مہاراشٹر میں یکساں سول قانون کی دستک - ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔


مہاراشٹر میں یکساں سول قانون کی دستک - 
ازقلم : ابرارالحق مظہر حسناتی۔ 

تاریخ کے بعض فیصلے خاموش سطروں سے لکھے جاتے ہیں، مگر ان کی گونج صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔ قانون بظاہر خشک الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ معاشرے کے اجتماعی شعور اور آئندہ نسلوں کے طرزِ زندگی کا معمار ہوتا ہے۔ مہاراشٹر میں یکساں سول قانون کی حالیہ دستک محض ایک سرکاری اقدام نہیں، بلکہ ایک ایسا سنگین سوال ہے جس کے جواب پر ریاست کا مستقبل اور اس کا سماجی توازن منحصر ہے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کا تنوع ہے، جہاں صدیوں سے مختلف تہذیبیں، زبانیں اور عائلی قوانین ایک ساتھ پھل پھول رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی یکساں قانون کا نفاذ صرف انتظامی ضرورت نہیں، بلکہ ایک گہرا تہذیبی اور نفسیاتی معاملہ بن جاتا ہے۔
اس قانون کے حامیوں کا ماننا ہے کہ عائلی قوانین میں یکسانیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے نزدیک تمام شہریوں کے لیے شادی، طلاق، وراثت اور سرپرستی جیسے معاملات میں ایک ہی ضابطہ برابری کے تصور کو مضبوط کرے گا۔ اس سے مختلف شخصی قوانین کی موجودگی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں ختم ہوں گی، جس سے طویل عدالتی مقدمات کا بوجھ کم ہوگا اور عائلی تنازعات کے حل کے لیے ایک ایسا نظام قائم ہوگا جو شہریوں کو یکسانیت فراہم کرے گا۔ یہی وہ مضبوط ترین پہلو ہے جسے اس قانون کے حق میں سب سے بڑی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
دوسری طرف، اس قانون کے معترضین اور سماجی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کا نفاذ ہندوستان کے کثیر الثقافتی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ ہندوستان صرف اکثریت اور اقلیت کی تقسیم تک محدود نہیں، بلکہ یہاں درجنوں قبائلی برادریاں اور روایتی نظام بھی موجود ہیں جن کے اپنے خاندانی ضابطے ہیں۔ یکساں قانون ان کی تاریخی شناخت کو محدود کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر قانون سازی میں عجلت دکھائی گئی تو مختلف طبقات میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے، جو سماجی توازن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ مزید برآں، قانون کو کاغذ پر اتارنے سے زیادہ مشکل اس کا زمینی نفاذ ہے۔ عدالتی ڈھانچے کی نئے سرے سے تربیت اور عوام میں شعور بیدار کیے بغیر یہ تبدیلی نئی الجھنیں پیدا کر سکتی ہے۔
مہاراشٹر جیسی بڑی اور صنعتی ریاست میں، جہاں شہری جدیدیت اور دیہی روایت کا امتزاج ہے، یہ قانون ایک اہم تجربہ گاہ ثابت ہوگا۔ اس حساس مرحلے پر حکومت کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اکثریت کے بل پر فیصلے کرنے کے بجائے تمام مذہبی، سماجی، قبائلی اور قانونی ماہرین کو ایک میز پر بٹھایا جانا چاہیے۔ قانون کا مسودہ عوام کے سامنے رکھ کر اس پر تعمیری بحث کی گنجائش پیدا کی جائے، تاکہ کوئی بھی طبقہ خود کو الگ تھلگ محسوس نہ کرے۔ جلد بازی کے بجائے مرحلہ وار نفاذ کا طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ نظام پر اچانک معاشی اور انتظامی بوجھ نہ پڑے۔
اس حساس قانون کے تناظر میں بنیادی طور پر دو باتوں کی یقین دہانی انتہائی ناگزیر ہے، جن پر پورے معاشرے کا اطمینان منحصر ہے۔ پہلی بات یہ کہ حکومت اس قانون کو کسی بھی اقلیتی طبقے، بالخصوص مسلم سماج کے عائلی اور اسلامی تشخص پر شب خون مارنے کا ذریعہ نہ بنائے، کیونکہ اقلیتوں کے حقوق کا احترام ہی ایک سچی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس قانون کو اقلیتوں کو ذہنی طور پر مغلوب یا غلام بنانے کے حربے کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے خالصتاً انصاف کی فراہمی تک محدود رکھا جائے، جہاں کسی کے مذہبی شعائر اور اسلامی روایات پامال نہ ہوں۔
قانون کی اصل کامیابی اس کی سختی میں نہیں، بلکہ اس کے قبولِ عام میں ہوتی ہے اور یہ قبولیت طاقت سے نہیں، بلکہ اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔ مہاراشٹر میں یکساں سول قانون کی دستک کو محض موافقت یا مخالفت کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ کامیابی کا راز اس پل کی تعمیر میں ہے جو انصاف اور تنوع کے درمیان توازن قائم کرے۔ اگر قانون صرف یکسانیت لائے مگر باہمی اعتماد کو ختم کر دے، تو وہ اپنی روح کھو بیٹھے گا۔ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اختلافات کو تصادم بننے سے روکا اور قانون کو طاقت کے بجائے انصاف کا وسیلہ بنایا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔