غزل - ازقلم : سرفراز حسین فراز مرادآباد۔
غزل -
ازقلم : سرفراز حسین فراز مرادآباد۔
وہ جو نظم نصاب ہو جاتے
ہم بھی کچھ فیضیاب ہو جاتے
لطف ہی لطف ہوتا ہر جانب
ہم بھی گر کامیاب ہو جاتے
قتل کرتے نہیں اگر مجھ کو
سیکڑوں بے نقاب ہو جاتے
پیار سے وہ ہمیں بلاتے تو
ہم انھیں دستیاب ہو جاتے
ان کی نظر کرم جو ہو جاتی
ادنیٰ عالی جناب ہو جاتے
پائے نازک تمھارے چھوتے ہی
سنگ ریزے تراب ہو جاتے
اپنے رب سے دعا تو کرتے تم
ختم سارے عذاب ہو جاتے
ان کا چہرہ فراز پڑھنا تھا
یاد سارے جواب ہو جاتے
سرفراز حسین فراز مرادآباد۔
Comments
Post a Comment