غزل - ازقلم : مجیب احمد مجیبؔ، بیجاپور۔
غزل -
ازقلم : مجیب احمد مجیبؔ، بیجاپور۔
نیٹ کے امتحان میں گڑبڑ
یعنی تیر و کمان میں گڑبڑ
کوئی گڑبڑ نہیں کتابوں میں
ہے مگر ترجمان میں گڑبڑ
لوگ کہتے ہیں آپ نے ہی کیا
رام جی کے مکان میں گڑبڑ
اب وہی چُن کے آنے والے ہیں
جو کرینگے جہان میں گڑبڑ
چائے والے ہی اب بتائیں گے
کیوں ہے ہندوستان میں گڑبڑ
ہم خرید و فروخت کیسے کریں
ہو اگر ہر دکان میں گڑبڑ
آ گئی دو ہزار چودہ میں
گڑ بڑی کے مکان میں گڑبڑ
آپ سنتے نہیں غریبوں کی
آپ کے بھی ہے کان میں گڑبڑ
آشیاں چھن گیا غریبوں کا
اور ہے آسمان میں گڑبڑ
ہو رہی ہے مجیبؔ کیوں اتنی
ہر کسی کے گمان میں گڑبڑ
مجیب احمد مجیبؔ، بیجاپور
Comments
Post a Comment