a Comment