خاموش رشتے -از قلم: رہبر تماپوری۔
خاموش رشتے -
از قلم: رہبر تماپوری۔
میاں، وہ دن بھی کیا دن تھے! ہماری دوستی کسی ملاقات کی محتاج نہ تھی۔ ہر خوشی میں ہم ساتھ، ہر شرارت میں ہم شریک، اور ہر بات میں اپنائیت جھلکتی تھی۔ مگر آج حال یہ ہے کہ رشتہ بس سوشل میڈیا کی تصویروں، اسٹیٹس پر ایک نظر، کبھی کبھار ایک فون کال یا عید کی رسمی مبارک باد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ دوری دل کو اکثر خاموش کر دیتی ہے۔
تم اپنی زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف ہو گئے، مگر یقین مانو، بچپن کی وہ معصوم شرارتیں، وہ بےساختہ قہقہے، وہ بےتکلف باتیں اور وہ بےلوث یاری آج بھی میرے دل کے کسی گوشے میں ویسے ہی آباد ہیں۔ وقت نے چہرے بدل دیے، راستے جدا کر دیے، اور زندگی نے سب کو اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ کر دیا، مگر یادوں کی کتاب میں تم آج بھی وہی پرانے دوست ہو، جن کے ساتھ زندگی کے سب سے خوبصورت لمحے بیتے تھے۔
شاید تم ہمیں بھول گئے ہو، شاید مصروف زندگی میں ہماری جگہ کہیں پیچھے رہ گئی ہو، مگر ہم آج بھی تمہیں بھلا نہیں سکے۔ جب کبھی تنہائی دل پر اترتی ہے تو ماضی کے دریچے خودبخود کھل جاتے ہیں، اور وہی ہنستے مسکراتے چہرے، وہی بےفکر لمحے اور وہی اپنائیت دل کو پھر سے گھیر لیتی ہے۔
میاں، یار دوست اگر ہمیں بھول بھی گئے ہوں تو کوئی شکوہ نہیں، کیونکہ سچی دوستی حساب نہیں مانگتی۔ ہم آج بھی تمہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں، اور دل کے اس گوشے میں بسائے ہوئے ہیں جہاں وقت، فاصلے اور خاموشیاں بھی پہنچ نہیں سکتیں۔
Comments
Post a Comment