تم دل کے قریب ہو - ازقلم : مسرورتمنا۔
تم دل کے قریب ہو -
ازقلم : مسرورتمنا۔
لڑکیاں ایک بار اس کی طرف پلٹ کر ضرور دیکھتی تھیں
اعجاز اپنے نام کیطرح جاذب
ہینڈسم اور خوب صورت دل والا نوجوان تھا......
کالج میں یہ اسکا اخری سال تھا......اور پھر اسں نے
. اسنے اپنے بڑے بھای
کےساتھ بزنس شروع کیا
اور خوب ترقی
ہوی آج وہ گارڈین میں اکیلا
بیٹھے تھے.... اچانک اسکے کانوں. .....
میں آواز آی کسی نے اسے
پکارا ہو جیسے ..
اعجاز بھای..
اس نے گھوم کر دیکھا
کوی بھی نہیں تھا
اسی وقت بہت ساری لڑکیاں
ادھر سے گذری.. کالج کے
بعد میں تو خوب انجواے کرونگی ایک نے کہا..
اور تم صائمہ..
میرا نے کہا میری شادی ہو جایگی. اور وہ سب اپنے بارے بات کرتی ادھر سے گذرتی. ....
ایک لڑکی بار بار انہیں پلٹ کر دیکھتی تھی
پھر سب نے انہیں گھوم کر
دیکھا واو سو نایس کیا ہینڈسم ایک شرارتی
لڑکی مسکرا کر بولی
اوے ہینڈسم یہاں اکیلے
آج کالج کا اخری سال ہے
چلو کیفے میں کافی ہوجایے
وہ مسکرایا. چلیں پھر
آپ اتنے ہینڈسم ہیں آپ کی کوی گرل فرینڈ نہیں کیا اور
اب تو کالج بھی ختم .. صوفیہ مسکرای.. ....
آپ بنیگی انکی مسحور کن آواز پر لڑکیاں چونکی واو
آپکی آواز بھی آپکی طرح
ہے اپنی طرف مایل کرنے والی اور ان میں ثوبیہ بھی تھی وہ ان سے دوستی
کرچکی تھی .. .
میں آپکے گھر چلوں. ... وہ
مسکرای..
ارے نہیں دوسری نے کہا
آماں ڈنڈا لیکر مارینگی..
میری آمی بہت آچھی ہیں
آپ سب چلیں میرے ساتھ
اوہو. ... نہیں پھر کبھی
اور جب وہ گھر پہونچے
تو آماں کچن میں بڑ بڑا
رہی تھیں... چھوٹی بہن
سارہ میگزین پڑھ رہی تھی
ہاتھ بٹادیا کر سارہ.
اب تو کام بھی کرنا مشکل ہوگیا اور تیرے بڑے بھای کے لیے لڑکی دیکھنے جانا ہے
اوہ آمی یہ کوی مشکل کام ہے کیا ثوبیہ انکے نظروں
کے سامنے گھوم گئ
ایک سے ایک لڑکی ہے میری نگاہوں میں
اے لڑکے مجھے بہو چاھیے
تیری بھابی اس گھرکی بہو
آج درگا پور جانا ہے
آصف بھای کے ساتھ دیکھتا
نہیں سارہ بس آرام کرتی ہیے اسے.بھی سسرال بھگا نہ
ہے پتہ چلے گا بی بی کو
جب سارے کام کرنے پڑینگے
.........................
اور وہ لڑکی امی کوپسند آگئ. انہوں نے اعجاز کی
طرف دیکھا سارہ نے منھ بنایا.. اور گھر آگیں
...........................
امی لزکی تھی وہ اتنی
چھوٹی. اور بار بار دانت
نکال کر مجھے ہی دیکھے
جارہی تھی سارہ نے چڑ.کر کہا.
اور بھیا باپ
رے اتنے گرم دماغ بلکل نہیں
تو کر لے.اعجاز ..امی
پریشان کررہی تھیں
اور وہ گھبرا کر اٹھے مجھے اپنے پاٹنر کے پاس جانا ہے
میٹنگ ہے ھماری. .
.............................
پھر کافی دن گذر گۓ اور وہ مصروف تھے اپنے بڑے بھای کے ساتھ. بھیا کارشتہ
اب مل بھی نہی رہا تھا
..................
ایک دن اچانک وہ اپنے چھوٹے بھای ایاز کے ساتھ
لڑکی دیکھنے جارہے تھے
پڑوس کے رحیم چاچا کی رشتہ دار تھےوہ لوگ
اور انہوں نے دیکھا وہ لوگ کافی بڑے لوگ تھے..
رمضان کا مہینہ تھا
افطار کے بعد لڑکی آی
دبلی پتلی نازک سی
انہوں نےلڑکی کی طرف دیکھا انکے کان میں شرگوسی ہوی
اعجاز بھای..
وہ چوںکے .. ... لڑکی بہت
پیاری تھی.. ایاز کی طرف
دیکھا. .. اس نے ہاں میں سر ہلایا.. کتنا پڑھی ہیں آپ
انہوں نے پہلا سوال کیا
لڑکی نے ان کی طرف دیکھا
میں نویں کلاس میں ہوں
اردو میڈیم....
اسکی آواز کی مٹھاس اسکے
چہرے کی معصومیت
وہ دونوں دل میں بساے
واپس آگیے
بڑے بھیا بولے چھوٹی لڑکی
اردو میڈیم نویں کلاس میری نظر میں جاہل ہے .. ...
ارے وہ ابھی پڑھ رہی
اور آپ اپنے بارے سوچیں
اتناغصہ سر پر بال ہیں
جاتی بہاروں کی طرح
کتنے رشتوں نے ناپسند کیا
ایاز کی بات پر وہ .. گھور گھور کر اسے دیکھتے رہے
وہ تو.شکر تھا سامنے امی تھیں.. بچ گیا بیچارہ
. ...............................
اور پھر چاچا رحیم نے لڑکی
والوں کو پتہ نہیں کیسے
راضی کیا
وہ منگنی کا اسے. تحفہ دیتے ہوے ....
مسکرایے انہیں لگا یہ اسی کی ...
آواز تھی جو ہر جگہ سنای دیتی تھی تبھی وہ چونکے
لڑکی کہ رہی تھی
شکریہ. ..... اعجاز بھای
اور انکی مسکراھٹ اور بھی
گہری ہوگی
یہ کہانی اعجاز بھای کے
نام جو اب نہیں رہے
26 7 2026....
کی رات کولکتہ کے اسپتال میں اوپین ھارٹ
سرجری کے بعد کڈنی فیل
ہونے سے انکا انتقال ہوگیا
قارین..... سے درخواست ہے
ایصال ثواب کی نیت
سے مغفرت کی دعا کریں
اللہ انہیں جنت الفردوس
میں جگہ عطا کرے
امین ثمہ امین....
شکریہ زہے نصیب مسرورتمنا
Comments
Post a Comment