شریوردھن، رائے گڑھ کے سمندر کی لہروں سے قبرستان کی آغوش تک: ہری ہریشور ساحل پر ملنے والی لاوارث لاش کو ’فلائنگ برڈز ریسکیو ٹیم‘ نے دیا معزز الوداع۔

شریوردھن، رائے گڑھ کے سمندر کی لہروں سے قبرستان کی آغوش تک: ہری ہریشور ساحل پر ملنے والی لاوارث لاش کو ’فلائنگ برڈز ریسکیو ٹیم‘ نے دیا معزز الوداع۔
شریوردھن: (اظہر ظہیر الدین کردمے) شریوردھن تعلقہ کے مشہور سیاحتی مقام ہری ہریشور میں ایم ٹی ڈی سی (MTDC) ریزورٹ کے قریب ساحلِ سمندر پر جمعہ (10 جولائی) کو ایک نامعلوم مرد کی لاش ملنے سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس کے ابتدائی اندازے کے مطابق، گزشتہ ہفتے مہاڈ اور اس کے گردونواح میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث ساوتری ندی میں آنے والے ہولناک سیلاب کی وجہ سے یہ لاش ندی کے راستے بہتے ہوئے کھلے سمندر میں آئی اور پھر لہروں کے دوش پر تیرتی ہوئی ہری ہریشور کے ساحل پر آ لگی۔ پولیس نے مقامی دیہاتیوں کی مدد سے لاش کو سمندر سے باہر نکال کر پنچنامہ کیا اور شناخت کے لیے اسے شریوردھن کاٹیج اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کر دیا۔
تفتیش کے دوران جب یہ معلوم ہوا کہ متوفی کا تعلق مسلم سماج سے ہے، تو پولیس انتظامیہ نے اسلامی شعائر کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ شریوردھن پولیس نے فوری طور پر سماجی خدمات میں پیش پیش رہنے والی معروف تنظیم ’فلائنگ برڈز ریسکیو اینڈ ایڈونچر فورس‘ کے صدر جناب شعیب حمدولے کو اس معاملے کی اطلاع دی۔
فلائنگ برڈز کی ٹیم اسپتال روانہ: 
اطلاع ملتے ہی فلائنگ برڈز ریسکیو ٹیم کے صدر شعیب حمدولے، سیکریٹری جناب ہدایت اللہ جمعدار، فعال رکن جناب جنید دوستے اور دیگر جاں باز رضاکار فوراً شریوردھن کاٹیج اسپتال پہنچے۔ جب ٹیم نے لاش کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ لاش تقریباً پانچ دن پرانی ہو چکی تھی اور پانی میں رہنے کی وجہ سے اس حد تک تعفن زدہ اور نازک ہو چکی تھی کہ اسے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن نہیں تھا۔
آصف ملاک کا مجاہدانہ کارنامہ اور شرعی طریقہ کار : 
ایسی انتہائی کٹھن صورتحال میں، جب لاش سے شدید بدبو اٹھ رہی تھی اور اسے چھونا بھی محال تھا، جناب آصف ملاک صاحب نے آگے بڑھ کر ایک مجاہدانہ کام انجام دیا۔ انہوں نے اپنی جان اور صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، اس سخت بدبو سے لبریز باڈی کو نہایت احترام کے ساتھ غسل دیا اور کفن پہنایا۔
اسپتال کے ڈاکٹروں کی طبی اجازت اور مقامی علمائے دین کے شرعی مشورے کے مطابق، اسپتال ہی میں تمام ضروری آخری رسومات کی ادائیگی عمل میں لائی گئی۔
پولیس اور مقامی لوگوں کی موجودگی میں تدفین : 
لاش کو کفن میں ملبوس کرنے کے بعد، فلائنگ برڈز ریسکیو ٹیم کے رضاکاروں نے قبر کی کھدائی سے لے کر تدفین تک کے تمام مراحل خود سنبھالے۔ پولیس اہلکاروں کی باقاعدہ موجودگی، تنظیم کے اراکین اور مقامی گاؤں والوں کی شرکت کے ساتھ میت کو ’ایار محلہ قبرستان‘ لے جایا گیا، جہاں نم آنکھوں کے ساتھ تدفین کے تمام ارکان مکمل کر لیے گئے۔
خلقِ خدا کی خدمت اور انسانیت کے اس اعلیٰ ترین درجے کے کام کو جس ہمت اور خلوص کے ساتھ فلائنگ برڈز ریسکیو ٹیم اور آصف ملاک نے انجام دیا ہے، اس کی شریوردھن اور پورے رائے گڑھ ضلع میں ہر طرف جم کر ستائش کی جا رہی ہے۔ پولیس انتظامیہ اور مقامی عوام نے تنظیم کے اس جذبے کو سلام پیش کیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔